عزیزانِ من !!
یہ گزشتہ سال کا لکھا ہوا مضمون ہے جو کہ کچھ وجوہات کی بنا پر مکمل نہ ہونے کی وجہ سے شائع نہ ہوسکا تھا اور میں نے صرف اپنے فیس بک وال پہ لگایا تھا آج ایک بار پھر یوم مزدورکے موقع پر کچھ لکھنے کا سوچا تو ایک سال سے پڑے اس ادھورے مضمون کی مقدار بڑھاکر اس کو مکمل کیا۔
لہٰذا قارئیں کرام کے لئے اس درخواست کے ساتھ پیش خدمت ہے کہ مضمون کے مندرجات کو غور سے پڑھا جائے !!
آج یوم مزدور كے نام پر چهٹى منانے كا دن ہے گويا آج مزدور كى دیہاڑى لگنے كا امكان بہت كم ہے
حالانكہ آج كى مزدورى كے پيسوں كى ضرورت مہينے كے باقى دنوں كى بہ نسبت انتہائى زياده ہے.
آج مہينے كى يكم تاريخ ہے۔ يعنى آج مزدور نے گهر كا كرايا بهى دينا ہے۔ بچوں كی سكول فيس بهى بهرنی ہے اور گهر ميں گھی آٹا بهى ختم ہے۔
يہ سارے كام ايک دن كى مزدورى ميں تو ناممكن ہے ليكن مزدور كيلۓ ايک دن كى دهياڑى خراب ہونے سے ان ميں پانچ سے چھ دن كى ايڈجسٹمنٹ تاخير ہوسكتى ہے جوكہ باعث تشويش ہے۔ يعنى مزدور كيلۓ مئى كے مہينے كا پہلا ہفتہ تلخ زندگى كا تلخ تر مرحلہ ہوتا ہے۔
كل ايک مزدور سے يكم مئى كى چهٹى كے حوالے سےبات ہورہى تهى تو اس نےبڑى ساده مگر جامع بات كہى !!! فرمانے لگے
“مزدور كى مزدورى خراب كرنے كيلۓ مزدوروں كا دن منايا جاتا ہے”
اس كا مطلب تها كہ اگر اس مهٹى بهر اشرافيہ اور سياسى ٹولے كا ہمارے حقوق كيلۓ كسى قسم كا جد و جہد نہيں تو خالى خولى يوم مزدور منا كر نعروں و بهڑكوں سے ہمارى ايک دن كى مزدورى كيوں خراب كرتے ہيں.
عزیزان من !!
سوچتا ہوں کہ صرف دنیا پرست ہی نہیں بلکہ ایسے مذہبی سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کی بھی اس ملک میں کمی نہیں جن کے ہاں نفل كے نماز تو بہ كثرت پڑهے جاتے ہيں بے شمار عمرے و حج كۓ جاتےہيں رمضان ميں اعتكاف اور ختم شريف كے اہتمام كۓ جاتے ہيں لیکن ان کے ہاں کام کرنے والے مزدوروں کے اوقات بہت تلخ ہیں اور تو اور ايسے سرمایہ دار لوگ بهى ہيں ہمارے معاشرے ميں جو ہر نمازِجمعہ كيلۓ پاكستان سے مسجد نبوى سعودى عرب بذريعہ ہوائى جہاز جاتے ہيں اور رات كو ہی واپس وطن پہنچتےہيں۔ ان لوگوں كے فيكٹريوں كے گيٹ كے اوپر اپنے پرہیز گار اور متقی ہونے کے اشتہار کے طور پر اسلامی كلمات تو ضرور لكهے ہوتے ہيں ليكن فيكٹرى كے اندر انسانوں سےجانوروں جيسا سلوک ہوتا ہے ان كى فيكٹرى كا مزدور دوائى كى استطاعت نہ ہونے كى وجہ سے تو مر جاتا ہے۔ لیکن یہ لوگ مزدور کے حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے لاكهوں روپے مسجدوں اور مدرسوں كو چنده ميں دیدتےہیں کیونکہ بدلے میں مولوی صاحب اس کے لئے ایک اشتہاری مہم چلاتے ہیں جوکہ اس کے کاروبار میں مزید ترقی کے لئے نسخۂ اکثیر کی حیثیت رکھتا ہے۔
حالانكہ….!!!
اسلام ہی وہ نظام ہے جس نے درس دیا ہے کہ “مزدور کی مزدوری اس کے پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔ مزدور پر اتنا بوجھ نہ ڈالو جس کو اٹھانے کی وہ طاقت نہیں رکھتا ۔ مزدور کو اس سے کچھ زائد بھی دے دیاجائے جو آپ نے اسکے ساتھ طے کیا ہے”.
اور اگر ہم اس سے بهى اچها مسلمان بننا چاہے تو…!!
