سوات، بشام کے علاقہ شنگ میں نوجوان نے پولیس روےئے سے تنگ آکر گلے میں پھندہ ڈال کر خود کو پھانسی پر لٹکا دیا واقعہ کے خلاف ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شانگلہ موقعہ پر پہنچ گئے۔ عوام کا بشام پولیس سٹیشن کے سامنے لاش رکھ کر احتجاجی مظاہرہ ۔پھانسی چڑھنے والے نوجوان کے بھائی جس طرح ایف آئی ار درج کرنا چاہے درج کرینگے۔
ڈی پی او شانگلہ کی مظاہرین کو یقین دہانی ۔ تفصیلات کے مطابق شنگ کے رہائشی نوجوان ریحان ولد طالعزر نے عیدگاہ شنگ کے قریب درخت میں پھندا ڈال کر خود کو پھانسی پر چڑھا دیا واقعہ کی اطلا ملتے ہی لواحقین اور ہزاروں افراد جائے وقوعہ پر جمع ہوگئے پھانسی چڑھنے والے نوجوان ریحان کے والد نے بتایا کہ پولیس انہیں بے جا تنگ کررہی تھی اور ایس ایچ او امجد اقبال نے انہیں مبینہ طور پر دھمکی دی تھی جس کے ڈر سے ریحان نے خود کو پھانسی پر چڑھا دیا ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایس ایچ او امجد اقبال کے خلاف ایف آئی ار درج کی جائے ۔ڈی پی او شانگلہ فیصل شہزاد موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ واقعہ میں ملوث ایس ایچ او کے خلاف کاروائی ہوگی بعد ازاں مقامی لوگ لاش اٹھا کر بشام پولیس سٹیشن کے سامنے پہنچ گئے اور پولیس کے خلاف نعرہ بازی کی ۔ اس موقع پر عمائدین علاقہ حاجی محمد طاہر،شیرین زادہ خان، حبیب الرحمن بھی موجود تھے ۔ڈی پی او نے فوری طور پر ایس ایچ او امجد اقبال کو معطل کرکے انکوائری کا حکم دے دیا اور کہا کہ پھانسی چڑھنے والے نوجوان کے بھائی جس کے خلاف چاہے مقدمہ درج کرسکتا ہے اس یقین دہانی پر مظاہرین نے اپنا حتجاج ختم کر دیا اور لاش واپس تدفین کیلئے لے گئے، واضح رہے کہ کافی وقت گزرنے کے باوجود برائے نام ضلعی پولیس سربراہ نے اعلانات کی مگر مقدمہ درج نہ ہوسکا ،متعلقہ پولیس سٹیشن کا ایس ایچ او انتہائی با اثر ہے ان کے خلاف کوئی کاروائی کا سوچ بھی نہیں سکتا ایک انسان کی جان ضائع ہوگیا مگر پولیس کے خلاف کاروائی نہ ہونا ایک المیہ ہے ، اگر پولیس کا رویہ اسی طرح عوام کے ساتھ رہا ، تو سابقہ وقتوں میں انجام سب کے سامنے ہے اللہ کے ہاں دیر ہے ، مگر اندھیر نہیں ۔
290 total views, no views today


