بہ حیثیت انسان ہم دنیا کی آبادی کا حصہ ہیں اور بہ حیثیت شہری ہم پاکستان کا حصہ ہیں۔ آئین پاکستان نے ہمیں باقاعدہ طور پر شہری حقوق دئیے ہیں جن میں کسی بھی جگہ رہایش، کاروبار، ملازمت اور جائیداد قانون کے مطابق بنانے کا حق ہمیں حاصل ہے۔ اس طرح بنیادی انسانی حقوق کے بھی ہم حق دار ہیں۔ حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے چارٹر پر دست خط کرکے بہ حیثیت ایک انسان ہمارے انسانی حق کو تسلیم کیا ہے۔ میں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا لیکن آپریشن کے دوران میں ہمارے بہت سارے انسانی آئینی شہری حقوق پامال کیے گئے ہیں۔ اب حیرانی کی بات یہ ہے کہ کسی بھی انسانی حقوق کے علم بردار نے اس کا نوٹس لیا ہے اور نہ احتجاج ہی کیا ہے۔ کیوں کہ ملاکنڈڈویژن خصوصاً سوات کے لوگوں کو یا تو تیسرے درجے کا شہری تسلیم کیا جاتا ہے یا سرے سے انسان ہی تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اس وقت سوات میں ایک عجیب کھیل کھیلا جا رہا ہے جسے سمجھنے کے لیے ہمیں ریاستی دور کی طرف جانا پڑے گا۔ 1916ء میں ریاست کے عوام نے ’’قومی جرگہ‘‘ میں ایک مہذب قوم کی مثال قایم کرکے قاعدے اور قانون کے تحت زندگی گزارنے کے لیے قبایلی معاشرے سے نکل کر ایک ریاست کی بنیاد رکھی اور اپنی مرضی سے میاں گل عبدالودود کو اپنا بادشاہ مقرر کیا۔ باوجود ایک شخصی حکومت ہونے کے مذکورہ حکومت عوام کو جواب دہ تھی۔ رفتہ رفتہ یہاں ایک بہترین منظم حکومت قایم ہوئی۔ تعلیم، صحت، سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر کے محکمے قایم ہوئے۔ سڑکوں کے لیے ایک قاعدہ کے تحت چوڑائی کی حدود مقرر کی گئیں اور ان کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے الگ فورس کا قیام عمل میں لایا جسے عرف عاممیں ’’سڑکیان‘‘ کہا جاتا تھا۔ ’’سڑکیان‘‘ ایک صوبے دار کی نگرانی میں کام کرتے تھے۔ کسی کی مجال نہ تھی کہ حکومت کے مقرر کردہ قوانین کے برخلاف سڑک کے کنارے آبادی یا تعمیرات کرتا۔ والئی سوات از خود سڑک کے کنارے تعمیرات کی نگرانی کرتے تھے اور رواج نامہ کے تحت ادغام کے بعد بھی اس پر عمل درآمد ہوتا تھا۔ 1985-86ء میں سوات میں ریونیو ریکارڈ؍ ریکارڈ مال یا بندوبست کیا گیا۔ جس میں باقاعدہ سڑکوں کی پیمایش کی گئی اور جہاں مقامی آبادی ہوتی، وہاں راستے، سڑکیں آبادی ہی میں تعمیر کی گئیں۔ اب اُس ریکارڈ کو تبدیل کیا جاسکتا ہے اور نہ چیلنج ہی کیا جاسکتا ہے۔
قارئین، اب اپنے اصل مطلب کی طرف آتے ہیں۔ سی اینڈ ڈبلیو یا صوبائی محکمہ نے نیشنل ہائے وے اتھارٹی کو 2005ء میں لنڈاکی سے کالام سڑک (بغیر قانونی ملکیت کے) کی چوڑائی چھیاسٹ فٹ حوالہ کی ہے۔ اب چھیاسٹ فٹ چوڑائی نہ ان محکموں کی ملکیت تھی، نہ ہے اور نہ ہی موجودہ سڑک کا حکومت نے تا حال کوئی معاوضہ ادا کیا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ محکمۂ مال میں درج شدہ سڑک کی پیمایش حوالہ کی گئی پیمایش کے مطابق بالکل نہیں ہے۔ جب کہ نیشنل ہائے وے اتھارٹی کے اپنی ذاتی ریکارڈ کے مطابق سڑک کی پیمایش پچاس میٹر ہے اور یہ ریکارڈ کسی طرح زمینی حقایق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس وقت یہاں ایک عجیب صورت حال ہے۔ لوگوں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ سڑک کنارے لوگوں کی ذاتی جائیداد اور قیمتی آبادی کو مسمار کرکے کشادہ کیا جا رہا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آپ نے ’’قومی جائیداد‘‘ پر ’’ناجایز قبضہ‘‘ کیا ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ایک طرف عوام کی جائیدادہتھیائی جا رہی ہے اور دوسری طرف انھیں مجرم بھی ٹھہرایا جا رہا ہے۔ پہلے طالبان لوگوں کے گلے کاٹ رہے تھے اور اب یہ محکمے ’’ماورائے قانون‘‘ لوگوں کے ’’معاشی قتل‘‘ کے درپے ہیں اور کر بھی رہے ہیں۔ کسی بھی باشعور شہری کو اس امر سے اختلاف نہیں کہ سڑک کشادہ ہو، لیکن اس کے لیے قانون موجود ہے کہ زمین لوگوں سے قیمتاً لی جائے گی اور اسے مفاد عامہ کے کام لایا جائے گا۔ مینگورہ شہر ایک گنجان آباد شہر ہے، جس کی وجہ سے یہاں کی جائیداد انتہائی قیمتی ہے۔ ایک عام دوکان کی قیمت دو کروڑ روپیہ سے کم نہیں۔ اب شنید ہے کہ یہاں بھی ماورائے قانون ’’تجاوزات‘‘ کے نام پر لوگوں سے نہ صرف ان کا کاروبار چھینا جائے گا بلکہ انھیں قیمتی جائیداد سے بھی محروم کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے کسی بھی شہر کے اندر ’’ہائے وے‘‘ نہیں گزارا جاتا۔ کیوں کہ یہ مارکیٹ روڈ ہوتے ہیں۔ لندن میں بھی اتنی ہی سڑکیں ہیں لیکن بہتر مینجمنٹ کے تحت ٹریفک رواں دواں رہتی ہے۔ اب اس تمام تر صورت حال میں عوام جائیں، تو جائیں کہاں؟ عدالتوں کو مبینہ طور ’’پریشرایز‘‘ کیا گیا ہے جو عوام کو ریلیف دینے سے کتراتی ہیں۔ پنجاب میں شہباز شریف نے شہر کے اندر سڑکوں کو کشادہ کیا ہے لیکن متاثر ہونے والے جائیداد مالکان کو مارکیٹ ریٹ سے ڈبل معاوضہ بھی دیا ہے۔ چوں کہ ہم ’’تیسرے درجے‘‘ کے شہری ہیں، اس لیے یہاں گنگا اُلٹی بہتی ہے۔
انتظامیہ عوام دوست ہونے کی بہ جائے ’’عوام دشمن‘‘ بن گئی ہے۔ کسی بھی قانون کی پاس داری نہیں کرتی اور نہ عوام کے حق ملکیت تسلیم کرنے کو تیار ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ اس بے انصافی میں فوج جیسے معزز ادارے کو بھی استعمال کررہی ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ سول معاملات میں فوج کو ملوث کرنا انتہائی خطرناک بات ہے جس سے اداروں کے خلاف نفرت پھیلنا فطری بات ہے۔ موجودہ آرمی چیف بڑی مشکل سے فوج کے امیج کو بہتر بنا رہے ہیں۔
ان سطور کے ذریعے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام بالا اور مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت سے التماس ہے کہ وہ زمینی حقایق کی روشنی میں ہمیں ہماری قیمتی جائیداد سے غیر قانونی اور خلاف شریعت محروم کرنے کے اقدام کا تدارک کریں اور قیمت ادا کیے بغیر عوام کو اپنی جایز جائیدادوں اور کاروبار کی تباہی سے بچا کر مبنی برانصاف اقدامات کریں۔ قانون کے مطابق جو ملکیتی اراضی یا آبادی سڑک میں شامل کی جاتی ہے، عوام کو اُس کی قیمت ادا کی جانی چاہیے۔ ایک مثال ایکسپریس وے کی ہے جس کے لیے مردان اور صوابی کے عوام کو معاوضہ ادا کیا جا چکا ہے۔ ہمیں طویل عدالتی چارہ جوئی سے بچایا جائے۔ ہم عدالتوں سے اُمید رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں معاوضہ مع خرچہ دلوانے کے لیے از خود نوٹس لیں گی۔ یاد رکھا جائے کہ ہم اپنے حق کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جانے سے دریغ نہیں کریں گے۔ بہ صورت دیگر ہم احتجاج پر مجبور ہوں گے اور اس ناانصافی کے خلاف عالمی عدالتِ انصاف، انسانی حقوق کے کمیشن یا اقوام متحدہ کی فورس کو انصاف دلانے کی دعوت دیں گے جو کسی طرح پاکستان کی حکومت کے حق میں نہیں ہوگا۔
و ما علینا الا البلاغ۔
730 total views, no views today


