سوات میں بلدیاتی انتخابات کے لیے تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہیں۔ سیاسی جوڑتوڑ عروج پرہے۔ کل کے حریف آج کے حلیف اور کل کے دوست آج ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ سوات کی سات تحصیلوں کے مختلف حلقو ں کے لیے پانچ ہزار پانچ سو پچاس امیدوارں کو انتخابی نشانات دیئے گئے ہیں اور سیاسی جلسے زور وشور سے جاری ہیں۔ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے مراعات اور اختیارات کا خواب دیکھ رہے ہیں اور بہ ظاہر ایسا دکھایا جا رہا ہے کہ تمام مسایل بلدیاتی انتخابات کے ذریعے ہی حل ہوں گے۔ سوات جہاں اٹھارہ لاکھ سے زایدلوگ بستے ہیں، ان کے مسایل ملک کے دیگر حصوں سے الگ نہیں ہیں۔ یہاں اولاً شورش اور پھر دوہزار دس کے سیلاب نے جومسایل کھڑے کیے ہیں، تاحال سوات ان کے اثر سے نہیں نکل سکاہے۔ سوات میں قیام امن کے بعد سب سے بڑا مسئلہ شدت پسندوں کی جانب سے ’’ٹارگٹ کلنک‘‘ کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ اب تک درجنوں امن کمیٹی کے ممبران اور مخالفین کو قتل کیا جا چکا ہے۔ چند دن قبل قمبر میں امن کمیٹی کے ممبر اور ضلعی کونسلر کے امیدوار اکبرعلی ناچار کو قتل کیا گیا۔ اس طرح متعدد افراد کو دہمکی آمیز خطوط اور افغانستان سے کالز آ رہی ہیں، جس کی وجہ سے مقامی لوگوں اور خاص کر سیاسی مشران خوف کے عالم میں کام کر رہے ہیں۔ اس حوالہ سے سیکورٹی اداروں کا کہناہے کہ ان کی کوشش ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں کو پکڑا جاسکے۔ ان کے بہ قول ان کی مجبوری یہ ہے کہ اگر چیک پوسٹوں پر سختی کی جائے، تو لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرناپڑتاہے۔ سیکورٹی اداروں کے بہ قول ٹارگٹ کلر کہیں اور سے نہیں آتے، یہاں مقامی لوگ ہیں جن کا کسی نہ کسی طرح شدت پسندوں کے ساتھ رابطہ ہے جس کی روک تھام کے لیے مقامی لوگوں کو سیکورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کی اشد ضروت ہے۔ دوسری طرف عام لوگوں کا خیال ہے کہ سیکورٹی اداروں کے ساتھ تعان اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ کیوں کہ ایک طرف شدت پسندوں کی جانب سے خطرہ ہوتاہے، تو دوسری طرف پولیس اور دیگر ادارے گواہوں اور مخبری کرنے والوں کا جینا دوبھر کردیتے ہیں۔ نیز سرکاری اداروں کا طریقۂ کار اتنا مشکل اور ناخوش گوار ہوتاہے کہ آیندہ کے لیے لوگ توبہ تایب ہوجاتے ہیں۔ اب مقامی حکومتوں کے لیے کام کرنے والوں پر امن وامان برقراررکھنے کی ذمہ داری ڈالی جا رہی ہے۔یہ لوگ امن قایم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ ان بلدیاتی نمایندوں کا عام لوگوں کے ساتھ بہ راہ راست رابطہ ہوتا ہے اور ان پر عام لوگ اعتماد بھی کرتے ہیں۔ اس طرح بلدیاتی انتخابات میں منتخب ہونے والے لوگ جن میں بیش تر امن کمیٹی کے ارکان بھی ہیں، ان کے لیے تھوڑی بہت مشکلات موجود ہیں، مگر امن و امان برقراررکھنے والے تمام ادارے اس بات پرمتفق ہیں کہ سوات میں مستقل امن کے قیام کے لیے عام لوگوں کا سیکورٹی اداروں کے ساتھ تعاون بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر علاقے میں امن کا مستقل قیام ممکن نہیں ہے۔ بلدیاتی انتخابات لڑنے والوں کو اس بات کا ادراک ہے۔ خاص کر سوات کے مضافات والوں کو جن میں تحصیل مٹہ، کبل ، چارباغ، خوازہ خیلہ کے علاقے شامل ہیں۔ اس طرح اگر صورت حال کو دیکھا جائے تو واقعی سوات کے تمام علاقوں میں ٹارگٹ کلر موجود ہیں اور ایک دو کے علاوہ سیکورٹی ادروں نے ابھی تک کسی خاص ٹارگٹ کلر کو گرفتار کیا ہے نہ اس نیٹ ورک کو توڑنے میں کامیاب ہی ہوسکے ہیں۔پولیس کے مطابق اس میں سب سے بڑی مشکل افغانستان کے موبایل نیٹ ورک ہیں جن کا ریکارڈ حاصل کرنابہت مشکل ہے۔
اب موجودہ صورت حال یہ ہے کہ سوات میں خراب سڑکیں، اسکولوں کی تعمیر، سیاحت کا فروغ، بے روزگاری، مہنگائی اور ترقیاتی کاموں کو جاری رکھنا جیسے مسایل ہیں لیکن ان سے بڑے مسایل امن کا قیام، ٹارگٹ کلنگ کو روکنا اور بھتہ خور گروپوں کو پکڑنا ہیں۔ یہ گروپ ’’طالبان‘‘ کے نام پر مختلف لوگوں کو دہمکیاں دیتے ہیں اور سوات میں خوف کی ایک فضاکو قایم کیے ہوئے ہیں، مگر سوات کے لوگ جو ایک مشکل ترین دور سے گزر کر یہاں تک پہنچے ہیں، اس طرح کے واقعات سے قطعاً نہیں گھبراتے۔ عوامی حلقے سمجھتے ہیں کہ ان کو کس لیے اور کیوں مشکل میں ڈالا جا رہا ہے۔ اب سوات کے لوگوں میں شدت پسندوں کے ساتھ لڑنے اور ان کو آشکارا کرنے کی صلاحیت سر چڑھ کر بولنے جا رہی ہے۔ مگر پھر بھی امن وامان کو برقرار رکھنا ’’سیکورٹی اداروں‘‘ کی ذمہ داری ہے۔
718 total views, no views today


