آج پندرہواں دن تھا اور شہر کے مختلف کمپینیوں کے چکر لگانے کے بعد بھی اسے ملازمت نہ ملی. آج اس کا پندرہواں دن تھا، روز وہ صبح سویرے گھر سے ملازمت ڈھونڈنے نکل پڑتا، گھر سے نکلتے وقت اس کی ماں ڈھیر ساری دعاؤوں کے ساتھ رخصت کر دیتی. آج کل شھر کے حالات بھی بہت خراب ہیں جس کی وجہ سے اس کی ماں بہت فکرمند تھی. اس کا نام رفیق تھا، اور عمر 18 سال تھی. جب وہ سات سال کاتھا تو ان دنوں ملک میں ہونے والی دہشت گردی میں اس کا باپ ایک بم دھماکے میں بےگناہ مارا گیا تھا. اس سے چھوٹے دو بھائی اور بھی تھے، جو قریب کے ایک گورنمنٹ اسکول میں پڑھ رہے ہیں. جب سے ان کے والد اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے، تب سے انکی بیمار ماں تن تنہا محلے کے ایک دو گھروں میں نوکرانی کے طور پر محنت مزدوری کرکے گھر کا خرچہ، بچوں کی تعلیم کا خرچہ برداشت کرتی آرہی تھی. اب جب رفیق نے بھی سرکاری اسکول سے میٹرک پاس کر لیا تو اسکی ماں نے اسے مزید تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیا، لیکن رفیق اب بچہ نہیں رہا تھا، وہ اپنی بیمار ماں، چھوٹے بھائیوں اور گھر کی حالت سے بخوبی واقف تھا. اسلئے اس نے ماں سے کہا کہ اب تمہارے آرام کے دن ہیں، وہ اب مزید تعلیم تب ہی حاصل کریگا جب اسے کوئی اچھی ملازمت مل جائے گی. تو پھر وہ اپنی بیمار ماں کا علاج، چھوٹے بھائیوں کے اسکول کا خرچہ اور گھریلو اخراجات بھی مکمل کر پائے گا اور ساتھ ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھ لےگا. اس کی یہ باتیں سن کر ماں بیچاری کو اپنے بیٹے پر بہت ترس آیا. اب اس کا بیٹا سب کچھ اچھے سے سمجھنے لگا تھا. اٹھارہ سال تو اس کے مکمل ہو گئے تھے، بڑی مشکل سے بالاخر اس نے نادرا آفس سے اپنا شناختی کارڈ بھی بنوالیا. اب اس نے کسی اچھی کمپنی میں جاب ڈھونڈنے کا فیصلہ کیا. لیکن مسلسل پندرہ دنوں کے بعد بھی کوئی کمپنی اسے ملازمت دینے پر تیار نہ ہوئی. اتنے بڑے شہر میں ہزاروں فیکٹریاں اور اسے جاب کا نہ ملنا. حیرت کی بات تھی. لیکن اس بیچارے کو پہلے کیا پتا تھا کہ اب ہر طرف سفارش، رشوت اور لوٹ مار کا دور ہے. وہ جس کمپنی میں بھی جاتا، اپنی C.V جمع کرنے دیتا تو آفس والے اس سے پوچھتے کہ بھئی تم کس کی سفارش سے آئے ہو؟ بیچارہ رفیق تو تن تنہا زندگی گزار کے بڑا ہواتھا، اس کے پاس بھلا کونسے افسر وغیرہ کی سفارش ہوتی! وہ چپ چاپ انکو دیکھتا رہتا. پھر مجبورا اسے واپس بھیج دیا جاتا. مسلسل پنرہ دن ملازمت نہ ملنے کے بعد آج وہ خود کو بہت بدنصیب سمجھ رہاتھا. آچ اسکی آنکھوں سے جگمگاتے ہوئے آنسو ٹپک رہے تھے. منہگائی کی وجہ سے آج کل اس ملک میں ہر طرف لوٹ مار، قتل و غارت گری، رشوت خوری جیسے حرام خوری کا بازار گرم ہے. آج اس بات کا علم رفیق کو ہوگیا تھا. کیا کیا خواب دیکھے تھے اس نے، وہ کمپنی میں ملازمت کریگا. سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ اب وہ کیا کرے؟ دنیا سے بےخبر انجان کسی راستے پر چلتا جارہاتھا. سنسان گلی میں ایک طرف دو تیں موٹرسائیکلیں کھڑی تھی، اس کے پاس ہی چند آوراہ قسم کے لڑکے بیٹھے گپیں لگارہے تھے. “اوئے چھوٹے میاں، ادھر آجا.” اچانک ان میں سے ایک لڑکے نے رفیق کو آواز دی. رفیق سوچوں میں گم تھا، فورا پیچھے ان لڑکوں کیطرف دیکھا. ان لڑکوں نے اسے اپنی طرف آنے کا کہا. رفیق ان کی طرف چل دیا. رفیق نے ان لڑکوں کے قریب جا کے پوچھا: “کہو،کیابات ہے؟ آپ نے مجھے کیوں اپنی طرف بلایا؟” ان میں سے ایک لمبے بالوں والے لڑکے نے ہنستے ھوئے جواب دیا کہ: “دیکھو دوست، میرا نام کاشف ہے اور میں ان لڑکوں کا باس ہوں، سب مجھے پیار سے کاشی نام سے جانتے ہیں اوذ…” ابھی اس لڑکے نے اپنی بات پوری بھی نہیں کی تھی کہ رفیق نے انکی بات درمیان میں کاٹ کر پوچھا: “آپ کیا کہنا چاہتے ہیں، وہ بتائیں؟” اس کاشی نام کے لڑکے نے کہا: “دیکھو دوست، تم ہمیں شکل سے ہی بہت پریشان لگ رہے ہو، ہم تمہاری کچھ مدد کرسکیں، یہ سوچ کے تمہیں آواز دیکر اپنی طرف بلایا. کیوں دوستوں!.” یہ کہہ کر اس کاشی نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا، سب یک آواز ہنستے ہوئے بولے: “یس باس.” ان کی باتیں سن کر رفیق سوچ میں پڑگیا، پتہ نہیں کون ہے یہ لوگ؟ پھر ایکدم اس نے سوچا کہ کیا پتا واقعی ان لڑکوں کی مدد سے اسے کوئی اچھی جاب مل جائے! وہ انہی سوچوں میں گم تھا کہ کاشی نے اس سے مخاطب ہوکر کہا: “دوست کیا سوچ رہے ھو؟ اپنا نام بتاؤ، اور اپنے بارے میں بھی بتاؤ.” رفیق نے ان کو اپنی دکھ بھری داستان سنادی، جب لڑکوں نے اس کے بارے میں سب کچھ جان لیا تو انکی آنکھوں میں جیسے چمک آگئی ہو، اور کاشی بولا: “اچھا تو یہ بات ہے، واقعی آج کا زمانہ بہت بدل گیا ہے دوست، لیکن تم فکر نہ کرو. ہم تمہیں ایسی جاب پہ لگادیں گے جس کے بعد تمہاری عیش و عشرت ہوگی.” رفیق بولا: کیا واقعی؟ لیکن کیسی جاب اور کہاں پر؟ میں کچھ سمجھا نہیں؟” کاشی بولا: “نہیں وہ سب تو ہم تمہیں اپنے ساتھ لے جاکر ہی وہاں پر بتا دینگے کہ کیا جاب کرنی ہے؟” رفیق حیرانی سے ان کی طرف دیکھنے لگا. سب لڑکوں نے اپنی اپنی بائیکس اسٹارٹ کی، کاشی نے رفیق کو اپنے ساتھ بائک پر بیٹھنے کو کہا. پہلے تو وہ کچھ پریشاں سا ہو گیا کہ نجانے کون ہیں یہ لڑکے اور مجھے جانتے بھی نہیں، پھر کیوں میرا اتنا ساتھ دینگے؟ کاشی نے اسے اپنے ساتھ بائک پر بیٹھنے کا اشارہ کیا، پھر رفیق کچھ سوچ کر اس کے ساتھ بائک پر بیٹھ گیا. راستے بھر وہ اسی کشمکش میں مبتلا تھا کہ کیس جاب ہوگی؟ آخر 15 منٹ کے بعد وہ لوگ سنسان گلیوں سے گزرتے ہوئے ایک ویران علاقے میں پھنچ گئے، جہاں ایک پرانے طرز کا بڑا سا کارخانہ موجود تھا، لیکن ان کے سوا وہاں پر کوئی اور دکھائی نہیں دے رہا تھا. وہ لوگ وہیں رک گئے، اور اپنی اپنی بائکس سے اتر گئے. کاشی نے اپنے ساتھیوں کو وہیں باہر رکنے کا کہا اور رفیق کو کہا کہ تم میرے ساتھ اندر فیکٹری میں چلو، میں تمہیں کام کے بارے میں بتاتا ہوں. پھر وہ دونوں فیکٹری کے اندر چلے گئے. اندر کوئی نہیں تھا، نہ ہی وہاں پر کسی قسم کا کچھ کام ہورہا تھا. لوہے کے ڈھیر سارے راڈ جگہ جگہ پر پڑے ہوئے تھے، شاید بھت