اسلام کا بنیادی فلسفہ ہے كہ
کہ ضرورت سے زیادہ دوسروں کو دو اور محض ضرورت کے مطابق خود پر خرچ کرو۔
(Quran _2: 219)
اگر چہ حکومت نے مزدور کی ماہانہ تنخواہ بارہ ہزار روپیہ مقرر کردی ہے مگر ستم یہ ہے کہ یہ قوانین صرف کاغذات کی حد تک محدود ہیں !!
حکومت نے مزدور کے حقوق کے قوانین کو لاگو کرنے کی کبھی زحمت نہیں کی اور مزدوروں نے بھی اپنے حقوق کے بارے میں جاننے کی کبھی کوئی کوشش نہیں کی اور اگر کسی مزدور کو اپنے حقوق کا پتہ بھی ہے تب بھی وہ خاموش ہے کیونکہ اُسے یہ بھی پتہ ہے کہ زبان کھولتے ہی اس کے گھر کا چولہا ٹھنڈہ ہوسکتا ہے کیونکہ جب بھی کسی مزدور نے متعلقہ سرکاری ادارے کو تنخواہ یا اوقات کار یا کسی اور حق تلفی کی شکایت لگائی ہے تو وہی آفسر آکر فیکٹری کے مالک یا صنعتکار سے کہتا ہے آپ کا فلاں مزدور آیا تھا شکایت کرنے اب آپ حکم کریں اس کا کیا کیا جائے؟
لہٰذا آفسر اپنی مُٹھی تو گرم کرلیتا ہے لیکن مزدور کے گھر کا چولہا ٹھنڈہ ہوجاتا ہے۔
اور سارے سرمایہ دار یا صنعتکار ایسے بھی نہیں ہیں بلکہ ان میں کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جوکہ مزدور کو واقعی ماہانہ تنخواہ حکومت کی مقرر کردہ یعنی بارہ ہزار روپے دیتے ہیں لیکن اُن سے کام آٹھ گھنٹے کے بجائے بارہ گھنٹے لیا جاتا ہے اور کچھ سرمایہ دار یا صنعتکار ایسے بھی ہیں جو مزدور کو تنخواہ بھی بارہ ہزار روپے دیتے ہیں اور کام بھی آٹھ گھنٹے لیتے ہیں۔
لیکن آپ یہ ہرگز نہ سمجھئیں کہ یہ اچھےلوگ ہیں۔ ہوسکتا ہے ان میں کچھ خدا ترس اچھے لوگ بھی ہو لیکن اکثریتی طور پر یہ سلوک ان کی مجبوری ہوتی ہے کیونکہ یہ لوگ اصل میں ایکسپورٹ کا کام کرتے ہیں اور باہر ممالک کے کمپنیوں کے ساتھ ان کے معاہدے اسی شرط پر طے ہوتے ہیں کہ جس فیکٹری میں مال بن رہا ہے آیا اس کے مزدوروں کے حقوق پورے ہورہے ہیں یا نہیں اور معاہدہ کرتے وقت زبانی طور ہاں یا ناں سے کام نیں چلتا بلکہ باقائدہ طور کاغذات درکار ہوتے ہیں جیسا کہ فیکٹری میں پڑاتنخواہ رجسٹرڈ اور اوقات کار کا رجسٹرڈ اس کے ساتھ تعطیل سرٹیفیکیٹ ہوگیا اور شائید اور بھی بہت سارے کاغذات ہو جس کے بارے میں مجھے زیادہ معلومات نہیں ہیں۔
جب تک مزدروں کے حقوق کے لئے سرکاری طور پر کسی ادارے کو پابند اور فعال نہیں بنادیا جاتا !
اور متعلقہ ادارے کے ضمیر فروش اور ایمان فروش عملہ کے خلاف قانونی کاروائی کرکے کیفر کردار تک نہیں پہنچادیا جاتا !!
اور ان کے بدلے ایماندار اور خدا ترس عملہ جو کہ مزدوروں کو ان کے حقوق دلوانا اپنا فرض اور عبادت سمجھتے ہو ایسے لوگوں کو نہیں لایا جاتا !!
مزدوروں کے مخلص راہنماؤں کی طرف سے تنظیم سازی کا مرحلہ شروع نہیں ہوتا !!
مزدور اپنے حقوق کے بارے معلومات حاصل نہیں کرتا !!
سماجی طور پر صاحب مرتبہ اور صاحب طاقت لوگوں کے ساتھ ساتھ اہل قلم جب تک مزدوروں کے حقوق کے لئے اواز بلند نہیں کرتے۔
تو سال میں ایک دن مزدوروں کے حقوق کےلئے رونا بے کار ہے۔
اور طے ہے کہ مزدوروں کا استحصال اس طرح زور پکڑتے ہوئے جاری رہیگا مزدور کا بیٹا بڑا ہوکر مزدور ہی رہیگا اور بیٹے کا بیٹا بھی مزدور !!
750 total views, no views today


