مینگور،تحصیل کبل کے لاپتہ افراد کی مائیں بچے اور رشتہ دار خواتین ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر نکل آئیں ، کبل کے علاقہ کانجو سے براستہ مٹہ ، خوازہ خیلہ پاک فوج کے ڈپو جانے کیلئے پیدل مارچ کیا ، ہمار ے بچوں کا جو بھی قصور ہے سزا دیں ہم تیار ہیں خواتین ہوکر ہم حکومت سے انصاف کے عدالتوں کی لگانے کی اپیل کرتے ہیں ، کسی کو بغیر کوئی وجہ تہہ خانوں میں رکھنا کہاں کا انصاف ہے ، کسی بھی عدالت سے کوئی توقع نہیں چوہدری افتخار اور جسٹس دوست محمدخان نے جو کچھ کہا ہے ہم دعائیں مانگتے رہیں گے ،
ان خیالات کااظہار کبل کے لاپتہ بائیس خاندانوں کی خواتین جن میں بچے بھی شامل تھے کانجو سے پیدل مارچ کرکے خوازہ خیلہ پاک فوج کے ڈپو ہیڈ کوارٹر جانے کے وقت مٹہ بازار میں بات چیت کرتے ہوئے مسماۃ جان صبا اور دیگر خواتین نے کی ، انہوں نے کہاکہ ہمارا جائز مطالبہ ہے کہ اگر ہمارے لاپتہ افراد جو پانچ سالوں سے جیلوں میں ہے اگر وہ مجرم ہیں تو عدالتوں میں پیش کرکے ان کو سزا دیں یا ان کو مار کر ہمیں لاش حوالہ کردیں انہوں نے کہاکہ ایک اسلامی حکومت میں ہم انصاف مانگنے اور اس انصاف کیلئے ہمارے شوہروں اور بچوں کی عدالتوں میں پیش کرنے کیلئے دربدرٹھوکریں کھاکر مطالبہ کرتے ہیں لیکن پھر بھی ہماری بات کوئی بھی سننے کوتیار نہیں ، انہوں نے کہاکہ اگر لاپتہ زیر حراست افراد مجرم اور گنہگار ہیں تو پھر وہ لوگ ان کو عدالتوں میں کیوں پیش نہیں کرتے ۔
590 total views, no views today


