بریکوٹ ، سوات میں بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے عوام میں کافی گرم جوشی پائی جاتی ہے ۔امیدواروں کو نشانات الاٹ ہونے کے بعد اب ان کی ساری توجہ عوامی اجتماعات پر ہے اور گھر گھر جاکر عوامی رائے کو اپنے حق میں بھرپور کوشش کررہے ہیں ۔روڈ کنارے اور بازار وں میں بڑے بڑے سائن بورڈ اور دیگر ایسی اشتہارات امیدواروں کی طرف سے نصب ہیں جو کہ الیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط کے کھلی عام خلاف ہے اور ان کے خلاف تادم تحریر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہے ۔پی کے 82تحصیل بریکوٹ کے پانچ وارڈ ز میں اس وقت 220امیدوارن میدآن میں ہیں ۔بریکوٹ وارڈ سے ضلعی کونسل کے لئے پی ٹی آئی سے سجاد علی خان ،اے این پی سے ناصر خان ،پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علماء اسلام سے عجب خان ،پاکستان پیپلز پارٹی سے علی مند خان ،قومی وطن پارٹی اور پختون خواہ ملی عوامی پارٹی سے مشترکہ امیدوار حاجی رحمان ،آزاد امیدوار انجینئر شرافت علی خان ،جبکہ تحصیل کونسل سے جماعت اسلامی سے عطاء اللہ ،پی ٹی آئی اسد علی خان ،اے این پی سے فضل اکبر خان ،جمعیت علماء اسلام اور مسلم لیگ (ن) کا مشترکہ امیدوار حاجی شاہی نواب ،پاکستان پیپلزپارٹی شجاع الملک،پختون خواہ ملی عوامی پارٹی او ر قومی وطن پارٹی کے مشترکہ امیدوار خائستہ گل ،آزاد امیدوار دانش مند خان اور جاوید خان اثر شامل ہیں ۔اس وارڈ پر پاکستان تحریک انصاف دو حصوں میں بٹ گیا ہے کیونکہ ضلعی کونسل میں پارٹی سے دو امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جو کہ پارٹی کے لئے نقصان دہ ثابت ہو گا ۔ضلعی کونسل میں مظبو ط امیداروں میں پی ایم ایل (ن)،پی ٹی آئی اور آزا د امیدوار انجینئر شرافت علی خان ہیں ۔ پی ایم ایل (ن) اور جمعیت علماء اسلام کے مشترکہ امیدوار کو ووٹ دیا او ر اتحاد کا خیال رکھا تو عجب خا ن بھر پور مقابلہ کرسکیں گے اس طرح پی ٹی آئی سجاد علی خان کے ساتھ پارٹی ہے او ر صوبائی حکومت ہونے کی وجہ سے وہ مقابلے کے دوڑ میں ہیں ۔پی ٹی آئی کا وہ جنون جو کہ مئی 2013کے عام انتخابات میں تھا اگر وہ ماحول میسر ہوا تو سونامی آسکتی ہے مگر بدقسمتی پی ٹی آئی کی یہ ہے کہ سابق تحصیل بریکوٹ صدر نے ضلعی آزاد الیکشن کا اعلان کردیا ۔پارٹی میں وہ کارکنوں کے لئے بہت ہر دلعزیز شخصیت ہے اور اس کے ساتھ ہمدردی کا ووٹ بھی ہو سکتا ہے اس کے علاوہ وہ ہر پارٹی کے لئے قابل قبول بھی ہیں ۔بعض ذرائع سے معلومات یہ ہیں کہ جماعت اسلام غیر مشروط طور پر انجینئر شرافت علی خان کی حمایت کا اعلان کریں کیونکہ ضلعی کونسل میں جماعت اسلامی کا امیدوار نہیں ہے ۔پریس کانفرنس میں انہوں نے کہاکہ میرا آزاد الیکشن لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھامگر سابق ضلعی صدر نے اخبار ی بیانات کے ذریعے مجھے الیکشن لڑنے پر مجبور کردیا اور اگر الیکشن میں کامیابی حاصل کی تو یہ سیٹ میں پی ٹی آئی کو گفٹ دوں گا ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پارٹی میں میر ی حیثیت ہے اور عمران خان نے بشام میں جلسہ عام میں خطاب کے دوران میں کہا تھا کہ بلدیاتی الیکشن میں نشان کو نہیں بلکہ شخصیت کو دیکھ کر ووٹ دیں ۔تحصیل کونسل بریکوٹ وارڈمیں اے این پی فضل اکبر خان ،پی ٹی آئی اسد خان اور جماعت اسلامی عطاء اللہ خان کے مابین مقابلے کی توقع ہے ۔