ماسٹر عمر واحد
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں وفات پاچکی۔ کوہِ طور سے واپسی پر راستے میں ہاتفِ غیبی سے آواز آئی کہ موسیٰؑ ! اب سنبھل کے رہنا کیوں کہ جو ہاتھ تمھارے پیچھے دعا کے لیے اُٹھتے تھے، اب وہ دنیا میں نہیں رہے۔
ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے باری تعالیٰ سے پوچھا کہ جنت میں میرا پڑوسی کون ہوگا؟ جواب ملا کہ فلاں قصاب ہے اور فلاں بستی میں رہتا ہے۔ چناں چہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُس بستی میں اس قصاب کے پاس گئے اور پوچھا کہ وہ ایسا کون سا عمل کرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اُسے یہ مقام عطا کیا ہے۔ قصاب، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنے گھر لے گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ اس نے اپنی بوڑھی ماں کو سہارا دے کر بٹھایا اور اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا، تو اس کی ماں نے اُسے دعا دی کہ اللہ تعالیٰ تجھے جنت الفردوس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پڑوسی بنادے۔
خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کی مائیں زندہ ہیں اور وہ ان کی خدمت کرتے ہیں۔ والدین کی خدمت اور احترام ایک ایسا عمل ہے جس کے نتیجے میں انسان دونوں جہانوں کی کامیابیاں اور کامرانیاں حاصل کرتا ہے۔
1872ء میں جولیا وارڈ نامی ایک انگریز نے ایک دن کو ماؤں کے نام منسوب کرنے کا خیال پیش کیا اور وہ سال میں مئی کے ایک سنڈے کو ماں سے محبت کا دن مناتا رہا۔ یہ مدر ڈے کی تاریخ میں ایک انوکھا آئیڈیا تھا۔
1907ء میں فلاڈلفیا کی ایک ٹیچر ایناچاریوس نے اپنی ماں این چاریوس جاریوس کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ’’مدر ڈے‘‘ منانے کی تحریک شروع کی۔ پہلا مدر ڈے اس طرح منایا گیا کہ اسکول میں مس اینا کی ماں کے لیے دعا کرائی گئی۔ آخر کار 1914ء میں مس اینا کی کوششیں رنگ لائیں اور امریکی صدر ولسن نے ماؤں کے ساتھ عقیدت کا اظہار کرنے کے لیے مئی کی دوسری اتوار کو قومی چھٹی قرار دیا۔ اور آخر کار ماؤں سے محبت کا دن مقبولیت اختیار کرگیااور اسی طرح ہر سال آٹھ مئی کو ماؤں سے محبت کا دن ساری دنیا میں منایا جانے لگا۔
ہر انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ اپنی ماں سے پیار اور محبت کرے۔ اسی طرح ماں کا احترام اور اس کی خدمت انسانی، اخلاقی اور مذہبی فریضہ ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب اور عظیم شخصیات ماں کے احترام اور تقدس کی قایل ہیں۔ یونانی فلاسفر ارسطو کا کہنا ہے کہ ’’انسان کی پہلی درس گاہ ماں کی آغوش ہے۔‘‘ مشہور ادیب اور ڈرامہ نگار شیکسپیئر کہتا ہے کہ ’’دنیا کی تمام محبتیں پیار سے ماں کہتے ہی مل جاتی ہیں۔‘‘ نادر شاہ کہتا ہے کہ ’’مجھے ماں اور پھول میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔‘‘ مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر کا کہنا ہے کہ ’’ماں کے بغیر گھر قبرستان لگتا ہے۔‘‘ ایک دوسرا مفکر کہتا ہے کہ ’’آسمان کا بہترین اور آخری تحفہ ماں ہے۔‘‘ دین اسلام میں بھی والدین خصوصاً ماں کے حقوق، احترام اور تقدس پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’’تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو مگر صرف اللہ کی۔ والدین کے ساتھ نیک سلوک کیا کرو۔ اگر تمھارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہوکر رہیں، تو انھیں اُف تک نہ کہو اور نہ انھیں جھڑک کر جواب دو بلکہ ان کے ساتھ ادب سے جھک کر نرمی اور احترام سے بات کرو۔‘‘ (سورۃ بنی اسرائیل، آیات 24-3)
اللہ کے آخری رسول ﷺ کا ارشادِمبارک ہے کہ ’’جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔‘‘
ماں سے محبت ایک فطری جذبہ ہے جو قدرت نے انسانوں کے علاوہ جانوروں میں بھی پیدا کیا ہے۔ ماں ایسی چھاؤں ہے جس کی آغوش میں آرام، خوشی اور سکون ہیں۔ ماں کا لفظ سنتے ہی دل میں محبت اور شفقت کے جذبات اُمڈ آتے ہیں۔ ہم بھی اپنی ماں (مرحومہ) سے بہت محبت کرتے تھے۔ وہ بھی ہمیشہ ہم پر شفقت فرماتی اور دعائیں دیتی۔ ہم گھر آتے، تو ہمیشہ ہماری خیریت دریافت کرتی اور کھانے کا پوچھتی۔ اب وہ باتیں ہمارے خواب و خیال ہوگئیں جو ہماری زندگی میں دوبارہ کبھی نہیں آئیں گی۔
بعض اوقات جب کوئی شخص اپنی حمیت کا اظہار کرتا ہے، تو کہتا ہے کہ میرے رگوں میں اپنے والد کا خون دوڑ رہا ہے لیکن اس کے ساتھ کوئی اپنی حمیت کے مارے یہ بھی کہتا ہے کہ میں نے اپنی ماں کا دودھ پیا ہے۔ الغرض ماں کی عظمت اور تقدس اس قدر ہے کہ ایک روایت کے مطابق بہ روزِ قیامت ہر شخص کو خدا کے حضور اس کی ماں کی معرفت بلایا جائے گا۔
892 total views, no views today


