چند روز قبل کراچی میں اسماعیلی کمیونٹی کے پچاس کے قریب بے گناہ مرد، عورتوں اور بچوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا۔ اس سے قبل سولہ دسمبر 2014ء کو پشاور کے ایک اسکول میں بچوں اور اُن کے اساتذہ کو نشانہ لے لے کر قتل کیا گیا تھا۔ ماہر مبصرین نے بے شمار تبصرے کیے۔ حکومتوں (مرکزی اور صوبائی دونوں) نے اپنی اپنی دانست کے مطابق حفاظتی اقدامات کے لیے احکامات جاری کیے۔ اسی تناظر میں اسلحہ لایسنس کے اجرا، اسلحہ کی خریداری، آٹھ آٹھ فٹ اونچی چار دیواری اور مورچوں کی تعمیر، سرکاری اسکولوں کی خالی جیب، آڈٹ اور بجٹ کے لوازمات، پرائیویٹ اسکولوں کی مالی اور افرادی مجبوریوں جیسی عجیب عجیب باتیں سامنے آگئیں۔ حکومتوں نے تاجروں اور ٹھیکہ داروں کے فواید کو تو یقینی بنایا لیکن ان نصابی کوتاہیوں کی طرف ذرہ بھر توجہ نہیں دی جو ایک فرقہ وارانہ عمیق ترین خلیج کا باعث اور ایسی ذہن سازی کا سبب ہیں جس سے کوئی بھی دشمن ملت کسی بھی وقت فایدہ اُٹھا سکتی ہے اور اُٹھا بھی رہی ہے۔ الطاف حسین صاحب جو پاکستان میں سب سے طاقت ور گروہ کی آنکھوں کا تارا ہیں، نے اپنی برادری کے نوجوانوں سے فوجی معیار کی تربیت حاصل کرنے اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے تربیت حاصل کرنے کا حکم دیا ہے، تاکہ پاکستان سے لڑیں (بعد میں معذرت کرلی)۔ مسلح افواج کے بارے میں اپنے خیالات کو ایک دفعہ پھر ظاہر کیا جس پر پاک فوج نے ایک ذمہ دارانہ بیان باقاعدہ طور پر جاری کیا۔ حالیہ کور کمانڈرز میٹنگ نے پاکستان میں موجود دہشت گردی میں بھارتی ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کی بات کی اور پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک ذمہ دار آفیسر نے بھی اس طرف توجہ دلائی۔ پھر اسماعیلیوں پر یہ جان لیوا حملہ ہوا۔ چند ہی ہفتے قبل پاکستان کی پارلیمنٹ نے سعودی عرب کی درخواست پر ایک چھوٹی سی مقامی فرقہ وارانہ قسم کی لڑائی میں اپنی افواج کے نہ بھیجنے اور اس مقامی لڑائی کو بین الاقوامی جنگ میں تبدیل ہونے سے بچانے کا مستحسن فیصلہ کیا، تو متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت ڈاکٹر نور محمد غرغش نے پاکستان کو دھمکی دی کہ اس انکار پر پاکستان کو سنگین نتایج بھگتنا ہوں گے (اب انھوں نے اس بیان کو اپنا ذاتی بیان قرار دے کر اپنی حکومت کو بری الذمہ قرار دیا ہے، روزنامہ آزادی تیرہ مئی 2015ء) لیکن نہ تو اس بیان کو واپس لیا ہے اور نہ تردید ہی کی ہے۔ گویا کہ وزیر مملکت اور وہ بھی ڈاکٹر لیول کے عرب اشخاص میں پاکستان کے خلاف کس قسم کے منفی خیالات موجود ہیں۔ یہی منفی خیالات ہی منفی حرکات کو شکل دیتے ہیں۔ ’’عمل کا دارو مدار نیت پر ہوتا ہے۔‘‘ پاکستان میں دہشت گردی کی موجودہ جنگ بہت لمبے چوڑے اخراجات کی حامل ہے۔ یہ اخراجات ملک کے اندر بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان سے کبھی پوری نہیں ہوسکتے، جب تک اس کو ایک باقاعدہ مالیاتی نظامِ وسایل کے ساتھ منسلک نہ کیا جائے۔ خلیجی ممالک سے کھرب ہا کھرب کی رقومات کس ذریعے سے آتی ہیں اور اُن کے محفوظ ہونے کے لیے اسلام آباد کے بابو لیول سیکرٹریٹ نے کس طرح اور کس سطح کا بندوبست کیا ہوا ہے؟ کیا یہ رقوم غیر ریاستی افراد یا اداروں کے ذریعے آتی ہیں، کیا ان میں کچھ حصہ اس ’’مقدس جنگ‘‘ میں استعمال نہیں کیا جاتا ہوگا؟ کیا غرغش صاحب کی دھمکی ’’پاکستان کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی‘‘ ایسی ہی گیڈر بھبکی ہے؟ ہر گز نہیں۔ عرب امارات خود ایک ذمہ دار ملک ہے۔ وہ پاکستان پر کھلا حملہ کرے گا اور نہ خفیہ، البتہ وہاں ایسے حلقے ضرور ہوسکتے ہیں جو مملکت خداداد کو غیر مستحکم کرنے والے بین الاقوامی گروہ کے ساتھی (پکے یا جذباتی) ہوں۔
وطن عزیز کے اندر ’’الراشی و المرتشی‘‘ ماحول کو سب سے زیادہ تقویت مارکیٹ نے فراہم کی اور کر رہی ہے۔ مارکیٹ کو منافع حاصل کرنے کے تمام جایز اور ناجایز اختیارات مل چکے ہیں۔ اسلحہ کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانے میں مارکیٹ کے کردار کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ مارکیٹ سے وابستہ افراد اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جہاں عوام کے اندر منفی قوتوں کی آب یاری کرتے ہیں، وہاں یہ تخریبی عناصر کی خفیہ مدد (چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے) بھی کرسکتے ہیں۔ ہمارا نصاب تعلیم اور نظام تعلیم خود مارکیٹ کے قبضے میں ہیں، جس طرح مارکیٹ چاہے گی، اُس طرح کی کتب، سی ڈیز، کیبل، نیٹ، پرنٹ اور الیکٹرانک مواد عوام اور بچوں کو دست یاب ہوگا۔ چند قومی اور بین الاقوامی ماڈلز جس طرح نوجوان نسل کو نفس پرستی کے طور طریقوں پر ڈال رہی ہیں، وہ سب کے سامنے ہے۔ آج ایک چیز یا لباس یا طرز زندگی کی جھلک کراچی میں دکھائی جاتی ہے، کل وہ کشمیر اور کیلاش تک اپنائی جاچکی ہوتی ہے۔ ہم مدرسین ہیں۔ ہمیں وہ کتب پڑھانا پڑتی ہیں جو ایک مستحکم قوم کی تیاری تو کیا ایک اچھے فرد کو تیار نہیں کرسکتیں بلکہ خود غرض، لالچی اور کمینی شخصیات پیدا کرتی ہیں۔ مدارس کی نگرانی، گلی گلی فوج کی تعیناتی، ناکے اور تلاشیاں، غریب عوام اور کرایہ داروں کے شناخت پریڈز قوم میں اتحاد و اتفاق، وفاداری اور فرماں برداری جیسے مثبت جذبات کو کم کرکے، غصہ، احتجاج، رد عمل اور آخر میں جاکر انتقام جیسی منفی قوتوں کو فروغ دیتے ہیں۔ ہمارے حکم رانوں کی سوچ تاحال دورِ غلامی کی جاگیر دارانہ ہے۔ اب نیا زمانہ ہے، اس کے تقاضے نئے ہونے چاہئیں، اس لیے
1:۔عوام کو مارکیٹ اور دوسرے استحصالی حلقوں اور افراد کی چیرہ دستیوں سے نکال کر اُن میں مثبت سوچ اور عمل کی قوتوں کو بڑھایا جائے۔ وہ شخص جس کے ارد گرد نا قابل عبور رکاؤٹیں کھڑی کی گئی ہوں، وہ منفی رد عمل ہی کا اظہار کرتا ہے۔ عام آدمی کی فلاح و بہبود اور خواص کی قوتوں سے مثبت کام لینے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے میڈیا، مذہب، ملا، مسجد، مدرسہ اور مدرس بہترین ذرایع ہیں۔
