پردہ اٹھتا ہے۔ گنگناتے آبشاروں، بل کھاتی ندیوں اور فلک بوس پہاڑوں کی سرزمین میں بہار کی آمد آمد ہے۔ کھیتوں میں سرسوں کیا پھولی ہے کہ زمیں کے اس قطعہ پر زرد چادر تانے کسی الھڑ حسینہ کی موجودگی کا شایبہ ہوتا ہے۔ علی الصباح معصوم بچے بچیاں کتابیں ہاتھوں میں لیے اپنے اپنے اسکول کی طرف رواں دواں ہیں۔ پاس ہی ایک حجرہ میں چند باریش مگر بارعب بزرگ بیٹھے ہیں۔ ان کے چہروں کی سلوٹوں سے یہ بات عیاں ہے کہ زندگی نے انھیں خوب پہنا ہے۔ ان کے لمبے لمبے شملوں پر ہمالہ کی چوٹیوں اور ان کے چوڑے چکلے اور مضبوط سینوں پر سنگلاخ چٹانوں کا گماں ہوتا ہے۔ وہ سب ایف ایم ریڈیو پرایک علاقائی مولوی کی تقریر سننے میں محو ہیں۔ مولوی گرج دار آواز میں مخاطب ہے: ’’مومنو! اپنے گھروں سے فساد کی جڑ ٹی وی، ڈش انٹینا اور سی ڈی وغیرہ نکال باہر کرو۔ کل ہم ایک بڑے میدان میں ان خبایث کو جلانے جا رہے ہیں۔ اس کارخیر میں ہمارا ساتھ دو۔‘‘ قبلہ رو بڑی چارپائی کے بیچوں بیچ جلوہ افروز ایک بزرگ گرم گرم چائے کی چسکی لیتے ہوئے کچھ یوں مخاطب ہوتا ہے: ’’آپ لوگ بھلے ہی مجھ سے اتفاق نہ کریں، مگر یہ ملا ایک بہت بڑی تباہی کو دعوت دینے جا رہا ہے۔‘‘ شمالاً جنوباً قدرے چھوٹی چارپائیوں پر تشریف فرما بزرگ بھنویں سکیڑ کر گرما گرم چائے کی پیالیوں سے اٹھتے ہوئے بھاپ کو غور سے ہوا میں تحلیل ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ ’’آج بہ بانگ دہل ٹی وی، ٹیپ ریکارڈر اور سی ڈیز کو میدان میں جمع کرکے جلانے کا حکم دیا جارہا ہے۔ کل اسی آگ کے شعلے ہمارے گھروں اور حجروں تک پہنچیں گے اور۔۔۔‘‘ قبلہ رُو بزرگ معنی خیز انداز اپناتے ہوئے اپنی بات ادھوری چھوڑ دیتا ہے اور شمالاً جنوباً تشریف فرما بزرگ جھرجھری لے کر ایک دوسرے کا منھ تکنے لگتے ہیں۔ پہلا سین ختم ہوتا ہے اور پردہ گرتا ہے۔
پردہ اٹھتا ہے۔ چند نقاب پوش بازار میں اسلحہ کے ساتھ دندناتے پھر رہے ہیں۔ سیکورٹی اداروں کے اہل کار پولیس تھانوں اور چوکیوں تک محصور ہیں۔ شہر کے ایک چوک کا سیٹ سجا ہے جس میں کسی پولیس کی سربریدہ لاش پڑی ہے اور اس کے سینے پر ایک رقعہ رکھا گیا ہے جس کے اوپر جلی حروف سے ایک دھمکی رقم ہے: ’’خبردار! اگر کسی نے دوپہر بارہ بجے سے پہلے لاش کو ہاتھ لگایا، تو اگلے روز اسی مقام پر اس کی اپنی لاش پڑی ہوگی۔‘‘ ایک بے حس موبایل کیمرہ سے اس منظر کی ویڈیو بنا رہا ہے اور انسانیت اس منظر پر نوحہ کناں ہے۔
جاتے ہوئے کہتے ہیں ہر اک بار پرندے
کچھ شرم کرو یہ بھی سکونت کی جگہ ہے
(احمد فوادؔ )
پردہ اٹھتا ہے۔ ایک سیٹ میں اسکول کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے۔ لوگ کرسی، ڈیسک، کتاب اور حتی کہ شکستہ دیواروں کو اپنے ہاتھوں سے مسمار کرکے آخری اینٹ تک کو مال غنیمت سمجھ کر ان پر ہاتھ صاف کر رہے ہیں اور ان کو ضمیر کا کھچوکا تک نہیں لگتا۔ فضا میں ایک ہی بازگشت سنائی دیتی ہے: ’’ھل من مزید، ھل من مزید۔‘‘ اسی اثناء میں سین ختم ہوتا ہے اور پردہ گرتا ہے۔
چوتھی بار پردہ اٹھتا ہے۔ فوج کے جوان قافلوں کی شکل میں انگار وادی آرہے ہیں۔ کیا بوڑھا، کیا بچہ اور کیا جوان سب آنے والوں کو اپنا نجات دہندہ تصور کرتے ہوئے ان کے استقبال میں برلب سڑک کھڑے ہوکر ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہے ہیں۔ جوان ان کے گلے میں ہار ڈال رہے ہیں، تو بوڑھے ان کا ماتھا چوم رہے ہیں۔ ایک طرف سے آواز اٹھتی ہے: ’’اب اندھیرے رخت سفر باندھ لیں کہ صبح صادق کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ نعرہ ہائے تکبیر! اللہ اکبر۔‘‘ اور اس کے ساتھ ہی پردہ گرتا ہے۔
