قارئین کرام! بلدیاتی انتخابات جتنا قریب آ رہے ہیں، اتنا ہی سیاسی میدان گرام ہوتا جا رہا ہے۔ سیاسی رہنما ؤں نے اپنی سیاسی دوکان چمکانے کے لیے لنگوٹی کس لی ہے۔ عجیب عجیب چہرے اس سیاسی میلے میں نظر آ رہے ہیں اور ووٹ کے حصول کے لیے طرح طرح کی ڈرامہ بازیاں جاری ہیں۔ گزشتہ روز مینگورہ بازار میں کسی کام کے حوالے سے جا رہا تھا کہ ایک سوٹڈ بوٹڈ نوجوان کو گاڑی سے اترتے اور ہاتھ ہلاتے دیکھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ صاحب ضلعی کونسل کے لیے منتخب امید وار ہیں اور ایک جانے پہچانے سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ لوگوں کو ہاتھوں سے اشارے کرتا رہا اور ساتھ یہ جتانے کی کوشش بھی کرتا تھا کہ اے لوگو! آپ کے قیمتی ووٹ کا صحیح حق دار میں ہی ہوں۔ یہ ماجرا دیکھ کر مجھے سوات کا مزاحیہ اداکار ’’سیلئی‘‘ یاد آیا جس نے مقامی سیاست پر ایک پختو مزاحیہ ٹیلی فلم بنائی ہے جس میں ’’سیلئی‘‘ ایک نام زد امید وار کے طور پر اپنی مہم چلاتا ہے۔ ووٹ کی تلاش میں کبھی وہ کسی شادی کی تقریب کو فاتحہ خوانی سمجھ کرجاتا ہے اور کبھی فاتحہ خوانی کو شادی کی تقریب۔ لہٰذا ہر محفل کو سیاسی رنگ دے کر اپنی مہم چلانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا۔ لیکن جب کامیاب ہوتا ہے، تو پھر وہاں اپنے مزوں میں عوام کو بھول جا تا ہے ۔
قارئین کرام! ہماری سیاسی صورت حال بھی بالکل اس مزاحیہ ڈرامے پر مبنی ہے۔ آج کل جنازہ، فاتحہ خوانی،اسپتال، تھانہ اور دیگر عوامی جگہوں میں آپ لوگوں کو انتخاب کے دن تک ڈھیر سارے ہم درد نظر آئیں گے لیکن الیکشن کے بعد مذکورہ لوگ آیندہ انتخابات تک دوربین میں بھی نظر نہیں آئیں گے۔گزشتہ دنوں سوات کے ایک سابق ممبر اسمبلی نے میڈیا کے نمایندوں سے گفت گو کر تے ہوئے صوبائی حکومت اور ان کے حلقے سے موجودہ ممبر صوبائی اسمبلی کے خلاف شکایات اور اعتراضات کے انبار لگا دیئے۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے اعتراضات اور شکایات د رست بھی ہوں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب کوئی سیاسی رہنما اقتدار میں ہوتا ہے، تو وہ کرسی کے نشہ میں مست ہوتا ہے۔ عیش و آرام کا خوب لطف اٹھاتا ہے۔ اگر چہ ان کا حلقہ مسایلستان ہوتا ہے اورلوگ مسایل کے انبار تلے دبے ہوئے ہوتے ہیں لیکن اسے کوئی پروا نہیں ہوتی۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ کل پھر مجھے انھی عوام کے پاس جانا ہے، لیکن جب سر سے اقتدار کا نشہ اترتا ہے اور عوام اسے مسترد کرتے ہیں۔اور پھر اس کے پاس نا کامی کے سواکچھ نہیں رہتا، تو یہ پھر نئے منتخب ہونے والوں کے لیے درد سر بننے کی کوشش کرتا ہے۔ وہی مسایل جو اس کے چھوڑے ہوئے ہوتے ہیں، پھر اس کی سیاسی دکان چمکانے کا سامان بن جاتے ہیں۔
قارئین کرام! مذکورہ سابق ممبر کے دورِ اقتدار میں ان کے گھر ہی کے قریب چند گز کے فاصلے پر سیکڑوں گھروں پر مشتمل آبادی میں پانی کی کمی سمیت دیگر مسایل تھے۔ جس کی وجہ سے سخت گرمی کے موسم میں رمضان المبارک کے مہینے میں ٹرانس فارمر کئی بار خراب ہوا تھا اور علاقے کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنی جیب سے ٹھیک کروایاتھا۔ ٹرانس فارمر کے بار بار خراب ہونے پر علاقے کے لوگ اپنی فریاد مذکورہ ایم پی اے کے پاس لے گئے اور اسے اپنے مسایل سے آگاہ کرنے کی کئی بار کوشش کی لیکن ایم پی اے صاحب نے علاقے کے خراب ٹرانس فارمر کا کوئی حل نہیں نکالا، جس پر علاقے کے لوگوں نے سخت احتجاج شروع کیا۔ ’’چندہ برائے ٹرانس فارمر مرمت مہم‘‘ بھی چلائی گئی لیکن ایم پی اے صاحب کی دو حویلیوں کو دو ٹرانس فارمر موجود تھے، وہ اے سی کے ٹھنڈے اور پرسکون ماحول میں مزے سے محو استراحت تھے، اسے عام لوگوں سے کیا لینا دینا تھا؟ بالآخر ان غریب لوگوں کی چیخ و پکار اس وقت کے میجر جنرل غلام قمر نے سنی۔ ان لوگوں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ان کے لیے آرمی کے فنڈ سے ٹرانس فارمر منظورکروایا اور یو ان کا یہ مسئلہ حل ہوگیا۔
یہ ہی نہیں بلکہ مذکورہ ایم پی اے صاحب کے دو محلات کے لیے جب سوئی گیس پہنچی، تو ان سیکڑوں گھروں کو محروم رکھا گیا جو ایم پی اے موصوف کے ایک طرح سے پڑوسی تھے اور لاین بھی ان کے گھروں کے سامنے سے گزرتی تھی۔ اس پر علاقے کی ’’خواتین‘‘ نے شدیداحتجاج کیا۔ اس وقت ان گھروں کو گیس کنکشن نہ دینے کی وجہ سے گیس پایپ لاین کاٹنے اور سڑک کو کھودنے کی دہمکی دی گئی، تب ایم اپی اے صاحب نے ان لوگوں کو خاموش کرانے کے لیے چار پانچ گھروں کے گیس کنکشن منظور کیے جن میں دوتین گھر خود ان کے کارکنان کے تھے۔ باقی پورا علاقہ اب سوئی گیس کی نعمت سے محروم ہے۔ اب اگر انھیں سوات کے لوگوں کی فکر ہے، تواُس وقت مسایل میں دبے ہوئے سیکڑوں گھروں پر مشتمل علاقہ کو کیوں نظر انداز کیا گیا تھا۔ مذکورہ ایم پی اے صاحب اس وقت لوگوں کی خدمت کو اپنا شعار بناتے، تو آج صاحب اعتراضات کی بہ جائے صاحب اقتدار ہوتے۔جاتے جاتے یہی کہوں گا کہ اگر آج ووٹ مانگنے والے، منتخب ہوکر کل عوام کی خدمت کریں، تو ان پر کیوں کوئی انگلی اٹھائے گا؟
668 total views, no views today


