چوں کہ ان دنوں بلدیاتی الیکشن کی سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہیں۔ ایک طرف منتخب اراکین اسی پرانے روایتی انداز میں اپنی گفت گو کو آئے روز نیا نیا رنگ دیتے ہیں اور روزِاول سے ہی ہر قسم کی بنیادی سہولتوں سے محروم عوام کو خوابوں کی دُنیا میں لے جانے پر عمل پیرا ہیں۔ یہ ایک طرح سے ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں لوگوں کا دل جیتنے کے لیے ایک بہترین فارمولا ہے۔ کیوں کہ بدقسمتی سے من حیث القوم یہ ہماری روش ہے کہ گزرے ہوئے کل سے سبق لینا ہم اپنے وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ ہم آج تک ان لوگوں کو پہچان نہ سکے جو ’’زندہ باد، مردہ باد‘‘ کے کھوکھلے نعروں کے ذریعے ہمیں نچا نچا کے خود صرف آگے نکلنے کی چکر میں لگے رہتے ہیں۔ اسی صورت حال کو مدِنظر رکھ کر میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ مملکت خداداد پاکستان کو اس ابتر صورت حال تک پہنچانے میں ہم عام لوگ اگر سارا نہیں، تو کچھ تو ملوث ہیں جو کہ قابل تشویش اور رُلا دینے والی بات ہے۔ اگر بلدیاتی الیکشن کے حوالہ سے بات کی جائے، تو آج کل مجھ جیسے عام لوگوں کی اکثریت اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ اس متوقع بلدیاتی الیکشن کے لیے جو طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے، اس کی اصل وجہ اختیارات کو نچلے طبقے تک منتقل کرانا ہے، لیکن اگر اس تصویر کے دوسرے رُخ کا بہ غور جایزہ لیا جائے، تو تھوڑا سا سیاسی شعور رکھنے والا بھی اس کشمکش میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ کل تک تعلیم ہی کے ذریعے ترقی کے بلند و بالا دعوے کرنے والوں نے آج ناخواندہ افراد کی اکثریت کو اقتدار کا موقعہ فراہم کرنے کا عزم کر کے ملک کو پیچھے لے جانے کی سرتوڑ کوشش کا کھل کر اظہار کیا ہے جو کہ آج کے اس جدید دور میں ملک کے مستقبل کو داؤ پر لگانے کا آسان ذریعہ ہے۔
اس بات کا میں اپنے پچھلے کئی کالموں میں وقتاً فوقتاً اظہار کر چکا ہوں کہ ہمارے ہاں بلدیاتی الیکشن کسی نعمت سے کم نہیں۔ کیوں کہ (منتخب اراکین اسمبلی کا اپنے متعلقہ حلقوں سے لگاتار غیرحاضری کی صورت میں) لوکل سطح پر عوام کے پاس اپنے مسایل حل کرانے کا یہی ایک واحد آپشن موجود ہوتا ہے لیکن آج سیاست کے الف، ب سے ناواقف نمایندوں کی اکثریت کو مسایل حل کرانے کے لیے میدان میں سامنے لاکر ایک باشعور اور محب وطن انسان کو کیا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ میرے خیال میں الیکشن کا طریقۂ کار وضع کرنے والے حضرات یہ بھول چکے ہیں کہ عوامی نمایندگی کے لیے کسی بھی انسان میں چند خوبیوں کا موجود ہونا ازحد ضروری ہے۔
سب سے پہلے ان کو مذہبی ترازو میں تولنا چاہیے، کہ کہیں بعد میں ایسا نہ ہو کہ بے چارہ ’’سورۂ اخلاص‘‘ پڑھنے سے ہی قاصر ہو، جس کی مثالیں ہم سب ماضی میں کئی دفعہ دیکھ چکے ہیں۔
اس طرح اس میں وسعت نظری اور برداشت جیسی خوبیوں کا موجود ہونا بھی ضروری ہے۔ کیوں کہ زیادہ تر مسایل سنجیدگی اور مذاکرات کے ذریعے ہی حل کرائے جا سکتے ہیں نہ کہ جذبات اور طاقت کے استعمال سے۔
اس کے علاوہ ان کی تعلیمی قابلیت کے ساتھ ساتھ ان کی معاشرتی سرگرمیوں اور سیاسی پختگی کا بھی انتہائی سنجیدگی سے جایزہ لینا چاہیے، تاکہ آج اس پہلی سیاسی سیڑھی پر قدم رکھنے والا کل منزل کو پہنچ کر ملک وقوم کے لیے دردِسر بننے کی بہ جائے ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکے۔
