ضلع ملاکنڈ میں چوہتر سالہ لعل شریف نے خود ہی سنگلاخ چٹانیں توڑ کر زمین کی سطح ہم وار کی اور پھر درختوں کی شاخوں سے بچوں کے لیے چھت کا انتظام کیا۔ اسکول کی صفائی اور تین کلو میٹر دوری سے پانی بھی لعل خود ہی لاتے ہیں۔
خیبر پختون خوا کے ضلع ملاکنڈ کے صدر مقام بٹ خیلہ سے پینتالیس کلومیٹر کی مسافت پر پہاڑی علاقے آگرا نارنجئی کے باہمت لیکن ناخواندہ لعل شریف نے ستائیس اپریل 1992ء میں تعلیم کی اہمیت اور ضرورت کو محسو س کرتے ہوئے اپنی خاندانی زمین پر بچوں کے لیے اسکول بنوایا۔ لعل شریف نے اپنی پہاڑی زمین سے خود ہی سنگلاخ چٹانیں توڑ کر زمین کی سطح ہم وار کی اور پھر درختوں کی شاخوں کو توڑ کر بچوں کے لیے چھت کا انتظام کیا۔ بچوں کو اسکول میں داخل کروانے کے لیے لوگوں کو ترغیب بھی دی اور ایک معلم کا بندوبست کیا۔
اس حوالے سے لعل شریف کا کہنا تھاکہ وہ خود بھی ناخواندہ ہے، ’’جب میں کسی دوسرے گاؤں جاتا اور وہاں پر بچوں کو اسکول جاتے دیکھتا، تو شدت سے یہ محسوس ہوتا کہ ہمارے گاؤں میں بھی اسکول ہونا چاہیے۔ میں نے اپنے گھر کے قریب اپنی خاندانی زمین کو اسکول کے لیے وقف کیا، پہاڑ توڑ کر سطح ہم وار بنائی اور درختوں سے چھت کا انتظام کیا۔‘‘
لعل شریف نے مزید کہا کہ اسکول میں نرسری سے پرایمری تک بچوں کے لیے ایک ہی استاد ہے، جو بہ یک وقت تمام بچوں کو پڑھاتا ہے، ’’اسکول کو حکومت نے مکتب کا درجہ تو دے دیا ہے لیکن تیئس سال گزرنے کے باوجود بھی اسکول اپنی پرانی حالت میں ہے۔‘‘
لعل شریف کے دن کا آغاز اسکول کی صفائی سے ہوتا ہے جب کہ اس کی غیر موجودگی میں یہ کام ان کی ساٹھ سالہ اہلیہ لعل زادگئی انجام دیتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ لعل شریف تین کلو میٹر دور ندی سے اسکول کے بچوں کے لیے پانی لاتا ہے اور لعل شریف یہ کام بلا معاوضہ کرتے ہیں۔ لعل شریف کے مطابق گاؤں کے زیادہ تر افراد ناخواندہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہاں پر نہ تو کوئی خاتون ٹیچر ہے اور نہ ہی ڈاکٹر، ’’علاقے کی آبادی چھ ہزار نفوس پر مشتمل ہے، یہاں کے لوگ تعلیم سے محبت کرتے ہیں اور یہاں کے طلبہ و طالبات کئی کلو میٹر دور واقع مڈل اور ہائی اسکول جاتے ہیں۔‘‘
نارنجئی اسکول کے طلبہ و طالبات ایک ساتھ زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ایک کھلا میدان ہے اور درختوں کی شاخوں سے بنائی گئی ایک چھت، جب بارش ہوتی ہے، تو اسکول سے بھی چھٹی ہو جاتی ہے۔ استاد تاجبر خان نے اس حوالہ سے بتایا کہ اسکول میں اس وقت سو سے زاید بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں: ’’میں خود بھی کئی کلو میٹر دور سے روزانہ یہاں آتا ہوں۔ یہاں کے لوگ اور بچے تعلیم سے محبت کرنے والے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اسکول کی عمارت بنوانے اور دیگر سہولیات فراہم کرنے میں کردار ادا کرے ۔‘‘
اسکول کی طالبہ حسینہ نے بتایا کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ٹیچر بننا چاہتی ہیں، کیوں کہ ان کے علاقے میں کوئی ٹیچر نہیں ہے: ’’ ہم اس تپتی دھوپ میں زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں، ہمارے صاف ستھرے کپڑے خراب ہوتے ہیں، ہمیں شدید گرمی لگتی ہیں لیکن پھر بھی ہم اپنی جدو جہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘
حسینہ مزید کہتی ہیں کہ جب میں دیگر علاقوں میں اسکولوں کے بچوں کو دیکھتی ہوں، تو مجھے دکھ ہوتا ہے کہ وہاں تو بچوں کے لیے عمارت ہے، کلاس رومز ہیں، ڈیسک ہیں، تمام سہولیات ہیں اور ہمارے لیے کچھ نہیں۔
لعل شریف کی اس جدو جہد کو علاقے کے لوگ بھی سراہتے ہیں۔ تعلیم کے لیے سرگرم ایکٹیوسٹ ڈاکٹر جواد نے بتایا کہ یہ بات قابل تعریف ہے کہ لعل شریف اس عمر میں تعلیمی خدمات انجام دے رہے ہیں، ایسے لوگوں ہی کی بہ دولت ہمارے معاشرے میں روشنی ہے اور لوگ تعلیم کی اہمیت کو محسوس کر رہے ہیں۔
748 total views, no views today


