برطانیہ کے حالیہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے سے زیادہ میری دل چسپی یہاں کے انتخابات کا موازنہ پاکستان کے انتخابات کے ساتھ کرنے میں تھی۔
انتخابات کے شروع ہونے سے لے کر اختتام تک میں ہر مرحلے کا بہ غور جایزہ لیتا رہا۔ میں نے یہاں کسی پارٹی کا جلسہ یا جلوس نہیں دیکھا۔ نہ ہی گاڑیوں یا بسوں پر انتخابی امیدواروں کے پوسٹر یا تصاویر دیکھیں۔ کسی بھی قومی اخبار حتی کہ مقامی اخبار میں بھی کسی امیدوار کا ’’اشتہار‘‘ نظر نہیں آیا۔ انتخابات کا دن بھی ایک عام سا دن تھا۔ کاروبار، اسکول، کالج، ٹرانسپورٹ غرض زندگی معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔ پولنگ کا وقت صبح سات بجے سے لے کر رات دس بجے کے درمیان تھا۔ تاکہ لوگوں کو کام کاج سے چھٹی کے بعد ووٹ ڈالنے میں آسانی ہو۔ میں نے مختلف پولنگ اسٹیشن کے چکر اس لیے لگائے کہ شاید مجھے کسی ایک اسٹیشن میں وطن عزیز کے پولنگ اسٹیشن کی طرح کا سماں ملے لیکن ہر پولنگ اسٹیشن پر مجھے ایک ہی طرح کا منظم اور خاموشی کے ساتھ پولنگ کا رواں دواں منظر دیکھنے کو ملا۔ مجھے کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر پولیس کا نام و نشان تک نظر نہ آیا۔ میں بہ ذات خود جب اپنے مقررہ پولنگ اسٹیشن گیا، تو مجھ سے میری شناخت کے لیے کوئی کارڈ مانگا گیا اور نہ ہی میری انگلیوں اور انگوٹھوں پر سیاہی ملی گئی۔ اور تو اور کسی نے میری تلاشی بھی نہیں لی۔ مجھ سے صرف میرا نام اور گھر کا پتا پوچھا گیا۔ ووٹر لسٹ میں مرے نام کے سامنے ’’درست‘‘ کا نشان لگایا گیا اور متبسم چہرے کے ساتھ ووٹ کی پرچی پیش کی گئی۔ یوں میں نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔
قارئین کرام! یہاں پر میرا مقصد کوئی کہانی بیان کرنا نہیں بلکہ ایک ترقی یافتہ ملک کے جنرل الیکشن کا موازنہ ترقی پذیر ملک کے انتخابات کے ساتھ کرنا مقصود ہے۔ اگر یہاں (انگلینڈ) کی حکومت چاہے، تو ایک سے بڑھ کر ایک سیکورٹی یا بایومیٹرک کا نظام لاگو کر سکتی ہے، لیکن اتنا بڑا عمل نہایت ہی سادگی کے ساتھ بہ طریق احسن انجام پاتا ہے۔ ہمارے ہاں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ ایمان کی دولت سے مالامال ہوکر بھی ہم دھوکا دہی اور جعل سازی کی جانب کیوں راغب ہوتے ہیں؟ اس کا جواب میں قارئین پر ہی چھوڑ دیتا ہوں۔ اب آئیں، ایک ترقی یا فتہ ملک کے جنرل الیکشن کا موازنہ وطن عزیز کے بلدیاتی انتخابات سے کرتے ہیں۔
خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات کا بخار سر چڑھ کر بو ل رہا ہے۔ ہرگاؤں اور محلے میں امیدوار عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں مصروف ہیں۔ ہر اخبار آدھے سے بھی زیادہ امیدواروں کے بلند بانگ دعوؤں سے مزین نظر آتا ہے۔ امیدوار لاکھوں روپے صرف اور صرف بڑے بڑے پوسٹروں اور بینروں کی چھپائی پر خرچ کر رہے ہیں۔ ہر طرف رنگ بہ رنگے پوسٹروں اور بینروں کا ایک طوفان امڈ آیا ہے۔ ہر محلے سے ایک نشست کے لیے چار چار امیدوار انتخابی دنگل میں کود رہے ہیں۔ بہ ہرحال یہ تو ایک الگ بحث ہے کہ کون کون بلدیاتی انتخابات میں امیدوار ہے لیکن اس سے زیادہ دل چسپ موضوع ان امیدواروں کو ملنے والے انتخابی نشانات ہے۔