2:۔ مارکیٹ کے مفادات ضروری ہیں، تاکہ مالی استحکام ہو، لیکن مارکیٹ کو اسمگلنگ اور دوسرے ملک دشمن طریقوں کی اجازت کسی صورت میں نہ ہو۔ مارکیٹ کے افراد کی تربیت کرکے اُن کی قابلیت سے بہتر نتایج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ مارکیٹ سے وابستہ عناصر کو لگام دینا نہایت اہم ہے۔ ہماری مشکلات میں ان کا بڑا حصہ ہے۔
3:۔ میڈیا کے ذرایع قوم میں یکجہتی کی جگہ انتشار کی طرف زیادہ متوجہ ہیں۔ اس میں اعلیٰ دماغ موجود ہے۔ اُس افرادی قوت کو استعمال میں لایا جائے۔ حالات کو سدھارنے میں ا س کے کردار سے انکار ممکن نہیں۔
4:۔ شاہینوں کی تربیت زاغوں سے لینے کا یہ بوسیدہ نظام ختم ہونا چاہیے۔ تعلیم کے انتظام و انصرام کے لیے ہر سطح پر اعلیٰ ترین دماغ کا استعمال ضروری ہے۔ تاحال کم ترین صلاحیتوں کے اشخاص کو تعلیم کے منتظمین بننے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ اس کے تدارک کے لیے نئے قوانین اور رولز بنائے جائیں، ٹیچر کو ٹیچر ہونا چاہیے، پالیسی ساز نہیں۔
5:۔ ملک سے دو نمبر کی بیوروکریسی کا جلدی خاتمہ ضروری ہے۔ رینکرز اور پروموٹیز نے اعلیٰ حکم رانی کا جنازہ نکال دیا ہے۔ انتظامی، مالی امور اور منصوبہ سازیوں پر صرف باقاعدہ افسران کی تعیناتی ہو، رینکرز کو مالی فواید بغیر کرسی کی تبدیلی کے دست یاب ہوں۔
6:۔ دہشت گردی، اس کے ذرایع اور طور طریقوں سے نمٹنے کے لیے تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ عمر کے لحاظ سے باقاعدہ تربیت درسی اور عملی فوری طور پر شروع کی جائے۔ مذہب کی چھتری تلے قرآن اور مکمل احکاماتِ نبویؐ سے دوری کی جو منظم تحریک وطن عزیز میں جاری ہے، اس کی اصلاح کی جائے اور علمائے کرام کے ذریعے عوام کو قصوں، کہانیوں کی جگہ احکامات قرآن اور احکاماتِ نبویؐ پر تربیت کی جائے تاکہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کرسکیں، فی الحال تو یہ تربیت صرف وضو اور احکامات نماز تک محدود ہے اور قومی مفاد کی جگہ اپنی ذات کے فواید پر عوام کی تربیت ہو رہی ہے جب کہ دین دوسروں کے لیے ایثار اور قربانی کا حکم دیتا ہے۔
6:۔ دہشت گردی کا یہ حملہ اور تباہی و بربادی کی یہ جنگ کافی لمبی ہوسکتی ہے۔ اس کا مقابلہ صرف مثبت عمل، اخلاص اور عمدہ تربیت سے ممکن ہے۔ سرسری اقدامات اس کا مکمل حل نہیں۔ قوم کی تربیت کروا کر اسے بدترین حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کروانا چاہیے۔ فی الوقت افواج اور مسلح ادارے تنہا یہ جنگ لڑ رہے ہیں۔ عوام، مسجد، مدرسہ، مولوی، مدرس، مارکیٹ اور میڈیا سب کی قوتیں ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف استعمال ہوجائیں۔
یہ خیالات دیوانے کے خواب کے مترادف ہیں لیکن نا قابل عمل نہیں۔ عدل کا نظام قایم کیا جائے، جو بھی شخص جرم کا ارتکاب کرے، اُسے سخت ترین سزا دی جائے۔ چین میں چند بچوں کی موت خراب دودھ کی وجہ سے ہوئی، وہاں کی حکومت نے متعلقہ تاجروں میں چار کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ اپنے یہاں ذرا ’’الحاج چوہدری تاجر خان‘‘ کی طرف دیکھیے۔ ’’الراشی‘‘ کا ایک ہاتھ اور ’’المرتشی‘‘ کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کاٹ کر دیکھو۔ ہم تو مجرمین کو پال رہے ہیں۔
796 total views, no views today