عرصے سے یہ جگہ ویران پڑی تھی، رفیق کو بھت حیرت ہوئی. اس نے پوچھا: “یہ آپ مجھے کس جگہ لیکر آئے ہیں، سمجھ نہیں آرہا؟” اس کی بات سن کر کاشی نے قہقہہ لگایا اور بولا: “باؤلے، ڈرتا کیوں ہے بے. یہ اپنا ایریا ہے. تجھے کیا کام کرنا ہے سب ابھی بتادونگا، تو اوپر چل میرے ساتھ.” یہ کہہ کر کاشی رفیق کو اپنے ساتھ اوپر دوسرے منزل پر لیکر آیا اور ایک جگہ بینچ پر بیٹھنے کا کہا. رفیق اور کاشی دونوں بیٹھ گئے. اب کاشی بولنے لگا. “دیکھو دوست، آج کل کسی کو بھی آسانی سے ملازمت نہیں ملتی، بھت مشکل سے مل بھی جائے تو تنخواہیں بہت کم ہوتی ہے. اور اوپر سے بسوں میں آنے جانے کا کرایہ، یہ بھی کوئی زندگی ہے. ارے جو کام میں آج تمہیں سونپنے دے جارہاہوں، اسی کام پہ وہ تمام لڑکے آج بھی میرا شکریہ ادا کرتے ہیں جن کو میں نے تم سے پہلے کام پہ لگایاتھا. آج وہ سب اپنی خوشی سے زندگی گزار رہے ہیں.” رفیق غور سے اس کی باتیں سن رہاتھا، کاشی پھر بولا: “دیکھ تو اپنا بھائی ہے. تیری گھریلو حالات کو دیکھ کر ہی مجھے تجھ پہ ترس آگیا. اسلئے تجھے کام پہ لگارہاہوں. لیکن ایسا نہ ہوں کہ تمہیں ہم کام دیں اور پھر تم اپنی من مانیاں کرو پھرو، پھر اچھا..” رفیق انکی بات کاٹ کر بولا: “نہیں کاشی بھائی، آپکو میری طرف سے شکایت کا کوئی موقعہ نہیں ملے گا. میں دل لگا کہ کام کرونگا.” کاشی بولا: “شاباش. اب تمہیں اصل بات کہنا چاہتاہوں. تمہیں ہفتے میں ایک دن کام کرنا ہوگا، لیکن تب، جب ہم بلائیں. اور اس کے تمہیں لگ بھگ 5,000 تک کا چیک ملے گا. اب بول تیار ہے؟” رفیق حیران رہ گیا، اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ اتنی بڑی رقم وہ بھی ایک دن کے کام کرنے پر. لیکن کیا کام ہوگا؟ کاشی نے جیب سے بٹوا نکال کے ایک نقشہ نما کاغز نکالا. اس پر کسی علاقے کے نقشے بنائے گئے تھے. اور ساتھ میں کسی کے ناموں کی لسٹ لگی تھی. کاشی ان میں کچھ تلاش کرنے لگا. پھر ایکدم کہا، یہ لو. اور کاغذ رفیق کو تھما دیا. اس پہ کسی بازار کا نقشہ بنا ہوا تھا. رفیق کی سمجھ میں کچھ نہ آیا. کاشی بولا: “دیکھ، آج جمعہ کا دن ہے، اور کل نہیں پرسوں اتوار والے دن تمھیں میرے ساتھی اسی بازار میں لے جاکر چھوڑ دینگے. اور اتوار کو وہاں پر کافی گہما گہمی ہوتی ہے. ہم تمہیں آج ہی اسی بازار کی ایک مارکیٹ کی نشاندہی کرادیں گے. وہاں جاکر تم نے اپنا کام کرنا ہے.” اب رفیق کو دال میں کچھ کالا محسوس ہوا، رفیق نے ڈرتے ڈرتے پوچھا: “کیا کام؟” اس کا سوال سن کر کاشی نے جوابا کہا: “کچھ زیادہ نہیں، بس ہم تمہیں ایک موٹرسایئکل پر بھیجیں گے، تمہیں وہ موٹرسایئکل اس مارکیٹ کے پارکنگ والی جگہ میں پارک کر کے واپس آنا ہے. اور اس موٹرسائیکل میں ہم نے بم نصب کیے ہونگے.” “کک ک.. کیا، بم؟” رفیق نے خوف سے چلا کر پوچھا. کاشی ہنستے بولا: “ہاہاہا، جی ہاں. لیکن تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں، اس بم کا ریموٹ کنٹرول ہمارے پاس ہوگا. اور اسکا بٹن ہم تب ہی دبائیں گے جب تم بازار سے باہر نکلوگے. اور پھر پورا بازار خون میں