قارئین، جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ آج کل بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ہر طرف گہما گہمی ہے۔ لوگ اپنے لیے پوسٹر تیار کر رہے ہیں۔ چھوٹے بڑے سب اپنے محلہ کے امیدوار کے پوسٹر میں اپنی تصویر لگاکر ایک طرح سے اپنی خوشی کا سامان کرتے ہیں اور یوں امیدوار سے اپنی محبت کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے، تو ان دنوں پرنٹنگ پریس والوں کے بھی مزے ہیں۔ انتخاب لڑنے کے لیے جو لوگ کھڑے ہیں، وہ ہر جگہ جاتے ہیں۔ اپنی انتخابی مہم چلاتے ہیں اور سادہ لوح عوام سے بڑی معصومانہ انداز میں کہتے ہیں کہ’’آپ کے محلے کے جتنے بھی مسایل ہیں وہ ہم حل کریں گے، بس آپ صرف اتنا کام کریں کہ مجھے ووٹ دیں۔‘‘ یہ مہمات یوں ہی جاری رہیں گی لیکن انتخابات کے بعد ہی پتا چلے گا کہ کون کتنا پانی میں ہے؟
اے میرے سادہ لو ح بزرگو، دوستو اور بہن بھائیو! ووٹ سوچھ سمجھ کر دیں، تاکہ بعد میں آپ کو پچھتانا نہ پڑے۔کیوں کہ بعد میں ہم کہتے ہیں کہ اس سے تو پچھلے والی حکومت اچھی تھی۔ میں ان لیڈران کے چھوٹے بڑے دعوے سالہا سال سے سن رہا ہوں، لیکن منتخب ہونے کے بعد کیا ہوتا ہے، یہ آپ کو مجھ سے بہتر پتا ہوگا۔
ویسے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ایسے لوگ بھی کھڑے ہیں جو بڑے سادہ قسم کے ہیں۔ ان کی کوئی تعلیم نہیں ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنا مافی الضمیر تک بیان نہیں کرسکتے۔ اگر یہ جیت جائیں، تو عوام کے مسئلے کیسے حل کریں گے؟ کیا پھر یہ لوگ پولیس اسٹیشن، عدالت یا میونسپل کمیٹی میں عوام کے حق میں بات کیا کرسکیں گے؟ مجھے تو اس بات کی بالکل سمجھ نہیں آرہی۔ اس لیے عرض گزار ہوں کہ سوچھ سمجھ کر فیصلہ کریں۔ کس نیت سے یہ لوگ کھڑے ہیں، اس کے حوالے سے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ زیادہ تر امیدواروں کو کوئی تن خواہ بھی نہیں ملے گی۔ تو کیا یہ صرف نمود و نمایش کے لیے اپنے پیسے خرچ کر رہے ہیں؟ ایک ہی محلے میں چھ چھ سات سات امیدوار کھڑے ہیں، اس سے آپ خود اندازہ لگا لیں کہ اس محلے کے اتفاق کا کیا حال ہے؟ میری تو یہ رائے ہے کہ اگر تین امیداوارمحلے کے باہمی صلاح و مشورہ سے کھڑے ہوجائیں،تو اس محلے کا ووٹ ضایع نہیں ہوگا۔ محلے کا ووٹ محلے ہی میں رہے گا۔ ہمارے محلے میں ہر روز نئے نئے بندے آتے ہیں اور وہ بھی ایسے بندے جن کو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوتا ہے۔ کچھ یوں خوش اسلوبی سے ملتے ہیں کہ آدمی کو شک ہونے لگتا ہے کہ یہ کہیں قرض ہی نہ مانگ لیں، اور ساتھ کہہ دیتے ہیں کہ ووٹ مجھے ہی دیں۔
قارئین کرام! آج کی نشست کا مقصد یہ ہے کہ اپنا قیمتی ووٹ سوچھ سمجھ کر استعمال کریں۔ کیوں کہ ان میں ایسے لوگ بھی کھڑے ہیں جو ٹھیک طرح سے اپنی مادری زبان پختو تک نہیں بول سکتے۔ آگے وہ ہماری آواز کیسے لے کر جائیں گے؟
چاروں طرف بہار ہے اب انتخابات کی
ڈونگے ہیں قورمے کے، کہیں ڈش کباب کی
دن رات ہو رہی ہیں بڑی جی حضوریاں
نکلی ہوئی ہے لاٹری ووٹر جناب کی
684 total views, no views today


