بریکوٹ، قوم سے امن کے خاطر ووٹ لیا ‘ جانیں قربا ن کیں مگر قوم سے وعدہ پورا کیا ‘ کپتان نے تبدیلی کے نام پر ووٹ لیا لیکن تبدیلی صرف اپنے گھر میں لائی ‘ حلقہ 82کے ایم پی ائے آج چوری چھپ کے گھوم رہا ہے اور الیکشن کے قوا عد و ضوابط کے مکمل خلاف ورزی میں مصرو ف ہیں اگر مقابلہ کرنا ہے اور مرد کا بچہ ہو تو مید ان میں اؤ ‘ حکومت نے تمام سرکاری کاموں پر پابندی لگائی ہے مگر یہ لوگ خلاف ورزی کررہے ہیں ہم پر کرپشن کے الزامات لگانے والوں نے جیسے ہی اسمبلی میں داخل ہوئے تو اپنی تنخواہ 50ہزار سے بڑھا کر 1لاکھ کردیا ‘ سرکاری گھروں میں رہائش پذیر ہونے کے باوجود حکومتی خزانے سے 70ہزار کرایہ وصول کررہے ہیں‘ یہ ایم پی ائے جو اپنے اپ کو وزیر کہتے ہیں یہ سب جھوٹ ہیں یہ وزیر نہیں ہے بلکہ وزیر اعلیٰ کا معاون خصوصی ہے‘ تبدیلی لائی وہ بھی صرف کپتان کی شادی کی شکل میں ‘مجھے بتائے ہماروں منصوبوں پر اپنے نا م کے بورڈ لگانے والے ایم پی ائے نے پچھلے 2سال میں کونسے سکول بنائیں ایک منصوبہ دیکھائے ‘ قوم بلدیاتی الیکشن میں انکا احتساب کریگا ‘ تمام لوگ اپنے ووٹ اے این پی کے نامز د امیدواروں کے حق میں استعمال کریں اور مزید دھوکے اور فریب سے بچے ‘ ان خیالات کا اظہار سابقہ ایم پی ائے پی کے 82وقار احمد خان ، نامزد امیدوار برائے ضلعی کونسل یوسی پارڑی عمر علی شاہ ،تحصیل کونسل امیدوار رضا خان ،عدالت خان لالاجی ،باچا خان ،امین اللہ خان،شاہی ودود اور فضل اکبر خان نے یوسی پارڑی گاؤں ڈیڈور میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سینکڑوں لوگوں نے عمر علی شاہ اور رضا خان کی حمایت کا اعلان بھی کیا مقررین نے کہا کہ موجودہ حکومت منافقت سے کام لے رہے ہیں ہمارے دور حکومت میں جو منصوبے منظور ہوچکے ہیں اس پر اپنا نام کے بورڈ لگا کر قوم کو بے وقوف بنارہے ہیں قوم مزید کسی کے چالوں میں نہیں ائینگے بلکہ قوم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ اپنے قومی پارٹی عوامی نیشنل پارٹی کے نامزد امیدوراوں کے حق میں اپنا قیمتی ووٹ استعمال کرینگے انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ایم پی ائے چور ی چھپ کے ترقیاتی کام کرتے ہیں اگر مرد کا بچہ ہو تو مقابلے کے لئے میدان میں اؤ اگر حکومت کی طرف سے واقعی پابندی ہے تو پھر یہ شخص کو روکا جائے ‘ ہمارے دور حکومت میں ہم نے تعلیمی انقلاب بر پا کیا تھا صوبے میں وہ سکول ،کالج اور یونیورسٹیاں بنائیں جسکی 65سالوں میں مثا ل نہیں ملتی یہ لوگ تعلیم ،صحت کی ایمرجنسی کی بات کرتے ہیں کونسے سکول بن گئے کونسے صحت کا مرکز بنا ‘ تبدیلی لائی وہ بھی صرف کپتان کی شادی کی شکل میں ۔ہم پر کرپشن کے الزامات لگانے والوں نے جیسے ہی اسمبلی میں داخل ہوئے تو اپنی تنخواہ 50ہزار سے بڑھا کر 1لاکھ کردیا ‘ سرکاری گھروں میں رہائش پذیر ہونے کے باوجود حکومتی خزانے سے 70ہزار کرایہ وصول کررہے ہیں‘ یہ ایم پی ائے جو اپنے اپ کو وزیر کہتے ہیں یہ سب جھوٹ ہیں یہ وزیر نہیں ہے بلکہ وزیر اعلیٰ کا معاون خصوصی ہے‘جب یہ لوگ فارغ ہونگے تو اسکے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہوگی ۔
720 total views, no views today


