اسلام آباد: وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے عمران فاروق قتل کیس میں تفتیش مکمل کرلی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے گرفتار شخص سے متعلق ایک دو روز میں اہم پیشرفت ہوگی جب کہ کیس میں جے آئی ٹی تمام تر تفتیش مکمل کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی دھاندلیوں کافیصلہ نادرا یا کسی اورادارے کو نہیں کرنا اگر نادرا کی رپورٹ میں خامی ہے تو نکالی جائے تاہم کچھ لوگوں نے آسمان سرپر اٹھا رکھا تھا اور شور مچایا جا رہا تھا کہ نادرا کے چیرمین پر سرکار کا دباؤ ہے، اگر 93 ہزار ووٹوں کی تصدیق نہیں ہوسکی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جعلی ہیں بلکہ تصدیق نہ ہونے والے انگوٹھوں کے شناختی کارڈز درست ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیرداخلہ نے سیکیورٹی سے متعلق 4 پالیسیوں کا اعلان کیا جس میں ایگزٹ کنٹرول لسٹ ،اسلحہ لائسنس، بلٹ پروف گاڑیاں اور سیکیورٹی ایجنسیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے متعلق کچھ نئے قوانین کا ڈرافٹ تیارکرلیا گیا ہے جسے مشاورت کے بعد 4 سے 6 ہفتوں میں رائج کردیا جائے گا جب کہ بلٹ پروف گاڑیوں سے متعلق بھی قانون ایک ماہ میں بنا لیا جائے گا۔ اسلحے کے تمام لائسنس 31 دسمبر تک توثیق کرا ئے جائیں ورنہ 31 جنوری سے وہ منسوخ تصور ہوں گے، اس وقت وفاق اور پنجاب میں اسلحہ لائسنس پر پابندی ہے لیکن خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں اسلحہ لائسنس کے اجراء پر پابندی نہیں جب کہ ماضی میں ممنوعہ بورکےاسلحہ لائسنس نوازنےکےلیےجاری کیے جاتے رہے ہیں تاہم اب مزید لائسنس جاری کرنےکی ضرورت نہیں اور 24 سال سے کم عمر کے افراد کو اسلحہ لائسنس جاری نہیں ہوگا۔
وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ای سی ایل سے متعلق فیصلہ کیا ہے کہ نیب، ایف آئی اے اور اعلی عدالتوں کے احکامات پر ہی کسی بھی شخص کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے گا جس کی میعاد ایک سے 3 سال ہوگی جب کہ اس حوالے سے تمام صوبوں سے مشاورت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 7 ہزار 500 پاکستانیوں کے نام ای سی ایل میں ہے اور کئی نام گزشتہ 30 سال سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ہیں تاہم موجودہ حکومت میں کوئی ایک بھی نام سیاسی بنیاد پر اس فہرست میں نہیں ڈالا گیا۔
چوہدری نثار نے کہا کہ پاکستان میں بننے والی بلٹ پروف گاڑیاں لائسنس کے تحت بننی چاہییں اوراس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ بلٹ پروف گاڑیاں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے پاس نہ ہوں، اسلحہ لائسنس کے حوالے سے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ اسلحہ رکھنے والا ٹیکس دہندہ ہونا چاہئے اور31 دسمبر 2015 تک اسلحے کے لائسنس نادرا سے تجدید کرالئے جائیں۔
پرائیویٹ سیکیورٹی ایجنسیوں سے متعلق پالیسی کے حوالے سے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ کئی سیکیورٹی ایجنسیوں میں جرائم پیشہ افرادبھرتی ہو ئےجب کہ اب تک کسی سیکیورٹی ایجنسی کو لائسنس نہیں دیا گیا۔
327 total views, no views today