ڈوباہوگا. کتنا مزہ آئے گا.” اس کی باتیں سن کر رفیق بہت خوفزدہ ھوگیا. رفیق نے غصے میں اس سے پوچھا: “آخر کیا ملے گا تمہیں یہ سب کر کے، تمہارے جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی تو یہ ملک اندھیرے کیطرف بڑھتا چلا جارہاہے. نجانے اس بم بلاسٹ میں کتنے بیٹوں کی مائیں، کسی کی بہنیں تو کسے کے والدین بےگناہ مارے جائنگے. یہ تم لوگ بالکل غلط کر رہے ہو.” اسکی بات سن کر کاشی فورا بولا: “ابے یہ تو کچھ بھی نھیں ہے، اس سے بڑے بڑے بلاسٹس کرنے ہونگے. ہمارے ایک سپر باس ہے بیرون ملک سے. ان کی خوشی کیلئے سب کچھ کرسکتے ہیں. تم بھی میری بات مانو، اور یہ شرافت کچھ کام نھیں آنے والی تمہاری.” رفیق دردناک لہجے میں بولنے لگا: “آج سے تقریبا گیارہ سال پہلے میرے والد بھی کام سے واپس گھر آرہے تھے، کہ وہ بھی ایک بم دھماکے میں بےگناہ مارے گئے. آخر کیوں. کیا قصور تھا میرے والد صاحب کا؟ کیوں اتنے بےگناہ لوگوں کو خون میں نہلایا جاتاہے. تم لوگ اپنے باس کو خوش کرنے کیلئے تو یہ دہشتگردی کرتے ہو لیکن کیا کبھی سوچا ہے کہ ایک دن آخرت کو اللہ کے سامنے بھی جانا ہے. تمہارے باس لوگ خو د تو ملک سے باہر بیٹھے ہوتے ہیں اور تم لوگوں کے ذریعے ملک میں خونریزی پھیلا دی ہے. کیا تمہیں اندازہ ہے کہ اسلام نے صرف ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل…” کاشی نے اس کی بات کاٹی اور چیختے ہوئے بولا: “او مولوی. بس چپ کر، زیادہ بکواس مت کر ورنہ ادھر ہی ٹھوک دونگا، سالا سیدھا بتا کہ کام کروگے یا بھیج دو واپس.؟” کاشی بد تمیزی پر اتر آیا تھا. رفیق نے انتہائی جزباتی لہجے میں جواب دیا: “میں ایک محب وطن شہری ہوں، اور کبھی بھی اس ملک کے خلاف ہونے والی سازشوں کا حصہ نہیں بنوںگا. میں آپ کے ساتھ کام نہیں کرسکتا. میں جارہاہوں. اللہ آپکو سیدھی راہ دکھائے.” اتنا کہہ کر رفیق واپس جانے کو مڑا تو کاشی نے چلا کر کہا: “ہاہاہا، اتنی آسانی سے نہیں جانے دونگا، پاگل سمجھا ہے کیا؟” اس سے پہلے کہ رفیق کچھ کہتا، کاشی نے اس پر فائرنگ کی بوچھاڑ کردی. بیچارے کو خون میں نہلا دیا. اس بیچارے نے ابھی دیکھا ہی کیا تھا؟ اس کی بیمار ماں اور چھوٹے بھائی اس کا انتظار کر رہے ہونگے. لیکن ان کو کیا پتہ کہ اب رفیق واپس نہیں آسکے گا، کیوں کہ اب وہ بھی اپنے ابو کے پاس چلاگیا ہے. کیا بیت رہی ہوگی اس ماں پر، جب اسے اس بات کی خبر ملے گی. رفیق کا کیاہوگا؟ کاشی اور انکے ساتھی رفیق کی لاش کو اپنے اڈے سے اٹھاکر کسی ندی نالے کے قریب ٹھکانے لگادینگے، پولیس والے کچھ دنوں بعد دیکھے گی تو اٹھا کر اس کی نعش گھر پھنچا دے گی. گھر میں بیمار ماں اور دو بچوں کا کہرام مچاہوگا. میڈیا والے زیادہ سے زیادہ کیا کریں گے؟ ایک دو پٹیاں ٹی وی اسکرین پر چلا دی جائیں گی کہ پولیس نے فلاں ندی سے نامعلوم افراد کی طرف سے تشدد زدہ لاش برآمد کردی ہے. بس آخر کیوں؟ ایک محب وطن پاکستانی کو وطن سے پیار کرنے کی سزا کیوں دی جاتی ہے؟ کیوں ہوتاہے ایسا؟
فاروق جان. کراچی
778 total views, no views today
Comments


