مینگورہ، سوات کے معروف قانون دان بیرسٹر ڈاکٹر عدنان خان نے کہاکہ کہ ملاکنڈ ڈویژن میں نافذالعمل شر عی نظام عدل کے بعد مجسٹر یسی نظام کی بحالی شریعت سے متصادم ہے اور اس حوالے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ قابل تحسین اور انصاف کے عین مطابق ہے ، سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر عدنان خان نے کہا کہ شریعت کی رو سے عدالتی امور کی انجام دہی قاضی کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن ملاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل کے نفاذکے بعد برطانوی راج کا نافذ کردہ ایگزیکٹیو مجسٹریسی نظام از سر نو بحال کیا گیا ، جو نہ صرف شریعت سے متصادم ہے بلکہ یہ نظام دستور پاکستان کے بھی منافی ہے ، کیوں کہ عدلیہ کی آزادی اور انتظامیہ کی علیحدہ ہونے کی بات کرتا ہے ، انہوں نے کہا کہ عدالت عالیہ پشاور میں نظام عدل ریگولیشن کے شق سات (7 )کو چیلنج کیا گیا اور یہ پیٹیشن بیرسٹر ڈاکٹر عدنان خان بنام وفاق ، یوسف ایوب بنام حکومت اور حضرت عثمان بنام حکومت اور دیگر کے نام سے تھی ، انہوں نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے 29 اپریل 2015 کو فیصلہ دیا ہے کہ آئین کی رو سے انتظامی افسران عدالتی اختیارات ستعمال نہیں کرسکتے اور ساتھ ہی حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام مجسٹریٹ صاحبان کو ہائی کورٹ کے ماتحت کیاجائے اور اس عمل کی تکمیل کیلئے حکومت کو 6 ماہ کی مہلت دی ہے انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا یہ فیصلہ عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کیلئے نیگ شگون ہے اور ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ عدالتی افسران اور جج صاحبان شریعت کی روسے عوام کو انصاف کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھیں گے ، انہوں نے کہا کہ ملاکنڈڈویژن میں ایگزیکٹیو مجسٹریسی نظام کے تحت انتظامیہ کے افسران کو ان مقدمات کی سماعت کا اختیار دیا گیا ہے ، جس میں تین سال تک قید اور جرمانے کی سزادی جاسکتی ہے ، اس موقع پر ارشد ایڈووکیٹ اوردیگر بھی موجود تھے۔
876 total views, no views today


