جانوروں پر جب کوئی جذبہ حاوی ہوتا ہے، تو وہ اس کے اظہار کے لیے اُچھل کود اور مختلف آوازوں کا سہارا لیتے ہیں۔ حیوان، نطق نہیں رکھتے اس لیے ایسا کرنے پر مجبور ہیں جب کہ انسان حیوانِ ناطق ہے اور اس کو اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے ناطقہ کی صلاحیت دی گئی ہے۔ انسان اپنے اندرونی جذبات کے اظہار کے لیے لفظوں کا سہارا لیتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر انسان کے منھ سے نکلنے والے الفاظ میں موزونیت اور موسیقیت ہو۔ یہ خاصیت ہر انسان کو ودیعت نہیں کی گئی ہے۔ چند لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ما فی الضمیر کو بیان کرنے کے لیے موزوں الفاظ کا سہارا لیتے ہیں اور ایسے لوگوں کو عرف عام میں شاعر کہتے ہیں۔ شاعری ایک طرح سے مرقع سازی ہے، وہ جو کہتے ہیں ع
شبنم ادھر گہر ورق گل پہ جڑ گئی
آج میں جس سخن ور کو موضوعِ بحث بنا رہا ہوں، وہ دیارِ غیر میں کئی سالوں سے خیمہ زن ہیں اور وہاں سے پختو کے دامن کو رنگا رنگ موتیوں سے بھر رہے ہیں۔ موصوف ’’پشتو ڈاٹ نیٹ ویب پیج‘‘ (pashto.net web page) کے روح رواں ہیں اور اس پیج کے ذریعے پختو زبان و ادب کی بے پناہ خدمت کررہے ہیں۔ اس پیج ہی کے ذریعے آپ پختو زبان کی نادر اور قیمتی کتابوں کو آسانی کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ شاید کہ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں ’’خیام یوسف زے‘‘ کی بات کررہا ہوں۔ حال میں موصوف کی ایک کتاب ’’جام، جنون او جانان‘‘ طباعت کے مراحل سے گزر کر قارئین تک پہنچ چکی ہے۔ ایک سو چھتیس صفحات پر مشتمل مجلد، خوب صورت اور دل کش ٹایٹل کی حامل یہ کتاب پختو ادب کے ذخیرے میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ فنی اور فکری حوالہ سے ’’خیام‘‘ کی شاعری اتنی پختہ ہے کہ موصوف پر کسی کلا سک شاعر ہونے کا گماں ہونے لگتا ہے۔ میں بے جا تعریف و توصیف سے کام نہیں لے رہا۔ پختو کے مقولے ’’چی گواہ ئی نہ وی ایمان ئی نہ وی‘‘ کے مصداق مَیں یہ ثابت کرسکتا ہوں کہ خیام یوسف زے پر کسی کلاسک شاعر ہونے کا گماں کیسے ہوتا ہے۔ چلیں، اس دعوے کی دلیل میں ان کے چند اشعار کا تنقیدی جایزہ لیتے ہیں۔ اپنے بھائی کو نصیحت سے بھرے اشعار میں خیام کچھ یوں رقم طراز ہیں:
وظیفہ ’’رب اشرح لی‘‘ تہ کار وایہ
اراڑہ او ترتڑی لہ دا دوا وی
بیا اوبہ مالگہ د سترگو سپلائی کہ
دا عمل د لڑم زہرو لہ کیمیا وی
پہ بیاض می ورتہ راخکلے سو کرخے
دا پہ دا چی ستا د عقل سترگی وا وی
ان اشعار میں کلاس نہیں ہے، تو اور کیا ہے؟ کون اس بات کو ماننے کے لیے تیار ہوگا کہ یہ پینتیس سالہ نوجوان کے افکار و خیالات ہیں اور ان خیالات کی ادائیگی کے لیے ’’خیام‘‘ نے جو فن کارانہ کاریگری اختیار کی ہے، یقیناًلاجواب ہے۔ خیام کی تخلیق ’’جام، جنون او جانان‘‘ سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ ان کے اشعار ذہن کے بند دریچوں کو وا کردیتے ہیں۔ دلیل کے طور پر ذرا اس شعر کو ملاحظہ کیجیے:
