بریکوٹ، تحصیل بریکوٹ کے علاقہ وراڈ کوٹہ میں تقریباً 23ہزار ووٹ رجسٹرڈ ہیں اور یہ علاقہ سوات کے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے ۔یہاں پر دنیا کی بہترین پھل پیدا ہوتی ہے جوکہ ملک کے معیشت میں اہم کردار ادا کرتاہے ۔اس علاقے سے ضلعی کونسل کے لئے سات مختلف پارٹیوں اور آزاد امیدواران جبکہ تحصیل کونسل سے نو امیداوران اپنے قسمت آزما رہے ہیں اس کے علاوہ جنرل کونسلر ز،کسان کونسلر ز،یوتھ کونسلرز،خواتین کونسلر ز بھی میدان میں کود پڑے ہیں ۔ضلعی کونسل امیداواران میں قومی وطن پارٹی سے صدیق علی خان ،پاکستان مسلم لیگ (ن) سے نصراللہ خان ،جمعیت علماء اسلام سے فضل واحد ،جماعت اسلامی سے عجب خان ،پاکستان تحریک انصا ف سے عبدالقیوم خان جبکہ دو امیداواران لال بہادر اور نیاز احمد خان شامل ہیں ۔اس وارڈ میں اے این پی اور پی ایم ایل نے اتحاد بھی کیا ہے۔یہ اتحاد دونوں پارٹیوں کے لئے بہت اہمیت رکھتاہے اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے امیدوار نصراللہ خان سابق ناظم بھی رہ چکے ہیں جوکہ ان کے لئے ایک مثبت پوائنٹ ہے مگر بدقسمتی سے نیاز احمد جو کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اہم اکائی ہے ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں جو کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لئے خطر ے کی گھنٹی بھی ثابت ہو سکتی ہے ۔پاکستان تحریک انصاف حکومتی پارٹی ہے اور اس کے امیدوار کو الیکشن میں بہت ہاتھ دے سکتا ہے ۔اس پارٹی میں نوجوانوں نے ماضی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور اگر یہ نوجوان اب بھی ساتھ رہے تو وہ الیکشن میں اچھی کارکردگی کا مظاہر ہ کرسکتی ہے مگر بدقسمتی سے وہ بھی شدید اختلافات کا شکار ہے پارٹی قائدین اگر بروقت اختلافات کا خاتمہ نہ کرسکے تو اس سیٹ سے ہاتھ دھو سکتے ہیں ۔قومی وطن پارٹی سے صدیق علی خان ایک مظبوط امیدوار کی حیثیت سے میدان میں ہیں کیونکہ علاقے میں وہ ایک خدائی خدمت گار کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہر طبقے کے لوگ ہیں مگر قومی وطن پارٹی سے بھی آزادلال بہادر خان کے نام سے الیکشن لڑرہا ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ امیدوار بھی جتنے والوں کے صف میں ہے اگر یہ کہاجائے کہ نصراللہ خان ،صدیق علی خان ،لال بہادر ،کے درمیان مقابلہ ہو گا تو غلط نہ ہوگا۔اس طرح تحصیل کونسل کے ٹوٹل امیدواران نو ہیں ان میں امیدواران قومی وطن پارٹی سے طاہر خان ،اے این پی سے واحد کرم،پی ٹی آئی ڈاکٹر عزت الرحمان ،پاکستان پیپلز پارٹی سے مختار رضا ،جمعیت علماء اسلام سے مفتی امیر نواز خان ،جبکہ آزاد امیدواران میں محمد شاہ خان ،نظر حسین ،بخت روان خان،واجد خان شامل ہیں ۔پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اے این پی کے مشترکہ امیدوار واحد کرم ہیں جو کہ مظبوط امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑے گا ۔مگر بدقسمتی سے پاکستان مسلم لیگ(ن)بھی اختلافات کا شکار ہوکر آزاد حیثیت سے اسی پارٹی کا رکن واجد خان الیکشن لڑ رہا ہے ۔قومی وطن پارٹی طاہر خان بھی ایک سیاسی اثر رسوخ رکھتاہے اور اس الیکشن میں اپنا کام دکھائے گا۔پاکستان تحریک انصا ف کے ڈاکٹر عزت الرحمان کو پارٹی سے ٹکٹ ملا ہے اور ایک مظبوط امیدوار بھی ہیں مگر پارٹی اختلافات جو کہ اسی پارٹی کا رکن نظر حسین اپنے ہی پارٹی کو شدید نقصان پہنچے کا باعث بن سکتاہے ۔جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام دونوں اتحاد کرتے تو دونوں کے مشترکہ امیدوار اس الیکشن میں مذید بہتر کارکردگی دکھاسکتے تھے ۔
608 total views, no views today


