تحریر ماسٹر عمر واحد
انسان نے زمین پر قدم رکھا، تو اپنے آپ کو ماحول کا محتاج پایا۔ یہ قدرت کی فیاضی تھی کہ ابتداء میں اسے لا محدود اور سر سبز و شاداب قطعاتِ اراضی، صاف پانی اور فطری ماحول ملے۔ انسان جب برف کے زمانہ (اسنو ایج)میں زندگی بسر کرتا تھا، تو اس وقت بھی ماحول صاف ستھرا اور فطرت سے بھر پور تھا۔ برف کے زمانہ سے نکل کر انسان نے تہذیب کی پہلی سیڑھی سر کی اور پتھر کے زمانہ (اسٹون ایج) میں داخل ہوا، تو اس وقت بھی ماحول اسی طرح صاف ستھرا اور آلودگی سے پاک تھا۔ پھر رفتہ رفتہ انسان مہذب ہوتا گیا، علم حاصل کی اور قدرت کے سر بستہ راز اس پر آشکارا ہوئے۔ چناں چہ انسان نے اسی علم کی بہ دولت کچھ سادہ مشینیں بنائیں، پھر بارود ایجاد کیا لیکن پھر بھی آج سے صدی پہلے انسانی ماحول اتنا آلودہ نہیں تھا۔ کیوں کہ آبادی کم تھی اور تعمیرات کی بہتات بھی نہ تھی۔ سترہویں صدی عیسوی میں انسان نے ساینس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں قدم بڑھایا۔ ریلوے انجن، ہوائی جہاز اور مہلک ہتھیار بنائے۔ اس کے ساتھ ساتھ میدانِ طب میں بھی کافی ترقی ہوئی اور انسان نے بانجھ پن اور زندگی بچانے والی ادویہ(لایف سیونگ ڈرگز) ایجاد کیں جس سے شرح اموات میں کمی اور آبادی میں اضافہ ہوتا رہا۔ افراطِ آبادی سے تعمیرات بڑھتی رہیں جس سے قابلِ کاشت اراضی اور جنگلات متاثر ہوئے اور نتیجتاً ماحول آلودہ ہونے لگا۔
فی زمانہ ہمارا کرۂ ارض شدید ماحولیاتی مسایل کا شکار اور گھمبیر حالات سے گزر رہا ہے۔ موجودہ ساینسی ترقی نے ماحول کوبری طرح متاثر کیا ہے اور موجودہ دور کے انسان کے لیے شدید ماحولیاتی مسایل پیدا ہوئے ہیں۔ انسان صنعت کو چلانے کے لیے توانائی کے مختلف ذرایع یعنی پٹرول، ڈیزل اور کویلہ وغیرہ استعمال کرتا ہے جس سے ارد گرد کا ماحول آلودہ ہوکر انسانی صحت اور زندگی پر برے اثرات پڑ رہے ہیں یعنی توانائی کے ذرایع سے جلنے سے دھوئیں اور کیمیائی اجزاء کے زہریلے اثرات سے حیوانات اور نباتات کی تباہی کا سامان پیدا ہورہا ہے۔ اگر چہ دور جدید کی ساینسی ایجادات نے انسان کو کافی آسایشیں فراہم کیں لیکن ان کی تباہ کاریاں بھی کچھ کم نہیں۔
انھیں حالات میں دنیا کے دردِ دل رکھنے والے ماہرین نے انسانوں میں یہ شعور اُجاگر کرنے کی کوشش کی کہ وہ اس کرۂ ارض کے ماحول کو بچائیں۔ چناں چہ اُن ہی کی کوششوں سے ہر سال بائیس اپریل کو ’’ورلڈ ارتھ ڈے‘‘ یعنی ’’عالمی یومِ ارض‘‘ ساری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ عالمی یوم ارض سب سے پہلے سابق امریکی سینیٹر گیلارڈلینسن نے بائیس اپریل1970ء کو منایا۔ اس کے بعد یہ دن عالمی طور پر بائیس اپریل 1971ء کو منایا جانے لگا۔ اس روز دو کروڑ امریکی باغوں اور سڑکوں پر نکل آئے اور انسانوں کو احساس زیاں دیا۔ اس روز امن کی عالمی گھنٹی بھی بجائی جاتی ہے۔ بائیس اپریل کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس روزموسمی لحاظ سے دن اور رات برابر ہوجاتے ہیں۔ آج ہماری اس زمین سے فطرت تیزی کے ساتھ رخصت ہورہی ہے جس کی بڑی وجہ ماحول میں عدم توازن یا بگاڑ ہے۔ اس بگاڑ کی وجہ سے اوزون کی حفاظتی تہہ جو سورج کی بالابنفشی (خطرناک) شعاعوں کے لیے حفاظتی ڈھال ہے، متاثر ہوا ہے جس سے گلے اور جلد کے سرطان اور آنکھوں کی بیماریاں لاحق ہونے کے خطرات موجود ہیں۔ مضر صحت گیسوں کی افراط سے زمین کا درجۂ حرارت بڑھ رہا ہے جسے عالمی حدت (گلوبل وارمنگ)کہتے ہیں۔ اس وجہ سے موسموں میں نمایاں تبدیلیاں بھی آرہی ہیں۔
بائیس اپریل کا تقاضا ہے کہ ماحول کے بچاؤ کوقومی فریضہ سمجھا جائے۔ ہر پاکستانی زیادہ سے زیادہ شجر کاری کرے اور جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ گندگی اور مضر صحت مادوں کو ٹھکانے لگایا جائے۔
نیز پولی تھین بیگز پر پابندی لگائی جائے اور تمام اہل وطن اسے مشترکہ ذمہ داری سمجھ کر ’’ماحول بچاؤ مہم‘‘ میں اپنا کردار ادا کریں۔
1,012 total views, no views today


