محمد یعقوب اپنی بیوی کے ساتھ 2012ء میں حج ادا کرنے کے لیے سعودی عرب جانے کے انتظار میں تھا کہ اس کی بیوی اللہ کو پیاری ہوگئی۔ یوں اس نے اکیلے حج ادا کرنے کے لیے رخت سفر باندھ لیا۔ اس کا ایک بیٹا تھا خودکش دھماکے میں پہلے ہی شہید ہوگیا تھا۔ اس کی شہادت کے بعد میاں بیوی اکیلے زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ بیٹیاں پرائے گھر کی ہوگئی تھیں۔ ایک بیوی تھی سو وہ بھی داغ مفارقت دے گئی، لیکن اچھی بات یہ ہوئی کہ محمد یعقوب کو جو حج گروپ ملا، وہ ایک مثالی گروپ ثابت ہوا۔ محمد یعقوب کا تعلق مٹہ سوات سے ہے جب کہ اس کے حج گروپ میں چارباغ سوات سے محمد کریم، دکوڑک سوات سے شریف زادہ، پنوڑئ دردیال سوات سے شیرزادہ، میخ بند طوطاکان بٹ خیلہ سے غلام محمد، امان درہ بٹ خیلہ سے فضل سبحان، گھڑئ خزانہ شموزئ سوات سے عبدالمستعان، سخاکوٹ سے شیر محمد، ملوک آباد مینگورہ سوات سے بخت کریم جان (حکیم صاحب) مرحوم شامل تھے۔ جب کہ اس کا بیٹا فضل مولا مزدوری کے لیے پہلے ہی سے سعودی عرب میں موجود تھا۔ اس نے وہاں سے حج ادا کرنے کی خاطر داخلہ لیا ہوا تھا۔ اس لیے وہ حج ادا کرنے کے لیے اپنے باپ بخت کریم جان سے آن ملا۔ بیٹے نے حج کے دوران میں نہ صرف اپنے باپ کی بلکہ مذکورہ بالا گروپ کے تمام ارکان کی دل کھول کر خدمت کی۔ وہ ان تمام حضرات کے کپڑے دھوتا، استری کرتا، بازار سے سودا سلف لاتا اور سب کے لیے کھانا پکاتا۔ بیٹے نے اپنے والد کی وجہ سے سب کی خدمت اپنے اوپر لازم گردانی۔
قارئین، فضل مولا کو اللہ تعالیٰ نے اولاد کی نعمت سے محروم رکھا تھا۔ اگرچہ اس کی شادگی کو بیس سال کا عرصہ ہو گزرا تھا۔ جب مذکورہ گروپ حج کے احکامات ادا کرتا، تو اس کا ہر ممبر اپنے ساتھ فضل مولا کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگتا کہ اے اللہ، فضل مولا کو بچوں کی نعمت دے اور محمد یعقوب کا گھر دوبارہ آباد کر۔ فضل مولا خود بھی حج کے احکامات بجا لاتا اور ساتھ ساتھ پورے گروپ کی خدمت بھی کرتا۔ اس وجہ سے پورے گروپ کے ارکان کو پردیس میں گھر جیسا ماحول میسر آیا۔
حج ادا کرنے کے بعد اس مثالی گروپ نے ایک دوسرے سے ناتا نہیں توڑا بلکہ یہ سب آپس میں دوست بن گئے اور ایک دوسرے کے ہاں گروپ کی شکل میں آنا جانا، خوشی اور غم کے موقعوں پر حاضری لگانا ان کا گویا معمول بن گیا۔ جب محمد یعقوب نے دوسری شادی کی، تو 2012ء کے حج گروپ کے ارکان اس شادی کی تقریب میں شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ گروپ ہی کی شکل میں یہ ایک دوسرے سے ملتے رہے۔ ابھی ایک ماہ بھی پورا نہیں ہوا ہے کہ ملوک آباد مینگورہ کا رہایشی بخت کریم جان (حکیم صاحب) اللہ کو پیارا ہوگیا ہے۔اس موقعہ پر مذکورہ دوست احباب نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔ ایک ہفتہ پہلے بیس سال بعد اللہ تعالیٰ نے فضل مولا کو بیٹا دیا، تو یہ سارے لوگ اس کی خوشی میں شریک ہوئے۔ فضل مولا نے موقعہ کی مناسبت سے بیٹے کی پیدایش پر ’’عقیقہ‘‘ کے پروگرام کا اہتمام کیا تھا۔ انھوں نے ایک پُرتکلف کھانے پر اپنے حج گروپ کو بلایا تھا۔ چوں کہ محمد یعقوب میرا دوست ہے، وہ کھانے پر مجھے بھی اپنے ساتھ لے گیا۔ وہاں جاکر میں اس مثالی حج گروپ کے ارکان سے فرداً فرداً ملا اور میں نے یہ تاثر لیا کہ یہ آپس میں صرف دوست نہیں بلکہ اب ایک طرح سے رشتہ دار ہیں۔ کیوں کہ یہ تمام اپنے بال بچوں کے ہم راہ فضل مولا کے گھر ملوک آباد مینگورہ آئے ہوئے تھے۔ انھوں نے فضل مولا کی مذکورہ خوشی دوبالا کردی۔
میخ بند طوطہ کان بٹ خیلہ کے غلام محمد نے اپنے ایک رشتہ دار جو سوات میں لیویز کا صوبے دار میجر ہے، بخت جہان صاحب کو بھی ہم راہ لیا تھا جس طرح میں محمد یعقوب کے ہم راہ اس خوشی میں شریک تھا۔ اسی طرح بخت جہان صاحب بھی غلام محمد کے ہم راہ وہاں موجود تھا۔ اس لیے میں نے یہ ضروری جانا کہ ایسے مثالی حج گروپ 2012ء کا تعارف اپنے قارئین سے بھی کراؤں۔
قارئین کرام! مجھے بھی اللہ تعالیٰ نے 2005ء میں حج کی سعادت سے نوازا ہے۔ مجھے بھی بیس ارکان کا ایک گروپ ملا تھا اور میں اُس کا گروپ لیڈر تھا لیکن آج تک ہم ایک دوسرے سے بے خبر ہیں اور ایک یہ ’’مثالی گروپ‘‘ ہے کہ اس کے ارکان اب تک یک قالب و دو جاں کے مصداق رشتہ استوار کیے ہوئے ہیں۔
790 total views, no views today