پانچویں سین کے آغاز پر پردہ اٹھتا ہے۔ سیٹ چار سو ننانوے گھنٹے اور انسٹھ منٹ کی طویل ترین کرفیو میں نرمی کے اعلان کے بعد کے ماحول کا سجایا گیا ہے۔ اہل سوات گھروں سے نکل رہے ہیں۔ یار دوست بغل گیر ہوکر دھاڑیں مار مار کر رو رہے ہیں۔ بزرگ سجدہ شکر بہ جا لارہے ہیں۔ ایک طرف ایک سجنی اپنے ساجن کا دیدار کرنے چار سو ننانوے گھنٹے اور انسٹھ منٹ کی طویل ترین فرقت کے بعد بام پر کھڑی ہے۔ اسی اثناء میں تازہ دم جوانوں کی گاڑی ہارن بجاتے اور دن کے وقت ہیڈ لائٹس آن کرتے ہوئے ایک طرف سے وارد ہوتی ہے۔ ان چار سو ننانوے گھنٹے اور انسٹھ منٹ کے کرفیو میں ان بوڑھوں، بچوں اور جوانوں کو کیا ہوا کہ اب کی بار کسی کے ہاتھ میں نچھاور کرنے کے لیے پھول کی پتیاں نہیں ہیں، کسی کے پاس انھیں پہنانے کے لیے ہار نہیں ہے اور کوئی ان کا ماتھا چومنے ایک بھی قدم آگے نہیں بڑھ رہا ہے۔ اسی دوران میں اعلان ہوتا ہے کہ پاکستان کی بقا کی خاطر اہلِ سوات کو قربانی دینی ہے۔ اور یوں اٹھارہ لاکھ آبادی خالی ہاتھ نامعلوم منزل کی طرف رخت سفر باندھ کر نکل رہی ہے۔ قیامت کا سماں ہے۔ باپ کو بیٹے کی خبر نہیں۔ بیٹا، باپ سے لاعلم۔ اسی کش مکش میں پردہ گر تا ہے۔
اب کی بار جب پردہ اٹھتا ہے تو لوگوں کا اپنے گھروں کو واپس لوٹنے کا منظر دکھایا جا رہا ہے۔ امن کا قیام دکھایا جا رہا ہے۔ ٹی وی پر میر کارواں ہوا میں مکا لہرا کر بہ بانگ دہل کہتا ہے: ’’ہم نے دہشت گردوں کی سرزمین پر ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم لہرا دیا۔ وہاں حکومتی رٹ بہ حال کردیا۔ اب وہاں دہشت گردوں کا نام و نشان تک نہیں۔‘‘ لوگ امن کا سانس لیتے ہیں مگر انھیں کیا خبر کہ قدرت کو ابھی ان کا ایک اور امتحان لینا مقصود ہے۔ ایک بار پھر گھر گھر تلاشی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور اس بار تمام تر پختون روایات کو پاؤں تلے روند کر گھر کے سربراہ اور مرد حضرات کی غیر موجودگی میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پائے مال کیا جاتا ہے۔ جا بہ جا چیک پوسٹ ہیں اور ان پر رٹے رٹائے بے تکے سوالات۔ اور یوں پردہ ایک بار پھر گرتاہے۔
پردہ اٹھتا ہے۔ حجرہ کا سیٹ سجا ہے۔ وہی باریش بزرگ بیٹھے ہیں۔ قبلہ رو بیٹھا ہوا بزرگ کہتا ہے: ’’اگر بر وقت آگ پر قابو پالیا جاتا، تو آج اس کے شعلے ہمارے گھروں تک نہ پہنچتے۔‘‘ شمالاً جنوباً قدرے چھوٹی چارپائیوں پر براجمان بزرگ اثبات میں سر ہلاتے ہیں مگر اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیا چگ گئیں کھیت۔ وہ اپنے لبوں پر مہر خموشی سجا کر گرم گرم چائے کی پیالیوں سے اٹھتے ہوئے بھاپ کو ہوا میں تحلیل ہوتادیکھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پردہ گرتاہے اور یوں ڈرامہ ’’دی اینڈ۔‘‘
قارئین کرام! لازم نہیں کہ ہر ایک ڈرامہ کسی منطقی انجام پر جاکر ختم ہو، اس کا کچھ مقصد ہو اور لوگ اس سے سبق حاصل کریں۔ اگر ایسا ہوتا، تو ذکر شدہ ڈرامہ جس نے اربوں ڈالر کمائے، سے اٹھارہ لاکھ ناظرین کچھ نہ کچھ سبق حاصل کرتے۔ میری ذاتی رائے ہے بلکہ درخواست گزار ہوں اس کے پروڈیوسرز سے کہ اسے ’’آسکر ایوارڈ‘‘ کے لیے بھیج دیں۔ ان شاء اللہ مایوسی نہیں ہوگی۔ اگر پہلا انعام جیتنے میں یہ ڈرامہ ناکام رہا، تو دوسرا، تیسرا انعام تو کہیں گیا نہیں ہے۔
قارئین کرام! ویسے میری اس رائے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
828 total views, no views today