پی ٹی آئی کے امیدوار اسد علی خان کے حق میں جاوید خان اثر میں الیکشن سے دستبردار بھی ہوگئے ہیں جو کہ پی ٹی آئی کے لئے بہتر ہوا مگر دانش مند با چہ بھی پی ٹی آئی کا کارکن تھا وہ اب آزاد الیکشن لڑنے کے لئے میدآن میں کود پڑے ہیں جو کہ پی ٹی آئی کے لئے خطرے کی گھنٹی بج سکتی ہے ۔اے این پی بلدیاتی الیکشن سے پہلے سخت اختلافات کا شکاری تھی مگر خوش قسمتی سے انہوں نے الیکشن سے قبل اپنے اختلافات ختم کرائیں اور ایک مظبوط امیدوار فضل اکبر خان کی حیثیت سے امیدوار کو ٹکٹ جاری کیا ۔اس وقت فضل اکبر خان ایک مظبوط امیدوار کے حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں ۔جماعت اسلامی کے نامزد تحصیل امیدوار عطاء اللہ بھی مقابلے کے دوڑ میں شامل ہے ۔تحصیل بریکوٹ کے علاقہ وراڈ کوٹہ میں تقریباً 23ہزار ووٹ رجسٹرڈ ہیں اور یہ علاقہ سوات کے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے ۔یہاں پر دنیا کی بہترین پھل پیدا ہوتی ہے جوکہ ملک کے معیشت میں اہم کردار ادا کرتاہے ۔اس علاقے سے ضلعی کونسل کے لئے سات مختلف پارٹیوں اور آزاد امیدواران جبکہ تحصیل کونسل سے نو امیداوران اپنے قسمت آزما رہے ہیں اس کے علاوہ جنرل کونسلر ز،کسان کونسلر ز،یوتھ کونسلرز،خواتین کونسلر ز بھی میدان میں کود پڑے ہیں ۔ضلعی کونسل امیداواران میں قومی وطن پارٹی سے صدیق علی خان ،پاکستان مسلم لیگ (ن) سے نصراللہ خان ،جمعیت علماء اسلام سے فضل واحد ،جماعت اسلامی سے عجب خان ،پاکستان تحریک انصا ف سے عبدالقیوم خان جبکہ دو امیداواران لال بہادر اور نیاز احمد خان شامل ہیں ۔اس وارڈ میں اے این پی اور پی ایم ایل نے اتحاد بھی کیا ہے۔یہ اتحاد دونوں پارٹیوں کے لئے بہت اہمیت رکھتاہے اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے امیدوار نصراللہ خان سابق ناظم بھی رہ چکے ہیں جوکہ ان کے لئے ایک مثبت پوائنٹ ہے مگر بدقسمتی سے نیاز احمد جو کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اہم اکائی ہے ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں جو کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لئے خطر ے کی گھنٹی بھی ثابت ہو سکتی ہے ۔پاکستان تحریک انصاف حکومتی پارٹی ہے اور اس کے امیدوار کو الیکشن میں بہت ہاتھ دے سکتا ہے ۔اس پارٹی میں نوجوانوں نے ماضی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور اگر یہ نوجوان اب بھی ساتھ رہے تو وہ الیکشن میں اچھی کارکردگی کا مظاہر ہ کرسکتی ہے مگر بدقسمتی سے وہ بھی شدید اختلافات کا شکار ہے پارٹی قائدین اگر بروقت اختلافات کا خاتمہ نہ کرسکے تو اس سیٹ سے ہاتھ دھو سکتے ہیں ۔قومی وطن پارٹی سے صدیق علی خان ایک مظبوط امیدوار کی حیثیت سے میدان میں ہیں کیونکہ علاقے میں وہ ایک خدائی خدمت گار کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہر طبقے کے لوگ ہیں مگر قومی وطن پارٹی سے بھی آزادلال بہادر خان کے نام سے الیکشن لڑرہا ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ امیدوار بھی جتنے والوں کے صف میں ہے اگر یہ کہاجائے کہ نصراللہ خان ،صدیق علی خان ،لال بہادر ،کے درمیان مقابلہ ہو گا تو غلط نہ ہوگا۔