تحریر رشید احمد
سوات میں بلدیاتی الیکشن کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ ضلع بھر میں 6264 امیدواروں نے کاغذات نام زدگی جمع کرادیے ہیں اور کاغذات نام زدگی جمع کرانے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔ ڈسٹرکٹ کونسل کے لیے 452، تحصیل کونسل کے لیے 435، جنرل کونسل کے لیے 2566، خواتین 403، مزدور کسان کے لیے 926، یوتھ نشستوں کے لیے 909 اور اقلیتی نشستوں کے لیے چھبیس امیدوار انتخابی اکھاڑے میں اتر گئے ہیں۔ کافی عرصہ بعد ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں لوگوں کا جوش وجذبہ دیکھنے کے قابل ہے، جس کا اندازہ ہزاروں کی تعداد میں امیدواروں کا سامنا آنا ہے۔ کوچۂ سیاست میں برسوں گزرنے والے پرانے چہروں کے ساتھ زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے۔ کاغذات کی جانچ پڑتال اپیلیں، اعتراضات نمٹانے اور حتمی فہرست جاری کرنے کے بعد انتخابی گہما گہمی میں اور تیزی آئے گی۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جن امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے ہیں، انھوں نے عوام کے ساتھ میل ملاپ، روابط بڑھانے اور ووٹ کے حصول کے لیے رشتے ناطے تازہ کرنے کا عمل شروع کردیا ہے اور آج کل غمی خوشی میں امیدواروں نے اپنی حاضری لازمی قرار دے دی ہے۔ ووٹ کے لیے سب سے زیادہ دست یاب خام مال غریب اور متوسط طبقہ کے ووٹرزپر امیدوارکی بڑی گہری نظر ہے اور وہ ان طبقات کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے مختلف حربے اور ہتھکنڈے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے دوران امیدواروں کے حلقہ جات میں ترقیاتی اسکیموں کے اعلان اور فنڈز کے استعمال پر پابندی عاید کردی گئی ہے، تاہم سوات میں برسرِ اقتدار جماعت کے ممبران اسمبلی اور وزراء پر اپوزیشن پارٹیوں نے ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کے اعلانات کرنے کا الزام لگایا ہے اور واویلہ شروع کردیا ہے کہ صوبائی حکومت الیکشن کے ضابطہ کی پاس داری کرے۔ وفاق سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم کے مشیر نے کانجو ٹاؤن شپ کے لیے سوئی گیس منصوبہ کی منظوری دی، تو صوبائی وزیر بلدیات نے بھی ٹاؤن کے مسایل کے حل کے لیے فنڈز منظور کرانے کا اعلان کیا۔ الیکشن کمیشن کو اس حوالہ سے اپوزیشن پارٹیوں کے تحفظات کا نوٹس لیناچاہیے، تاکہ آگے چل کر یہ روایت نہ بن جائے۔ ہمارے ہاں انتخابی کلچر یہ بن گیا ہے کہ الیکشن کے دوران امیدواروں کی زیادہ توجہ ایک دوسرے پر تنقید کرنے پر مرکوز رہتی ہے اور اپنے وژن ، سوچ اور نقطۂ نظر کو عوام کے سامنے لانے کی زحمت نہیں کی جاتی۔ سیکڑوں خامیاں بیان کی جاتی ہیں مگر اس کے سدھار اور اصلاح کے لیے دوبول بولنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ ایک اور چیز جس کا مشاہدہ عام ہے وہ ہے عوام کی بلا تفریق خدمت، بلا امتیاز خدمت، ترقی وخوش حالی اور مسایل حل کرنے کے دعوے جو انتخابات میں پرچون نہیں بلکہ تھوک کے حساب سے ہر امیدوار کرتا ہے۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ان وعدوں کوپورا کس طرح کیاجائے گا جو سالہا سال تک اقتدار کے ایوانوں میں براجمان رہے ہیں، وہ بھی آسمان سے تارے توڑ کر لانے کی باتیں کرتے ہیں۔ حالاں کہ انھیں ایک طویل عرصہ تک حکم رانی کا موقعہ ملا، تو ان کے ہاتھ کس نے باندھے تھے کہ وہ عوامی خدمت نہ کرسکے؟ جو آج کل اقتدار میں ہیں، وہ بھی انقلاب برپاکرنے کی خوش خبریاں ریوڑیوں کی طرح بانٹ رہے ہیں۔
اب سابقہ اور موجودہ حکومت اور منتخب عوامی نمایندوں کی کارکردگی کوسامنے رکھ کر اور اسے بنیاد بناکر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے موزوں انتخاب بہ ہر حال ووٹرز کی ذمہ داری ہے۔ کیوں کہ ووٹ محض کاغذ کی ایک چھوٹی سے پرچی نہیں بلکہ یہ آپ کے سوچ، مستقبل کے تعین اور اجتماعی مفاد کے منزل تک پہنچنے کا ایک وسیلہ ہے۔ اس بار بلدیاتی الیکشن کا ایک روشن پہلو یہ ہے کہ اس میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بھی قسمت آزمائی کررہی ہے، جن سے بہتر توقعات وابستہ ہیں، تو ساتھ میں برسوں اقتدار کے مزے لوٹنے والے آزمودہ چہرے بھی میدان میں ہیں، جو اختیارات کے حصول کے باوجود نمایاں کارکردگی نہ دکھا سکے اور اب وطن کو سنوارنے کا ’’مشن‘‘ لے کر ایک بار پھر عوام کے سامنے ہیں۔ یہ سوچنا اب ووٹرز کا کام ہے کہ وہ ذاتی و گروہی مفادات سے بالاتر ہوکر اجتماعی مفاد کی خاطر کس کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال دیتے ہیں۔ اس حوالہ سے وہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
یہ جو کہتے ہیں کہ وطن کو سنواریں گے ہم
ان سے پوچھو کہ اُجاڑا ہے گلستاں کس نے
860 total views, no views today


