مینگورہ، نادرا اور مختلف ادارے محب وطن شہریوں کو بے جا تنگ کررہے ہیں ، گزشتہ پانچ سو پشتوں سے یہاں پر رہائش پزیر افراد کو کبھی افغان مہاجر اور کبھی غیر وطن کے نام پر تنگ کررہے ہیں ، جبکہ 1985ء میں انڈیا سے آئے ہوئے افراد کو کوئی پوچھنے والا نہیں ،بدنامہ زمانہ ادارہ نادرا نے محب وطن شہریوں کا جینا حرام کر دیا ہے ، مختلف ویری فیکیشن کے نام پر کارڈ کو بلاک کردیتے ہیں پھر اس کو کھولنے کیلئے مختلف قومی وصوبائی اداروں کو مراسلے جاری کرتے ہیں پھر اپنا چودراہٹ قائم کرنے کیلئے اکھٹے بیٹھ جاتے ہیں اور پانچ سو پشتوں سے یہاں رہائش پزیر پشتون کو غیر پاکستانی کردیتے ہیں ، حالانکہ ان کے ساتھ اپنے آباء واجدا کے تمام دستاویزات بھی موجود ہوتے ہیں اور اس میں وہ خاندان بھی شامل ہے ، جن کے بزرگوں نے عملی طور پر جہاد کشمیر میں حصہ لیا تھا ، اور بھر پور دفاع کیا ،مگر بدنام زمانہ ادارہ نادرا ان کے بزرگوں کے قربانیوں کو نہیں دیکھتے ، خیبر پختونخوا کے پشتون نادرا کے ظالمانہ روئیے کے خلاف کسی بھی وقت بھر پور انداز میں احتجاج اور مظاہرہ کرینگے ، لہٰذا وفاقی وزیر داخلہ اور اعلیٰ حکام بدنام زمانہ محکمہ کے خیبر پختونخوا اور خصوصاً مینگورہ کے نادرا کی زمہ دار ی کے خلاف سخت کاروائی کریں ، کہ ان کا یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی بھی محب وطن پاکستانی سے ان کے شہریت چھین لیں ،اور ان کو روکھنے اور اختیارات سے تجاوز کے خلاف کاروائی کریں ، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی اس سلسلے میں عملی اقدامات کریں ۔
618 total views, no views today