چند ایک امیدواروں کے نشانات تو دیکھ کر پہلے مجھے لگا کہ از راہِ تفنن مخالف امیدوار نے شرارتاً دوسرے امیدوار کے پوسٹر چھاپے ہوں گے، لیکن جب مجھ پر یہ راز کھلا کہ یہ کوئی مذاق یا شرارت نہیں بلکہ ا لیکشن کمیشن کی جانب سے ایسے مضحکہ خیز نشان باقاعدہ ان امیدواروں کو جاری کیے گئے ہیں، تو میری حالت اس مصرعہ کی مانند تھی کہ
حیران ہوں،دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
امیدواروں کو ملنے والے نشانات میں چوہا، ڈھول، باجا، گاجر، مولی، پلگ، شٹل کاک، نٹ، جوتے، جوتوں کا برش، بوتل وغیرہ نمایاں ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ان بے تکے نشانات سے امیدوار سخت ناراض اور سیخ پا ہیں اور بہت سارے امیدواروں نے احتجاجاً ان نشانات کی وجہ سے انتخابات کا بائیکاٹ بھی کیا ہے۔ کیوں کہ عوام باقاعدہ ان امیدواروں کو ان کے ناموں کی بہ جائے انھیں عطا کیے گئے نشانات سے پکارنے لگے ہیں۔ اس طرح مخالف امیدوار بھی چسکے لے لے کر ایک دوسرے کا مزاق اڑانے میں مصروف ہیں۔کئی جگہوں پر ان کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ ’’جیسی شکل ویسا نشان۔‘‘
الیکشن کمیشن کی طرف سے امیدواروں کو ملنے والے نشانات کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔ بہت سارے پرہیزگا ر اور دین دار امیدواروں کو چوہے یا پھر بینڈ باجوں کے نشان دیئے گئے ہیں۔ یہ نشانات انسانی وقار اور علاقائی ثقافت کے منافی ہیں۔ الیکشن کمیشن کو ایسے مضحکہ خیز نشانات دینے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔ کیا مہذب نشانات کی قلت تھی؟ پھول، درخت، ٹریکٹر، گھڑی، بندوق، ہاتھی، گھوڑا، کرسی، چابی اور ان جیسے سیکڑوں جانے پہچانے نشانات کیوں نہیں دیے گئے؟ بزرگوں اور دین دار لوگوں کا مذاق اڑانے والے عناصر کا احتساب ہونا چاہیے اور ان کو عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے کہ کم از کم الیکشن کمیشن میں موجود اس فلسفی اور قابل شخص کو تو عوام پہچان لیں۔
اب یہ بھی سوچنے والی بات ہے کہ ایک امیدوار کا انتخابی نشان ’’کی بورڈ‘‘ ہے۔ اب مجھے کوئی یہ بتائے کہ کتنے بزرگ یا عام لوگ اس چیز کو جانتے ہیں؟ گاؤں اور قصبوں میں تو لوگ کمپیوٹر سے ناآشنا ہیں، تو وہ کیسے ’’کی بورڈ، ماوس، اور مانیٹر‘‘ جیسے نشانات کو پہچا نیں گے؟
میری تو خود یہ تجویز ہے کہ ان مضحکہ خیز ناموں کی بہ جائے بیلٹ پیپر پر امیدواروں کے ناموں کے ساتھ ان کی تصاویر چھاپے جائیں، تاکہ لوگ ووٹ ڈالتے ہوئے اس مخمصہ کا شکار نہ ہوں کہ ان کے پسندیدہ نمایندے کا نشان کیا ہے ؟ اس سے ان لوگوں کو بھی آسانی ہوگی جو پڑھے لکھے نہیں۔ وہ آسانی سے اپنے من پسند شخص کی تصویر دیکھ کر اس کو پہچان سکیں گے۔ اگر بیلٹ پیپر پر چوہے اور طوطے کی تصاویر چھا پے جاسکتے ہیں تو یقیناًانسانی تصویر چھاپنا بھی ناممکن نہیں ۔
دعا ہے کہ یہ انتخابات بہ خیر وعافیت انجام کو پہنچیں اور وہ امیدوار کامیاب ہوں جن کے جذبے سچے اور نیک ہیں۔
686 total views, no views today