زہ چکنا د یوے غاڑی
تہ چکنئی د بلے غاڑی
’’چکناچکنئی‘‘ دو ایسے پرندے ہیں جو دن بھر ساتھ رہتے اور اڑتے ہیں لیکن جب رات ڈھلنے لگتی ہے، تو یہ دونوں پرندے ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔ ’’خیام‘‘ نے ان پرندوں کی مناسبت سے اپنی کیفیت کا ذکر انتہائی فلسفیانہ انداز میں کیا ہے۔ موصوف کی شاعری کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ وہ ضرب الامثال کو انتہائی برجستہ انداز میں شعر میں سمو دیتے ہیں اور اس انداز سے سمو دیتے ہیں کہ وہ شعر یا مصرعہ گراں اور ثقیل محسوس نہیں ہوتا۔ نمونے کے طور پر چند ایسے اشعار پیش خدمت ہیں:
لوخے بہ پیتئی لہ شیخہ نہ مومے
دا سختی کہ چری پہ تا تیری شی
زمونگ خو لا نصیب د دیدنونو پہ جار نشتہ
زمونگہ یارانہ دہ، خو د پوری ور د چاودہ
چے پہ فراق کے می لیمہ سوزی
داسی پہ اوچو کے لواندہ سوزی
دا لا چاوی؟ چی دژمی مازیگر دے
زما ژوند خو بے لتا اوگد سفر دے
راتہ یو نظر کاتہ، دی یو پہ لس وی
د خر وار نہ خویو چونگ نمونہ بس وی
’’جام، جنون او جانان‘‘ میں جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ’’گنج‘‘ ہے۔ گنج کے عنوان کے تحت ایک غزلیہ نظم میں خیام نے موسیقی کے علم کو جس انداز میں بیان کیا ہے، یقیناًوہ معرکۃ الآرا نظم بن گئی ہے۔ موسیقی سے بے بہرہ لوگ اس کو پڑھ کر بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ خیام جی ’’ٹھاٹھ‘‘ کے متعلق لکھتے ہیں کہ ٹھاٹھ کی مثال بادشاہ کی ہے۔ موسیقی ایک الگ دنیا ہے اور اس دنیا کے نظام کو دس سربراہان چلا رہے ہیں اور ہر بادشاہ کا الگ الگ وزیر ہے، جنھیں ہم عرف عام میں ’’راگ‘‘ کہتے ہیں۔ راگ کے لغوی معنی رنگ کے ہیں۔ یہ سنسکرت زبان کے ’’راگانہ‘‘ سے ماخوذ ہے۔ بعض ماہرین موسیقی ٹھاٹھوں کی تعداد زیادہ بتاتے ہیں لیکن زیادہ تر اتفاق تعداد دس پر ہے۔ موسیقی کے دس ٹھاٹھ کچھ یوں ہیں:
’’بلاول ٹھاٹھ، کلیان ٹھاٹھ، کھماج ٹھاٹھ، بھیرو ٹھاٹھ، پروی ٹھاٹھ، مرواٹھاٹھ، کافی ٹھاٹھ، اساوری ٹھاٹھ، تودی ٹھاٹھ، بھیروی ٹھاٹھ۔‘‘ خیامؔ یوسف زے نے کمال مہارت سے شعری آہنگ میں اس تمام بحث کو کچھ یو سمویا ہے:
یو ’’کھرج’’ وی چی سر وی
پنزہ پسی تیور وی
یو ’’پا‘‘ وی چی ئی مل وی
پنزہ توکہ ’’کومل‘‘ وی
ٹھاٹھ سہ دی ورتہ وایم
باچا دی درتہ خایم
کل لس دی ٹول ٹھاٹھونہ
او ئی تری ٹول راگونہ
پہ ٹھاٹھ کے ’’اروھی‘‘ وی
بری لہ ’’أمروہی‘‘ وی
ٹھاٹھ نہ زمزمہ کیگی
اونہ بہ نغمہ کیگی
بس، مزید سیکھنے کے لیے ’’جام، جنون او جانان‘‘ کا مطالعہ کیجیے۔ میں نے شعوری کوشش کی کہ دریا کو کوزے میں بند کروں، لیکن ’’جام، جنون او جانان‘‘ ایک ایسا دریا ہے جس کو کوزے میں بند نہیں کیا جا سکتا اور دوسری بات کہ اخبار میں صرف ایک چھوٹے سے کالم کی جگہ میرے لیے مختص ہے جس کی تنگ دامنی آڑے آرہی ہے۔
2,312 total views, no views today


