پختون کا نام سنتے ہی ذہن کے پردے پر خود بہ خود محب الوطن، مہمان نواز، امن پسند اور ایک باپردہ قوم کی تصویربن جاتی ہے۔ اس قوم نے ہردور میں وطن اورعزت کی خاطر بیش بہاقربانیاں دی ہیں، مگر گزشتہ کافی عرصہ سے پشتوٹیلی فلموں اورسی ڈی ڈراموں کی صورت میں اس سادہ قوم کو بدنام کرنے اور اسے دنیا کے سامنے ایک فحش قوم کی شکل میں پیش کرنے کی گہری سازشیں ہورہی ہیں۔
ان پشتوٹیلی فلموں اور سی ڈی ڈراموں میں فحاشی اور عریانی عروج پر ہے۔ نیم برہنہ ڈانس، شراب اور ماردھاڑ سے بھرپورفلمیں پختون ثقافت کو مسخ کرتی نظر آ رہی ہیں۔ ایک عرصہ سے بننے والی ان پشتوٹیلی فلموں اورسی ڈی ڈراموں سے معاشرہ میں فحاشی اور عریانی کو مسلسل فروغ مل رہا ہے۔ ان ڈراموں و فلموں میں نیم برہنہ ڈانس، شراب، ہیرو اور ہیروئن کے مابین نازیبا حرکات سمیت ماردھاڑ اور چیخ و پکار کے علاوہ دیکھنے کو کچھ نہیں مل رہا ہے۔ ظاہری بات ہے کہ یہ فحش اور عریاں فلمیں پختون ثقافت کو مسخ کرنے اور پختون قوم کودنیا کے سامنے عیاش قوم کی شکل میں پیش کرنے کی ایک گہری سازش ہے، جس میں ان فلموں کے مصنف، ہدایت کار، اداکار اور اداکارائیں برابر کی شریک ہیں۔
پختون ایک پر امن، محب الوطن، مہمان نواز اور باپردہ قوم ہے، جو اپنی ایک الگ ثقافت رکھتی ہے، مگر بعض دولت کے پجاری وسازشی عناصر ان کے کلچر کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
ان ٹیلی فلموں اورسی ڈی ڈراموں میں اداکارائیں جو لباس استعمال کرتی ہیں، اس سے یہ پتہ لگانا مشکل ہوتاہے کہ وہ لباس کی یا پھر اپنے جسم کی نمائش کررہی ہیں۔
اس وقت صوبہ خیبرپختون خوا میں سی ڈیز کی بڑی بڑی مارکیٹیں موجود ہیں، جہاں پرآزادانہ طورپر ان فحش فلموں کاکاروبار ہورہا ہے۔ کم عمر بچے بھی ان مارکیٹوں سے بڑی آسانی کے ساتھ یہ فلمیں حاصل کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے نئی نسل گم راہ ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ آج کل چلنے والے پشتو گانے بھی فحاشی کو فروغ دے رہے ہیں۔ کیوں کہ پشتو کے نئے گلوکار اسٹیج پر گانا گاتے ہوئے جو حرکات کرتے ہیں، تہذیب انھیں الفاظ میں بیان کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ کیوں کہ وہ حرکتیں انتہائی شرم ناک ہیں۔ پہلے وقتوں کی فلمیں سبق آموزاور فحاشی وعریانی سے پاک ہوتی تھیں، جنھیں لوگ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ سکتے تھے، مگر آج کل کی پشتو ٹیلی فلمیں اس قابل نہیں کہ لوگ انھیں دیکھیں۔
حکومت اور دیگر اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ وہ پشتوفلموں پر فوری پابندی لگانے سمیت مارکیٹ میں موجود ٹیلی فلموں، سی ڈی ڈراموں اور گانوں کی کیسٹوں کو ضبط کریں اور ان فحش ٹیلی فلموں اور ڈراموں میں کام کرنے والے اداکاروں، ہدایت کاروں، مصنفین اور گلوکاروں کو گرفتار کرکے انھیں عبرتناک سزائیں دے کر پختون کلچرکو مزید تباہی سے بچانے میں کرداراداکریں۔
1,544 total views, no views today


