اگر چہ سخت محنت کے نتیجے میں سوات میں پولیس کارکردگی میں کافی مثبت تبدیلیاں محسوس ہو رہی ہیں اور نظر بھی آرہی ہیں، لیکن بعض حقایق ایسے بھی ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ پولیس کسی نہ کسی وجہ سے کسی نہ کسی سے مغلوب ہے۔ اس مختلف النوع مغلوبیت سے پولیس کو نکالنے کے لیے سینئر آفیسرز کی طرف سے مسلسل مدد (Support) نگرانی اور رہنمائی کی ضرورت ہے اور یہ تب ہوگا جب محکمۂ پولیس اپنی مخبری کے نظام کے ایک حصے کو محکمے کی کم زوریوں کی طرف لگادے، تاکہ سینئر آفیسرز اُن کم زوریوں، مشکلات اور مجبوریوں سے پوری طرح با خبر ہوں جن سے فیلڈ میں ایک سپاہی کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح محکمے میں اگر تحقیق کا ایک مستقل اور مستحکم نظام قابل اور مخلص افراد کے تحت قایم کیا جائے اور اُس کی سفارشات پر عمل کیا جائے، تو پولیس کی خدمات بہتر نتایج دے سکتی ہیں اور پولیس کے اندر موجود خرابیاں کم ہوسکتی ہیں۔
بے شک پولیس کے اندر کئی ایک کم زوریاں موجود ہوں گی لیکن بہتر نفسیاتی تربیت اور عمدہ تعلیمی معیار کے نوجوانوں کو سخت مقابلے کے امتحانات کے بعد زیادہ سے زیادہ تعداد میں پولیس فورس میں لانے کے بعد یہ کم زوریاں کم سے کم ہوجائیں گی، یعنی نیکی کے ذریعے بدی کو مٹانے کا آفاقی طریقہ اپنایا جائے۔ دوسرا اقدام جو پولیس کی کارکردگی کو بہتر اور جرایم کی مقدار کو کم کرسکتا ہے، پولیس کو سفارشیوں سے محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ہمارے آئے روز کا مشاہدہ ہے کہ گلی بازار میں پولیس کسی مجرم کو پکڑ لیتی ہے، تو وہ مجرم یا ملزم یا اُس کا کوئی ساتھی فوری طور پر موبایل فون یا کسی اور ذریعے سے کسی پیٹی بند بھائی یا کسی با اثر فرد کے ساتھ رابطہ کرکے مجرم کو چھڑادیتا ہے اور وہ عموماً دبے الفاظ میں پولیس کو گالیاں دیتے ہوئے نکل جاتا ہے۔ اس قسم کے حالات سے عموماً ٹریفک پولیس کو زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح دوسرے محکموں کی کم زور کارکردگی بھی پولیس کی خدمات کو متاثر کردیتی ہے۔ اخبارات نے چند ماہ قبل صوبائی حکومت کی اس ہدایت کو شایع کیا تھا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو پولیس چوکی؍ اسٹیشن کی بہ جائے ضلعی ہیڈ کوارٹر کی سطح پر ایک مسلسل رجسٹریشن نمبر دیا جائے گا جس کے ذریعے پولیس کے ساتھ گاڑیوں کے مالکان کا بھی فایدہ ہوگا۔ تادم تحریر اُس حکومتی تجویز یا فیصلے پر عمل درآمد نظر نہیں آتا۔ بھانت بھانت کی نمبر پلیٹیں، نمبر پلیٹوں کی بگاڑی گئی شکلیں، مثلاً ایک نمبر گیارہ سو پندرہ ہے لیکن نمبر پلیٹ پر پندرہ کا ہندسہ بہت بڑا اور گیارہ کا ہندسہ نہایت ہی چھوٹا پرنٹ کیا گیا ہوتا ہے۔ نمبر صرف پندرہ نظر آتا ہے۔ اس طرح کئی ایک افراد سرکش الفاظ کے ساتھ نمبر پلیٹیں استعمال کررہے ہیں۔ اچھی حکم رانی یہ ہوتی ہے کہ عوام کی ہر حرکت پر نظر رکھی جائے اور اُن کو زیادہ گم راہی سے بچایا جائے۔ غیر قانونی ہونے کے باوجود زیادہ تر لوگوں نے سرکاری مونوگرام کے ساتھ درست اور قانونی نمبر پلیٹوں کی شکل والے نمبر پلیٹ لگائے ہیں۔ بعض سرکاری اورنیم سرکاری اداروں کے اہل کار تو گاڑی پر اپنے ادارے کا نام ہی لکھنا زیادہ موزوں سمجھتے ہیں۔ یہ رویہ پولیس کے وقار کو مجروح کرتا ہے۔ مینگورہ شہر اور اطراف میں موٹر سائیکلوں کی کثیر تعداد تو نمبر پلیٹ ہی نہیں رکھتی۔ یہ ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی تو اُن کے لیے معمول کی بات ہے۔ ہمارا غیر مہذب ہونا دیکھنا ہو، تو ہماری ٹریفک قانون شکنی دیکھی جائے۔ چند عشرے قبل پشاور میں ہمارے ایک پڑوسی مجسٹریٹ نے ہدایات دی تھیں کہ جو موٹر سائیکلوں والے چھوٹی چھوٹی قانون شکنیاں کریں، اُن کی گاڑیوں کے ٹایروں سے ہوا نکالی جائے، تاکہ قانون شکن موٹر سائیکل سواروں کو چند فرلانگ تک جسمانی مشقت کرنا پڑے۔ ہم خود اپر ہیڈ کوارٹر پشاور میں ملازمت کے لیے بائی سائیکل استعمال کرتے تھے۔ سائیکل پر ڈبل سواری ممنوع تھی اور جہاں کہیں پولیس ایسی سائیکل دیکھتی، اُس کے ٹایروں سے ہوا نکال کر نوزل کہیں دور پھینکتی۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر جرم پر پرچہ کاٹنا اور چالان کرنا ممکن بھی نہیں اور اچھا بھی نہیں لیکن اُس کی اجازت دینا، معاف کرنا، چشم پوشی کرنے کا عمل بھی انارکی پھیلاتا ہے اور پولیس کا ڈر اور وقار ختم ہوجاتا ہے۔ اس لیے اس قسم کی ہلکی پھلکی سزاؤں کا طریقہ استعمال کیا جائے۔ جو لوگ کارِ سرکار میں مداخلت کے مرتکب ہوں، اُن کے خلاف ضرور کارروائی ہو۔
آئی جی کی طرف سے سود کی خرابیوں پر رپورٹ حکومت کو بھیجنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پولیس کا محکمہ ریسرچ کا کام کرتا ہے۔ یہ خوش آیند بات ہے۔ اس لیے ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ آئی جی صاحب اور دوسرے آفیسرز اُن محکموں کی فوری طور پر حکومت کو اطلاع کردیں جو پولیس کے کام کو مشکل اورعوام میں قانون شکنی اور مشکلات پیدا کررہے ہیں۔ اکسایز کا محکمہ بہ راہ راست ٹریفک پولیس کو متاثر کرتا ہے۔ اس طرح آر ٹی اے، ٹی ایم اے، محکمۂ تعمیرات، محکمہ شاہراہات کی ناقص یا کم زور کارکردگی پولیس کی خدمات کو متاثر کرتی ہے۔ کسٹم حکام کی کم زوری کے برے اثرات محکمۂ پولیس پر ہی پڑتے ہیں۔ محکمۂ تعلیم کی ناکامیاں پولیس ہی کے کام کو مشکل بنادیتی ہیں۔ مارکیٹ کی خود سری اور الحاج لوگوں کی بہت زیادہ طاقت پولیس ہی کی کارکردگی کو چیلنج کرتی ہے۔ پھر ہماری ان کم زوریوں کی وجہ سے پولیس بے پناہ بوجھ کا شکار رہتی ہے لیکن اس کے لیے مناسب سہولیات سے حکومت غافل ہے۔ صرف تنخواہیں بڑھانے اور چند الاؤنسز عطا کرنے سے مسایل حل نہیں ہوتے۔ جس مارکیٹ میں چیزوں کے نرخ پر حکومت کا نہیں بلکہ تاجروں کا کنٹرول ہو اور وہاں متعلقہ سرکاری ملازمین کو ’’الراشی‘‘ بنانے کا باقاعدہ نظام بنایا گیا ہو وہاں بھی پولیس خدمات متاثر ہوتی ہیں۔ آج کل صرف مینگورہ میں ایک عام سے معمولی مکان کا پندرہ ہزار سے لے کر پچیس تیس ہزار کرایہ مانگا جاتا ہے۔ ایک فل انسپکٹر اپنی تنخواہ میں یہ برداشت نہیں کرسکتا بلکہ ایس پی اور ڈی ایس پی بھی اتنا کرایہ سرکاری تنخواہ میں ادا نہیں کرسکتا ہے اور نہ غیر موزوں علاقوں میں رہ سکتا ہے۔ اس طرح بچوں کی تعلیم اور علاج معالجے کے اخراجات، یہ مسئلہ تمام ملازمین کے ساتھ ہے۔ عدل کے لیے معاشرے کی مجموعی تربیت نہایت ہی اہم ہے۔ ورنہ سب سے پہلا اور شدید خطرہ امن وامان ہی کو ہے۔ ہمارا معاشرہ غافل معاشرہ ہے۔ اس کو تصوراتی معاملات میں ہمہ وقت تربیت دی جاتی ہے۔ زمینی حقایق سے عوام اور صاحبان ثروت دونوں کو بے خبر رکھا جاتا ہے۔ اس طرف باقاعدہ اور بھر پور توجہ کی ضرورت ہے۔ سرکاری ملازمین ایک انسان کے لباس کی طرح ہوتے ہیں۔ عمدہ اور مناسب لباس اور جوتے انسانی بدن کو مشکلات سے بچا کر عمدہ کارکردگی کے لیے تیار رکھتے ہیں۔ اگر ملازمین خواہ وہ سرکاری ہوں یا نجی کارکن اور مزدور، خواہ وہ زراعت سے وابستہ ہوں یا صنعت و تجارت سے، اگر وہ مطمئن اور پُرسکون نہ ہوں، تو انسانی معاشرہ مشکلات اور پریشانیوں کا شکار رہتا ہے جس طرح آج کل پاکستانی معاشرہ ہے۔ ہر حکومت، وقت کے ساتھ ساتھ محکمۂ پولیس پر بوجھ ڈالتی جاتی ہے جب کہ اس کی مدد کی کسی کو فکر نہیں۔ کرایہ داروں کے کوایف جمع کرنے کے لیے حکومت نے جو ڈرامہ شروع کیا ہے اُسے دیکھیے، دو روپے کا جو فارم حکومت چار سو روپیہ میں غریب عوام کو فروخت کروارہی ہے، اُس کے ذریعے پولیس کے لیے درکار معلومات صفر کے برابر جمع ہوں گے۔ درست کوایف جمع نہ ہوں گے لیکن پولیس سے درست کارکردگی کا تقاضا ہوگا۔ اگر پولیس پر اتنا بڑا بوجھ ڈالنے کی جگہ مالکان عمارات کو پابند کیا جائے کہ وہ زیادہ کرایہ کے آفر پر کسی شخص کو کرائے پر عمارت نہ دیں اور جس کو عمارت دی جاتی ہے، اس کے کوایف مالکانِ عمارات رکھیں اور وہی پولیس کو جواب دہ ہوں، تو یوں پولیس پر کام کا دباؤ کم ہوگا، کرپشن کے ممکنہ مواقع کم ہوں گے۔ لیکن کیا کریں حکومتی اداروں کا جو ایک عمدہ فارم بھی ڈرافٹ نہ کرسکے۔
ایک طرف تو مارکیٹ کو کھلا چھوڑا گیا ہے کہ وہ گاڑیاں جہاں سے چاہے اور جیسے چاہے لاکر مارکیٹ کرے۔ محکمۂ اکسایز (جو غالباً آئی جی پی کے ماتحت ہے) غفلتوں اور نا اہلیتوں کا ثبوت دے اور شکوہ ہم پولیس سے کریں۔ بے حد و حساب اور بے نمبر گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں معاشرے میں کہاں سے آتی ہیں جو دہشت گردی، قتل اور بمباری تک میں استعمال ہورہی ہیں، ان کے درست مالکان کون ہیں اور استعمال کون کررہا ہے؟ ان کے نمبرز کیوں نہیں ہیں اور کب تک بلا نمبر یا مشکوک نمبروں کے ساتھ موجود ہوں گی؟ اس طرح محکمۂ پولیس کے اندر اور اس سے باہر تمام عوامل کی درستگی ضروری ہے جو پولیس کی کارکردگی اور وقار کومتاثر کررہے ہیں۔ انصاف اور اچھی حکم رانی کی پہلی سیڑھی ہی پولیس ہے۔ اس کی درستگی، صحت اور حفاظت ضروری ہے۔ اس کے حصول کے لیے پولیس کے سینئر آفیسرز کی مسلسل امدادِ دانش (Intellectual Support) کی ضرورت ہے۔
اس طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دی جائے۔
834 total views, no views today


