آج کل سوات میں بلدیاتی انتخابات کی گرما گرمی نظر آ رہی ہے۔ تمام سیاسی پارٹیوں نے تحصیل کونسلر، ضلعی کونسلر اور دیگر متعلقہ نشستوں کے لیے اپنے امیدواروں کا چناؤ مکمل کرلیا ہے۔ ہر پارٹی کا اُمیدوار حسبِ معمول بلند بانگ دعوے کرتا نظر آ رہا ہے، لیکن اصل مقابلہ تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اُمیدواروں کے درمیان ہوگا۔ بعض حلقوں سے آزاد اُمیدواروں کی کام یابی کے امکانات بھی موجود ہیں۔ کیوں کہ ہماری مقامی سیاست میں اب بھی ’’ڈلہ پرہ‘‘ کا فیکٹر نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ بلدیا تی انتخابات کا حکومتی فیصلہ نہایت احسن ہے۔ پچھلی دفعہ یہ انتخابات لوکل گورنمنٹ کے تحت سابق جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ دور میں ہوئے تھے، لیکن اب ایک طویل عرصہ کے بعد بلدیاتی انتخابات کسی جمہوری دور میں منعقد ہو رہے ہیں جو ایک نیک فال ہے۔ اس سے مقامی سطح پر جو لیڈرشپ ابھرے گی، اسے عوامی مسایل کا حقیقی ادراک حاصل ہوگا اور یہی لیڈر شپ جب صوبائی اور قومی سطح پر انتخابات میں حصہ لے گی، تو وہ بڑی حد تک عوام کے بنیادی مسایل اور مشکلات سے آگاہ ہوگی۔ بلدیاتی انتخابات مستقبل کی سیاسی لیڈر شپ کے لیے بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہی سے نو آموز سیاست دانوں کی تربیت ہوتی ہے، جو آگے چل کر انھیں صوبائی اور قومی سطح پر اچھے سیاست دان کی خوبیوں سے نوازتی ہے۔
سوات میں فوجی آپریشنوں کے بعد امن و امان کی صورت حال قدرِ تسلی بخش ہے لیکن قیام امن کے بعد دوسرا جاں گسل مرحلہ ’’ٹارگٹ کلنگ‘‘ کا ہے جو کسی طور پر رُکنے میں نہیں آ رہا ہے۔ امن کمیٹیوں کے ممبران خصوصی طور پر اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔ تاہم ابھی گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما اور یو سی قمبرسے ضلعی کونسل کے لیے اُمید وار اکبر علی ناچارؔ کو نامعلوم افراد نے گولی کا نشانہ بنایا جس سے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواروں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کا یہ نیا سلسلہ بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس سے قبل چھ اپریل کو فضل حیات چٹان (شہید) کے بھائی اور پیپلز پارٹی کے سرگرم رکن سکندر حیات المعروف سید علی خان کو بھی نامعلوم افراد نے بالکل اُسی انداز میں گولی مار کر شہید کردیا تھا، جس طرح ان کے بھائی فضل حیات چٹان کو شہید کردیا گیا تھا، لیکن مقامی پولیس اور سوات میں مقیم فوجی حکام نے ابھی تک کسی ’’ٹارگٹ کلر‘‘ کو گرفتار نہیں کیا ہے۔ یہ صورتِ حال قانون نافذ کرنے والے سِول اور عسکری اداروں کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔ بڑھتے ہوئے اس ٹارگٹ کلنگ پر اگر قابو نہیں پایا گیا، تو یہ معاملہ سوات میں فوج کی موجودگی اور ان کی صلاحیت کے لیے سوالیہ نشان بن سکتا ہے۔ پاک فوج نے جس بہادری او رجاں نفشانی سے سوات سے دہشت گردوں کا خاتمہ کردیا ہے، انھیں اسی جوش اور جذبے سے ٹارگٹ کلنگ کے خاتمہ کے لیے بھی اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانی چاہئیں اور سوات میں موجود خوف کی مسلسل فضا کو ختم کرنا چاہیے۔ بلدیاتی انتخابات میں امن و امان کی صورتِ حال قایم رکھنے کے لیے مقامی انتظامیہ اور فوج کو ابھی سے لایحہ عمل مرتب کرنا چاہیے۔ ایسے مواقع پر شرپسند عناصر عموماً زیادہ کھل کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے تمام اُمیدواروں کو خود بھی احتیاط برتنی چاہیے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بھی فرض بنتا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فول پروف انتظامات کریں۔
بلدیاتی انتخابات پی ٹی آئی کی موجودہ صوبائی حکومت کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے صوبے کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ صوبہ خیبر پختون خوا کو ایک مثالی صوبہ بنائیں گے لیکن ان کی حکومت کو دو سال سے زاید عرصہ گزر چکا ہے لیکن وہ ابھی تک اپنے اس وعدہ کی ابتداء کرنے میں بھی ناکام چلے آ رہے ہیں۔ سوات میں موجودہ صوبائی حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی ایسا غیرمعمولی کام نظر نہیں آیا جس کے بل پر بلدیاتی انتخابات میں وہ عوام کا ووٹ غیر معمولی طور پر حاصل کرسکے۔ تاہم عوام کا بڑا حلقہ اب بھی عمران خان سے مایوس نہیں ہوا ہے اور وہ پُرامید ہے کہ عمران خان تبدیلی کے اپنے نعرے کی لاج رکھیں گے اور صوبہ خیبر پختون خوا کو ایک مثالی صوبہ بنانے میں کام یاب ہوں گے۔
صوبہ خیبر پختون خوا کے مقابلہ میں صوبہ پنجاب میں تعمیر و ترقی کے کام خاصے زور و شور سے جاری ہیں۔ چاروں صوبوں میں صوبۂ پنجاب واحد صوبہ ہے جس کے وزیراعلیٰ شہباز شریف مسلسل اپنے صوبے کی تعمیر و ترقی کے لیے خلوصِ دل سے کوشاں ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ ترکی اور چین کی مدد لینے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں لیکن موجودہ حالات میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان محض الزام تراشی اور احتجاجی دھرنوں کی سیاست پر تکیہ کیے ہوئے ہیں لیکن وقت بڑی تیزی سے ان کے ہاتھ سے ریت کی طرح پھسلتا جا رہا ہے۔ انھوں نے اگر صوبہ خیبر پختون خوا میں اپنے تبدیلی کے دعوے کو سچ ثابت نہیں کر دکھایا، تو آیندہ عام انتخابات میں ان کی سیاسی پوزیشن خاصی کم زور ہوگی اور موجودہ بلدیاتی انتخابات میں بھی تحریک انصاف وہ کام یابی حاصل نہیں کرسکے گی جس کی اُمید کی جا رہی ہے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
1,136 total views, no views today