قارئین، یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ ہمارے ملک میں ہر روز نہ سہی، مگر پھر بھی بااختیار افراد اپنی ذاتی مفاد کے تحت بعض اوقات ایسے فیصلے رایج کرتے چلے آئے ہیں جو مستقبل میں ملکی ترقی کے لیے رُکاوٹ ثابت ہوتے ہیں اور میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں بلکہ یہ آنے والا وقت بھی بتا دے گا کہ آج غیر تعلیم یافتہ افراد کی اکثریت کو نمایندگی کا موقعہ فراہم کرنا مستقبل میں ایسا ثابت ہوگا جیسا کہ کسی اندھے کو قافلے کا راہبر بنانا اور یہ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسی بھی اندھے راہبر سے اپنے قافلے کو درست منزل پر پہنچا نے کی اُمید رکھنا بے وقوفی ہے۔
میرے آج کے مذکورہ تحفظات اور تجاویز کے لیے شاید آج کسی تیسری آنکھ کی ضرورت پڑجائے۔ کیوں کہ ہمارے ہاں اکثر اوقات انتہائی نازک فیصلوں میں جس غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، اس سے ایک باشعور انسان عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ جب اتنے بڑے بڑے عہدوں پر فرایض منصبی سرانجام دینے والوں کا اگر یہ حال ہے، تو دو وقت کی روٹی کو ترسنے والے ایک عام آدمی سے ملکی ترقی کی اُمید کیسے اور کیوں کی جائے؟
غریب بے چارے کو تو ویسے بھی اپنی زندگی کی بقاء کی جنگ لڑنے تک ہی محدود رکھا گیا ہے ، تاکہ اس میں سوچنے اور مزاحمت کا مادہ ہی باقی نہ رہے۔
زیر نظر تحریر میں موقعہ سے فایدہ اُٹھاتے ہوئے اس ملک کے بااختیار اور برسرِ اقتدار افراد کو صرف اتنا کہوں گا کہ خواہ وہ آئین کے آرٹیکل 64-a اور 64-b کی خلاف ورزی کرنے والا قومی اسمبلی کا اسپیکر ہو یا بلدیاتی الیکشن کا طریقۂ کار وضح کرنے والے حضرات ہوں، سن لیں کہ ہر قسم کے قدرتی وسایل سے مالا مال پاکستان آج آپ جیسے اقتدار پسندوں کی غلط پالیسیوں اور فیصلوں کی وجہ سے کم از کم چالیس سال پیچھے دھکیل کھسک گیا ہے جب کہ اس کے باوجود ترقی حاصل کرنے کے دعوے روز بہ روز بڑھتے جا رہے ہیں۔ آپ کو آج معاشی مسایل درپیش ہیں جو کہ قابل توجہ اور حل طلب ہیں لیکن آپ صاحبان کی مسلسل ہٹ دھرمی اور غیرذمہ داری کی وجہ سے یہ مسایل تیزی کے ساتھ سنگین نوعیت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور یہ آنے والے وقت میں بین الاقوامی سطح پر ہماری سب سے بڑی کم زوری بن جائیں گی۔ اب بھی وقت ہے۔ اپنے ذاتی مفادات کی بہ جائے ملکی اور عوامی مفادات کو مدِنظر رکھ کر فیصلے کرنے کا گُر سیکھ لیجیے۔ کیوں کہ تاریخ گواہ ہے کہ اس ملک کی آزادی کے لیے اور ایک روشن مستقبل کی خاطر ہمارے بزرگوں نے ڈھیر ساری قربانیاں دی ہیں۔ لہٰذا اب ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ صرف خوش فہمیوں کے سہارے مزید زندگی گزارنے کی بہ جائے اس ملک کی ترقی اور خوش حالی میں اپنا بھرپورعملی کردار ادا کریں اور یہ ایک واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنے خوابوں کو عملی شکل دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
جاتے جاتے چند اشعار نذرِ قارئین کرتا چلوں:
خدا کرے کہ میری ارض پاک پہ اترے
وہ فصل گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول بھی کھلے، کھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو
861 total views, no views today


