بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع ہوتے ہی جھوٹ اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ چچا زاد، خالہ زاد اور دیگر قریبی رشتہ دار کو تو چھوڑئیے، ایک ہی گھر سے ایک بھائی دوسرے بھائی کے مقابلے میں کھڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق انتخابی مہم میں ایک بھائی دوسرے سے قطع تعلق کر چکا ہے۔ حالاں کہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کا جو حشر داخلہ اور جان پڑتال کے دوران میں ہوا ہے، وہ دیکھنے کے لایق ہے، اور اس کے بعد جو انتخابی نشان آئے، اس عمل میں خیبر پختون خوا کے عوام کے ساتھ جو مذاق کیا گیا، اس کی بھی معلوم تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ کیوں کہ جو نشان الاٹ کیے گئے، ان میں ’’ڈبرء‘‘، ’’شہنائی‘‘، ’’مولئی‘‘ ، ’’گازرہ‘‘، ’’برش‘‘، ’’باجہ‘‘ اور اس قبیل کے دیگر نشانات سے معزز امیدواروں کی وہ تذلیل کی گئی ہے کہ الامان و الحفیظ۔
قارئین! آپ خود سوچیں اگر ایک امیدوار کو ’’باجہ‘‘ نشان ملتا ہے، تو ہمارے معاشرے میں اس کی زندگی کیسے گزرے گی؟ کیا لوگ اسے ’’باجہ مار‘‘ کہہ کر نہیں پکاریں گے؟ ایک ہی نعرہ ہوگا کہ ’’ووٹ د چا؟‘‘ جوابی نعرہ ہوگا’’د باجہ مار۔‘‘ اس موقعہ پر ڈھیر سارے امیدواربرہم نظر آئے اور یہ شکوہ بھی رہا کہ اس بار الیکشن کمیشن نے غیر معروف قسم کے انتخابی نشان الاٹ کیے ہیں جو کہ امیدواروں کے مزاج کے یک سر خلاف ہیں۔ غیر تعلیم یا فتہ اور عمر رسیدہ افراد کے لیے یہ نشان اور بھی مشکلا ت کا سبب بنیں گے۔ عام عوام ان کا تمسخر اڑائیں گے۔امیدواروں نے بعد ازاں اس بات پر سخت اعتراض کیا جس کی وجہ سے ان میں سے کئیوں کے نشان تبدیل کیے گئے لیکن کئی دن گزرنے کے بعد تحصیل ادنیزائی کے درجنوں جنرل کونسلروں نے ہزاروں کی تعداد میں اپنے پوسٹر اور فلیکس بورڈ بنائے، تو امیدواروں کو فون پر بتایا گیا کہ آپ کو الاٹ کیے گئے نشان کینسل کردئیے گئے ہیں۔ انتخابی نشان الاٹ ہونے کے کئی دن بعد ان کی دوبارہ تبدیلی پر امیدوارسیخ پا ہوئے اور اس موقعہ پر شدید احتجاج کیا گیا۔ امیدواروں نے کہا کہ ہزاروں روپے کے پوسٹر اور فلیکس بورڈ تیار کیے گئے ہیں، ان کی تلافی کون کرے گا؟ اس طرح ولیج کو نسلوں کی تعداد بڑ ھنے کی وجہ سے امیدواروں کو بتایا گیا کہ آپ کو دیئے گئے نشان الیکشن کمیشن نے مسترد کیے ہیں۔ اس سلسلے میں مقامی امیدواروں میں دولت خان، امیر ہاتم خان اور بخت روان نے صحافیوں کو بتایا کہ نشانات الاٹ ہونے کے بعد ہم نے ہزاروں کی تعداد میں پوسٹرز، چھوٹے اسٹیکرز اور فلیکس بورڈز کے آرڈر دئیے جس پر ہمارا کافی خرچہ آیا ہے۔ اس کا ازالہ کون کرے گا؟ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ عمل بلدیاتی امیدواروں کے مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ ایک طرف مزاحیہ اور توہین آمیز نشانات کی الاٹمنٹ جب کہ اس پر طرہ یہ کہ نشانات دینے کے بعد انھیں دوبارہ مسترد کر دینا ایک طرح سے امیدواروں کی توہین ہی ہے۔ اس موقعہ پر دولت خان نے الیکشن سے بائیکاٹ کا اعلان کیا جب کہ بخت روان نے عدالت میں درخواست دایر کی۔ انھوں نے کہا کہ ایسے الیکشن میں حصہ لینے سے بائیکاٹ کرنا ہی بہتر ہے۔ محمدزمان، قیصر محمد، اسد خان اور گوہر خان نے بتایا کہ اس طرح کے انتخابات میں مرد امیدواروں کی توہین تو گویا معمول ہے ہی،لیکن خواتین کے لیے بھی یہ انتخابات کسی عذاب سے کم نہیں جس کی وجہ سے ان کی ایک بڑی تعداد الیکشن میں حصہ نہیں لے رہی۔ حالیہ انتخابات میں خواتین کو ’’شو پیس‘‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
قارئین کرام! یہ بلدیاتی امیدواروں کا پہلا قدم ہے کہ انھوں نے بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کے لیے قریبی رشتہ داروں کو آپس میں لڑایا، دوستیوں کو دوشمنیوں میں تبدیل کیا۔ یہ بلدیاتی الیکشن کا کرشمہ ہی ہے۔اس کا مقصد تو ظاہری طور پر عوامی خدمت بتایا جاتا ہے لیکن درپردہ اس میں کچھ نہیں اور الیکشن میں منتخب ہونے کے بعد کونسلروں اور ناظمین کا بھی اللہ ہی حافظ ہوگا۔
1,177 total views, no views today


