مینگورہ، بلدیاتی انتخابات کے امیدواروں کو ملنے والے نشانات کیوجہ سے امیدواروں کو مشکلات کا سامنا،سیاسی رہنماوں نے سازش کا حصہ قرار دیکر آزادانہ انکوائری کا مطالبہ کرڈالا، پالش برش ،سرنج، پنجرہ ،شٹل کاک ،تھرموس، چوہا، کیلا جیسے نشانات امیداروں کیلئے بھاری ثابت ہورہے ہیں بعض کو ایسے نشانات بھی ملے ہے جس کو پختون معاشرہ میں پسند نہیں کیا جاتا اور اسے اپنے شرمندگی کا باعث سمجھتے ہیں ۔بلدیاتی انتخابات میں امیدواروں کو عجیب نشانات ملنے کیوجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
کئی مقامات پر امیدوار الیکشن مہم میں شرمندگی محسوس کررہے ہیں ،الیکشن لڑنے والے ایک امیدوار کا کہنا ہے کہ مجھے چوہے کا نشان الاٹ کیا گیا ہے نشان کیوجہ سے نہ مہم چلا سکتا ہو اور نہ ہی ووٹ مانگ سکتاہو چوہے پر مہر لگا کر مسائل کے حل جیسے بات کرنے پر اکثر اوقات شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی طرح کے خیالات دوسرے امیدواروں کے بھی رہے،سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے ان نشانا ت کو سازش کے تحت شامل کیا گیا ہے اسی طرح کے نشانات انتخابات میں شامل کرنے سے صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن نے اپنے نااہلی کا واضح ثبوت دیا ہے خیبر پختونخوا میں اسی قسم کے نشانات انتخابات میں شامل کرناپختون قوم کے خلاف چلنے والے مہم کا حصہ قرار دیکر کئی سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے سپریم کورٹ سے معاملہ کے ازادانہ انکوئری کرنے کی اپیل کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ لوگوں پر واضح کیا جائے کہ ان نشانات کے پیچھے کیا مقاصد حاصل کرنا مقصود تھے۔
415 total views, no views today


