مینگورہ ، سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کے نواحی علاقہ مرغزار ٹاون بنڑ کے رہائشی پرویز نے کہا ہے کہ میں گذشتہ پانچ ، چھ سالوں سے کینسر جیسے مضر مرض میں مبتلاء ہوں ، میرے غریب کے ساتھ جو جمع پنجی تھی وہ سب میں اس مضر مرض پر خرچ کرچکا ہوں ، اب مزید علاج اور اپنے چھوٹے بچوں کے کفالت کے لئے ایک پیسہ بھی نہیں بچا اور اب دربدر کے ٹوکریں کھا رہاہوں ، میرے پانچ اور چھ سالہ دو بیٹیاں اور دو سالہ ایک بیٹا ہے ، انہوں نے کہا کہ ایک مہینے کے دوائی سرکاری طور پر دیئے گئے تھے ،اس کی مالیت ایک لاکھ روپے کے قریب ہے ، یہ دوائیاں صرف ایک مہینے کیلئے تھے ، جو ختم ہوچکے ہیں ، میرے ساتھ اب مزید علاج کیلئے کوئی سہارا نہیں جبکہ یہ مضر مرض ہمارے پہنچ سے باہر ہے ، میرے مخیر حضرات سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ اس مضر مرض کو چھوڑ کر میرے بچوں اور بیوی کیلئے روزی کا بندوبست کریں ، کیونکہ میں ہی انکا ایک ہی سہارا تھا ، جو اب کسی کام کا نہیں رہا ، کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ زہر کھا کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اپنے اپ کو ختم کردو کیونکہ میں اپنے اپکو اس دھرتی پر بوجھ سمجھتا ہوں تاکہ میرے مرجانے سے دھرتی پر بوجھ ہلکا ہوجائیگا ، مگر اپنے چھوٹے چھوٹے نھنے منھے بچوں کو دیکھ کر ارادہ ترک کر دیتا ہوں اور یہ سوچتا ہوں کہ میرے چلے کے بعد ان بے چاروں کا کیا حال ہوگا ، انہوں نے کہا کہ مجبوری اور فاقوں نے مرض کی تکلیف کو بھلا دیا ہے ، میرے تمام افراد سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ میرے اس مصیبت کے گھڑی میں جس طرح ممکن ہو مدد کریں ، میں تو صرف اور صرف دعا کرسکتا ہوں ،میرے فون نمبر 03348448647 ۔
674 total views, no views today


