پاکستان میں ہونے والے تمام قومی انتخابات متنازعہ رہے ہیں۔ ایک فوجی آمر جنرل یحی کے منشا پرپانچ دسمبر1970ء کو ون مین ون ووٹ کی بنیاد پر ہونے والے پہلے قومی انتخابات (جس کو عام طور پر دھاندلی سے پاک قرار دیا جاتا ہے) میں عوامی لیگ کے غنڈوں نے مشرقی پاکستان میں کسی کو اپنی مرضی سے ووٹ استعمال کرنے نہیں دیا۔ جسے کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہوکر مشرقی پاکستان ’’بنگلہ دیش‘‘ بن گیا۔ 1977ء کے قومی انتخابات بھی دھاندلی کی بھینٹ چڑھ گئے۔قومی اتحاد کے احتجاج اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو بنیاد بناکر فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کرکے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ 1988ء سے 1999ء تک ہونے والے انتخابات دھاندلی زدہ اور متنازعہ رہے ہیں۔ من پسند افراد کے کامیابی کے لیے ریاستی مشنری اور سرکاری وسایل کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔سیاسی پارٹیاں اور آزاد امیدوار شور مچاتے رہے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اور ایک منظم سازش کے ذریعے انھیں ہرایا گیا ہے، لیکن یہ واویلا صرف اور صرف شور مچانے تک محدود رہا ہے۔ عملی اقدامات کرنے کے لیے کسی بھی سیاسی پارٹی نے سوچا تک نہیں۔ کیوں کہ وہ خود بھی کئی بار دھاندلی کے ذریعے ایوانِ اقتدار تک پہنچے تھے اور پہنچنے کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ دھاندلی کا یہ سلسلے ہمیشہ کے لیے ختم ہو۔ اگر انفرادی طور پر کسی امیدوار نے الیکشن ٹربیونل سے رجوع کیا بھی، تو نتیجہ صفر رہا ہے ۔ کیوں کہ الیکشن ٹربیونل نے کبھی مقررہ وقت میں فیصلہ نہیں دیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے آئینی اختیارات اور الیکشن کے لیے وضع کردہ قواعد و ضوابط کتابوں تک محدود ہیں۔ ان آئینی اختیارات اور قواعد و ضوابط پر کسی بھی قومی الیکشن میں اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ الیکشن ٹریبونل سے رجوع کرنے کی صورت میں ٹربیونل تاخیری حربے استعمال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی بھی عذرداری کا فیصلہ برقوت سامنے نہیں آیا۔
گیارہ مئی2013ء کے قومی الیکشن کو تمام پارٹیوں (برسراقتدار اور اپوزیشن) نے دھاندلی زدہ قرار دیا ہے لیکن ایک دوسرے کے مفادات کے تحفظ کرنے والے عملی اقدامات کرنے سے گریزاں ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے عملی قدم کی خاطر آواز اٹھائی، تو انھیں اسمبلی میں آواز اٹھانے اور الیکشن ٹربیونل سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ عمران خان عدالت گئے، اسمبلی میں آواز اٹھائی، اسمبلی کے فلور پر حکومت سے چار حلقوں کے بیگ کھولنے کا مطالبہ کیا،تاکہ انتخابات کی شفافیت اور دھاندلی سامنے آ سکے۔ حکومت نے مطالبات ماننے سے انکار کرتے ہوئے ایک بار پھر الیکشن ٹربیونل جانے کا مشورہ دیا۔ الیکشن ٹربیونل بھی گئے، لیکن وہی تاخیری حربے۔ اپنے مطالبات منوانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے سڑکوں پر آنے اوراسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کر دیا۔ تحریک انصاف کے دھرنے سے خوف زدہ ہوکر نواز شریف نے اپنی حکومت کو بچانے کے لیے قومی اسمبلی کی بلڈنگ میں سرکاری وسایل سے تمام پارٹیوں کے ممبران قومی اسمبلی و سینٹ کے مشترکہ دھرنے کا اہتمام کیا۔ سرکاری دھرنے میں بھی گیارہ مئی2013ء کے قومی الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کی مذمت کی گئی۔ تمام ممبران نے قرار دیا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں تلخ کلامی ہوئی اور ایک دوسرے پر سنگین الزامات بھی لگائے گئے۔ باوجود اس کے کہ اسمبلی فلور پر حکومت اور اپوزیشن دونوں نے انتخابات پر انگلیاں اٹھائیں اور عوامی مینڈیٹ چوری ہونے کا اعتراف بھی کیا، لیکن افسوس کہ اس دھاندلی کے خلاف کسی نے بھی عملی اقدامات کا مطالبہ نہیں کیا۔ البتہ تحریک انصاف کو ضرور تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ دھرنے والوں پر لعنت ملامت کی گئی۔ تحریک انصاف دھاندلی کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عہد کرچکی تھی اور ایک سو چھبیس دن بعد پشاور آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں اسے ختم کرنا پڑا۔ اگر حملہ نہ ہوتا، تو شاید آج حکومت بھی نہ ہوتی۔ حکومت نے بھی عقل مندی کا مظاہر کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن قایم کر دی، جو چالیس دنوں میں فیصلہ کرنے کی پابند ہوگی۔
دوسری طرف الیکشن ٹربیونل میں دایر عذرداری کی دو درخواستوں پر دو سال بعد الیکشن ٹربیونل نے فیصلہ دیتے ہوئے حلقہ این اے ایک سو پچیس اور حلقہ پی پی ایک سو پچپن کے انتخابات کالعدم قرار دیتے ہوئے نئے انتخابات کرنے کا حکم دے دیا۔ حکومت چاہے اسے بے ضابطگیاں سمجھے، ریٹرنگ افسران کی نااہلی اور یا پھر اسے دھاندلی قرار دے۔ فیصلے سے حکومتی پارٹی میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ الیکشن کالعدم قرار دینے سے حکومتی پارٹی میں اوپر سے نیچے تک کی قیادت اپنی ساکھ بچانے کی فکر میں لگی ہوئی ہے۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولی جارہی ہیں۔ وفاقی وزیر سعد رفیق کا کہنا ہے کہ ’’لندن پلان اور دھرنا سیاست کا سانپ ابھی مرا نہیں۔ ‘‘ جب کہ وزیر اطلاعات پرویز رشید دُور کی کوڑی لاتے ہوئے تمام الزامات پاکستان تحریک انصاف کے نام زد امیدوار حامد خان ایڈووکیٹ کے سر ڈالتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ شاید حامد خان نے ہار کے ڈر سے یہ بے قاعدگیاں خود کرائی ہوں۔ تاکہ بعد میں ان بے قاعدگیوں کے خلاف الیکشن ٹربیونل میں درخواست دایر کی جا سکے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ الیکشن ٹربیونل کے فیصلے سے وکٹ گرنے کا تاثر درست نہیں۔ قانونی اور انتخابی دونوں جنگیں لڑیں گے۔ حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کر کے ایک ماہ کی مہلت حاصل کی۔ امید ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی انصاف پر مبنی ہوگا۔
قارئین! کوئی کچھ بھی کہے الیکشن ٹربیونل کے اس فیصلے سے عمران خان کے دعوؤں کو تقویت ملنے کے ساتھ یہ امید بھی پیدا ہوچکی ہے کہ شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دھاندلی اور عوامی مینڈیٹ چوری کرنے والوں کو کچھ نہ کچھ سزا تو مل سکے گی۔ اس سے پہلے کبھی ایسا ہوا ہے اور نہ سوچا جا سکتا تھا۔ جوڈیشل کمیشن کا قیام امید کی ایک کر ن ہے۔
774 total views, no views today


