عمران خان نے 1992ء کا ورلڈ کپ جیتا، تو وہ کرکٹ کی دنیا سے دست بردار ہوئے اور انھوں نے سماجی اور فلاحی کاموں پر اپنی توجہ مرکوز کرلی۔ عمران خان کو دیکھتے ہوئے کئی نامی گرامی شخصیات جس میں ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے، بھی فلاحی اور سماجی کاموں کے طرف چلی گئیں۔ عمران خان نے جب فلاحی و سماجی کاموں کی طرح سیاست میں بھی اپنا حصہ ڈالنا شروع کیا، تو تحریک انصاف کے نام سے پارٹی بنا دی۔ان کی دیکھا دیکھی دیگر افراد بھی مختلف سیاسی پارٹیوں کے ساتھ وابستہ ہوگئے۔ یہ افراد ملک کے طول وعرض میں بڑی تعداد میں موجود تھے۔ انھی افراد میں سے پاکستان تحریک انصاف کے نوجوان اور سرگرم کارکن میاں جاوید حسین بھی تھے۔ انھوں نے تحریک انصاف میں شمولیت 2010ء میں اختیار کی۔ اس سے قبل وہ ایک سماجی شخصیت تھے۔ میاں جاوید حسین نے غریب اور بے سہارا اٹھارہ نوجوانوں کو پیرا میڈیکل کا کورس کرایا۔ پہاڑی اور پس ماندہ علاقوں میں فری میڈیکل کیمپ لگائے، جن سے ہزاروں افراد کو مفت طبی علاج فراہم ہوا۔تحریک انصاف نے جب انٹر ا پارٹی الیکشن کا اعلان کیا، تو اس وقت تک میاں جاوید حسین نے اپنے حلقہ پی کے اکیاسی میں سماجی کاموں کے حوالہ سے نام پیدا کیا تھا۔ اسی حلقہ سے انھوں نے نظریاتی پینل کی جانب سے تحصیل صدارت کا الیکشن لڑا جس میں وہ بھاری تعداد میں ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ اگرچہ پرانے منجھے ہوئے سیاست دان اس حلقہ میں موجود تھے، جب پارٹی کے لیے ممبر شپ شروع ہوئی، تو میاں جاوید حسین نے اپنی پارٹی کے لیے نو ہزار لوگوں کی رجسٹریشن کی اور ان کو پی ٹی آئی کے ممبر بنائے۔ انھوں نے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے این اے انتیس سوات ایک سے انتخاب لڑنے کے لیے درخواست دے دی لیکن ان کو نمایندگی نہیں دی گئی۔
میاں جاوید حسین سے علیک سلیک کافی سالوں سے تھی۔ ایک ملاقات میں جب میں نے ان سے پوچھا کہ تحریک انصاف میں شمولیت کیوں اختیار کی؟ تو اس کا جواب عجیب سا تھا۔ اس میں سیاست مجھے دکھائی نہیں دی۔ انھوں نے سیدھا سا جواب دیا کہ عمران خان خدمت خلق کررہے تھے، تو ہم اس کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے تھے۔ جب سیاست شروع کی، تب بھی خدمت خلق کا جذبہ کارفرما تھا۔ سو میں نے بھی عوام کی بہتر خدمت اور ان کے مسایل حل کرنے کے لیے سیاست اور ان کی پارٹی کا رخ کیا۔ انھوں نے کہا کہ پارٹی نے مجھے ٹکٹ نہیں دیا لیکن میں عوام کی فلاح اور پارٹی امیدواروں کی کامیابی کے لیے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا۔ میں نے اپنے حلقہ کے امیدوار کی کامیابی کے لیے دن رات محنت کی، جس کا صلہ ان کو اور پارٹی کو کامیابی کی صورت میں ملا۔
میاں جاوید حسین اگر چہ صوبائی اسمبلی کے ممبر نہیں لیکن میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ انھوں نے حلقہ کے ایم پی اے سے زیادہ عوام کے مسایل حل کیے۔ ملاقات کے دوران میں، مَیں مسلسل ا س سے سوالات کرتا رہا کہ آپ نے فلاحی کاموں کو سیاست پر ترجیح دی، آپ نے عوام کے لیے اب تک کیا کیا ہے۔ اس کے جواب میں جب انھوں نے عوامی مسایل گننا شروع کیے، تو میں بھی حیران رہ گیا۔ میاں جاوید حسین کی کوششوں سے اب تک پچیس بھوت اسکول کھل چکے ہیں۔ یہ وہ بھوت اسکول ہیں جو کئی دہائیوں سے حلقہ پی کے اکیاسی کے پہاڑی علاقوں میں بند پڑے تھے، جس میں کوئی بچہ پڑھنے والا نہیں تھا۔ اب وہ اسکول علم کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔ اسی طرح دو سرکاری ڈسپنسری اور ایک بی ایچ یو کو انھوں نے کھول کر علاج معالجہ کا مسئلہ حل کردیا۔ پہاڑی علاقوں میں اب تک انھوں نے ستائیس ٹرانس فارمر لگائے ہیں۔ ہزاروں فٹ پانی کی پایپ لاینیں لوگوں کو دی ہیں، جب کہ مینگورہ شہر کے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے علاقہ میں بند واٹر فلٹریشن پلانٹ کو اپنے پیسوں سے مرمت کرکے بہ حال کیا ہے، جس سے آج گاؤں قمبر کے لوگ صاف پانی پی رہے ہیں۔ اسی طرح اپنی جیب سے پیسے خرچ کرکے ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی کے تار خرید کر چالو کر دیئے۔
میاں جاوید حسین کی طرح پاکستان تحریک انصاف کو ہزاروں سماجی اور فلاحی شخصیات مل چکی ہیں جنھوں نے فلاحی کاموں کے ذریعے عوام کے دیرینہ مسایل حل کیے ہیں اور بلا کسی لالچ کے عوام کی خدمت کے لیے دن رات ایک کیا ہے، تبھی تو یہ پارٹی آج عوام میں خاصی مقبول ہے۔چند دن پہلے اس سے ملاقات کے دوران میں، مَیں نے میاں جاوید حسین کے چہرے پر تشویش کے آثار بھی دیکھے جو پہلے کبھی نہیں تھے۔ وہ اپنی پارٹی، پی ٹی آئی کی وجہ سے مسلسل تشویش میں مبتلا تھے۔ اس کے خیال میں پارٹی کے مشران اور ممبران اسمبلی نے عوامی مسایل اور پارٹی کے کارکنوں کے مسایل سے خود کوبری الذمہ سمجھ رکھا ہے، جن کارکنوں نے اپنے پیسے اور وقت پارٹی کے لیے وقف کر رکھا تھا، ان کو آج پارٹی میں کوئی عزت نہیں مل رہی۔ ان کی قربانیوں کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ حتی کہ آنے والے بلدیاتی الیکشن میں ان کو مکمل نظر انداز کیا گیا ہے اور ان کے یہ خدشات ٹھیک بھی ہیں۔
تحریک انصاف نے حالیہ بلدیاتی الیکشن میں ایسے ہزاروں کارکن اور سوشل ورکرز سے رخ پھیر لیا ہے جو لوکل گورنمنٹ میں عوامی مسایل بہتر انداز میں حل کرسکتے ہیں۔ اگر فنڈز نہ بھی ہوں، تو اپنی جیب سے پیسے خرچ کرکے فلاحی کاموں کو مکمل کرسکتے ہیں، جو اس جذبہ سے اس جماعت کے ساتھ وابستہ ہوئے ہیں کہ اس کا سربراہ ایک سیاست دان کے ساتھ ساتھ سماجی ورکربھی ہے۔ اگر تحریک انصاف اپنے قاید کی طرح لوکل گورنمنٹ الیکشن میں ان کارکنوں کو ٹکٹ دے دیتی، تو شاید خیبر پختون خوا بدل جاتا، لیکن افسوس جس کی توقع بھی نہیں تھی وہ کام تحریک انصاف نے کر دیا۔ تحریک انصاف نے الیکشن سر پر آنے کے بعد پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو ٹکٹ سے نوازا اور نظریاتی اور دیرینہ کارکنوں کو ٹکٹ دینے کے لایق نہیں سمجھا، نہ ان کو اعتماد میں ہی لیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج تحریک انصاف کے درجنوں نظریاتی کارکن جو دراصل سوشل ورکرز بھی ہیں، کے اندازے کچھ اور دکھائی دے رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے اگر صوبہ بھر میں اپنے نظریاتی کارکنوں کا اعتماد بہ حال نہ کیا، تو شاید پھر بہت دیر ہو جائے گی اور وہ بلدیاتی الیکشن میں عام انتخابات کی طرح کامیابی حاصل نہیں کر پائے گی۔ وہ دیرینہ اور نظریاتی کارکن اپنی ہی پارٹی کے مدمقابل آجائیں گے اور عوام انھیں کوووٹ دیں گے۔ کیوں کہ عوام اب اپنے مسایل حل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ آنے والے بلدیاتی الیکشن میں ہرگز ان لوگوں کو ووٹ نہیں دیں گے جو روایتی طریقوں سے پارٹی کی مقبولیت کو استعمال کرکے الیکشن جیت جایا کرتے تھے۔اب زمانہ بدل چکا ہے۔
674 total views, no views today