اس طرح تحصیل کونسل کے ٹوٹل امیدواران نو ہیں ان میں امیدواران قومی وطن پارٹی سے طاہر خان ،اے این پی سے واحد کرم،پی ٹی آئی ڈاکٹر عزت الرحمان ،پاکستان پیپلز پارٹی سے مختار رضا ،جمعیت علماء اسلام سے مفتی امیر نواز خان ،جبکہ آزاد امیدواران میں محمد شاہ خان ،نظر حسین ،بخت روان خان،واجد خان شامل ہیں ۔پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اے این پی کے مشترکہ امیدوار واحد کرم ہیں جو کہ مظبوط امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑے گا ۔مگر بدقسمتی سے پاکستان مسلم لیگ(ن)بھی اختلافات کا شکار ہوکر آزاد حیثیت سے اسی پارٹی کا رکن واجد خان الیکشن لڑ رہا ہے ۔قومی وطن پارٹی طاہر خان بھی ایک سیاسی اثر رسوخ رکھتاہے اور اس الیکشن میں اپنا کام دکھائے گا۔پاکستان تحریک انصا ف کے ڈاکٹر عزت الرحمان کو پارٹی سے ٹکٹ ملا ہے اور ایک مظبوط امیدوار بھی ہیں مگر پارٹی اختلافات جو کہ اسی پارٹی کا رکن نظر حسین اپنے ہی پارٹی کو شدید نقصان پہنچے کا باعث بن سکتاہے ۔جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام دونوں اتحاد کرتے تو دونوں کے مشترکہ امیدوار اس الیکشن میں مذید بہتر کارکردگی دکھاسکتے تھے ۔وارڈ پارٹی سے اے این پی کے نامزضلعی د امیدوار عمر علی شاہ ایڈوکیٹ ،پی پی پی فیاض احمد،جماعت اسلامی سے شریف خان ،پی ٹی آئی اصغر علی ،جمعیت علماء اسلام اور پاکستان مسلم لیگ (ن) مشترکہ امیدوار فضل محمد ،جبکہ تحصیل کونسل اے این پی سے رضا خان ،پی ٹی آئی احمد روم ،جماعت اسلامی آیاز خان ،مسلم لیگ (ن) سے عدنا ن خان ،شامل ہیں ۔اس وارڈ پر پی پی پی،اے این پی اور پی ٹی آئی کا کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے ۔پی ٹی آئی امیدوار نوجوان قیادت ہے اور صوبائی حکومت کے ناطے وہ الیکشن میں اپنا مقام رکھتا ہے مگر موجودہ صوبائی حکومت نے ناگوہا چشمہ سے شموزئی کو پانی کی فراہمی نے پی ٹی آئی کو شدید مشکلات پید ا کردی ہیں ۔اس منصوبے کے تین علاقے خلاف ہیں ،گاؤں ناگوہا ،ڈیدہ ور اور تیر نگ کے عوام خلاف ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ اس پانی سے ہمارے ہزاروں جرب زمین سیراب ہو تی ہے اور اگر یہ منصوبہ مذکورہ چشمے پر منظور ہوا تو زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچے گا اور وہاں کے عوام نے اس منصوبے کے خلاف شدید احتجاجی مظاہر ے بھی کئے ہیں ۔حکومتی پارٹی کے علاوہ مظبو ط دو پارٹیاں پی پی پی اور اے این پی بھی الیکشن میں اپنا بھر پور اثرات رکھتے ہیں اسی طر ح تحصیل کے امیدواروں کا یہی حال ہے ۔وارڈ شموزئی سے پاکستان مسلم لیگ (ن) سے نامزد امیدوار عدالت خان ،پی ٹی آئی سے زمین خان ،اے این پی سے ارشد خان ،قومی وطن پارٹی اور جمعیت علماء اسلام کے مشترکہ امیدوار مصطفی کمال ،جماعت اسلامی سے جاوید خان ،جبکہ تحصیل کونسل مسلم لیگ ن(ن) سے تلاوت خان ،پی ٹی آئی سے گوہر ایوب ،اے این پی سے احمد فاروق عرف بابو،جے یو آئی اور قومی وطن پارٹی کا مشترکہ امیدوار خلفتہ اللہ،جماعت اسلامی سے شامل ہیں ۔اس وارڈ پر اے این پی ،پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کا سخت مقابلہ ہوگا ۔جماعت اسلامی کے امیر سیراج الحق اس علاقے کا بہت جلد دور ہ کرنے والے ہیں ان کا یہ دورہ کتنا کامیاب ہو گا یہ 30مئی کو ثابت ہوجائے گا ۔ رپورٹ: ریاض احمد بریکوٹ سوات نیوز ڈاٹ کام
706 total views, no views today


