عالمی ادارۂ صحت کی ایک ریسرچ رپورٹ کے تحت پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق سڑسٹھ فی صد خاندان اپنی سالانہ کمائی کا تقریباً پچاس فی صد سے زاید حصہ ادویہ کی خریداری پہ صرف کرتے ہیں مگر وہ سب اس بات سے قطعی لاعلم ہیں کہ وہ اپنے خون پیسنے کی کمائی سے جو ادویہ خرید رہے ہیں، وہ مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ جعلی بھی ہیں۔ ڈاکٹرز کو مسیحا مانا جاتا ہے اور لوگ اِس مقدس پیشے کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر جب یہی مسیحا، قاتل کا روپ دھار لیں، تو عوام کا انسانیت سے اعتبار اُٹھ بھی جائے، تو کیا غلط ہوگا؟ صاف ظاہرہے کہ امیر شخص کے لیے صحت و تن درستی کا حصول نسبتاًآسان ہی ہے۔ کیوں کہ پیسہ ہے، تو علاج و معالجے کی بہترین سہولیات کا حصول ذرا بھی مشکل نہیں، مگر یہاں اگر ہم بات کریں ایک غریب شخص کی جوکہ تن خواہ دار ملازم یا پھر دہاڑی دار مزدور ہو، تویہ کہنا بھی غلط نہیں کہ وہ بے چارہ کیا علاج کروا پائے گا جو کہ دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے ہی حاصل کر پاتاہے۔ علاج معالجہ تو اس کے لیے جیسے عیاشی کے زمرے میں آجاتا ہے، جس کو پانے کی اس غریب کی استطاعت نہیں۔ جبھی وہ غربت کی وجہ سے بیماری کی صورت میں بھی لاچارگی کے ساتھ ہر گزرتے لمحے میں موت کی طرف قدم بڑھاتا چلا جاتاہے۔ مریض تو ڈاکٹرپہ پورا اعتماد کرتا ہے۔ اپنی جان، زندگی اور علاج معالجے کے لیے اس پہ پورا بھروسہ کرتا ہے۔ پھر یہ ڈاکٹر کیوں قصائی کا روپ دھار لیتے ہیں؟ ایک غلط نظریہ جوکہ عوام میں بڑی شدت سے پایاجاتاہے کہ شفا کی گارنٹی ’’مہنگی دوا‘‘ ہے جب کہ ہر گز یہ ضروری نہیں کہ مہنگی دوائیں ہی بہترین علاج کی ضامن بھی ہوں۔ اگر انھی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی برانڈڈ دوائیوں کی متبادل دوائیاں جو کہ مقامی طور پر معیاری اور سستی ہوتی ہیں، استعمال کی جائیں، توکوئی غریب بھی لاچارگی کی حالت میں سسک سسک کر نہ مرے، مگر دوائیں اپنی اصل قیمت سے کئی گنا مہنگی کیوں کر ہوجاتی ہیں؟ کیا یہ قصورقصائیوں کاروپ دھارلینے والے ڈاکٹرز کا ہے یا ان ملٹی نیشنل کمپنیز کا جوصرف اپنا منافع دیکھتی ہیں یا دلال کا روپ دھار لینے والے میڈیکل ریپ کا ہے؟ہماری اندھی گورنمنٹ کا ہے یا پھر ان لیبارٹریز کا جوکہ صرف اپنا نام اور کام چمکانے کے چکر میں پڑی رہتی ہیں؟ اس گناہ میں تو سب برابر کے شریک ہیں مگر آج میں بس میڈیکل ریپ کا اصل کردار اپنے قارئین کے سامنے لانا چاہتا ہوں جوکہ بلاشبہ بے حد گھناونا ہے۔ اس کا اندازہ آپ سب کو آگے ہوجائے گا۔ میڈیکل ریپ کی اصطلاح بنیادی طور پر فارما سیوٹیکل کمپنیز کی اُن سیلز ٹیموں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جوکہ ڈاکٹرزاورکمپنی کے درمیان فکسر کا رول ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ ٹیمیں عموماً جوان لڑکے لڑکیوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ چکنی چپڑی باتوں میں ماہر ان تمام امیدواروں کی تن خواہ اٹھارہ ہزار سے بیس ہزار کے درمیان ہی ہوتی ہے،مگر پھر بھی اِن میڈیکل ریپ کے ٹھاٹھ ہی نرالے ہوتے ہیں۔ اچھے علاقوں میں رہایش، مہنگی گاڑی اور فیملی کے ہم راہ سالانہ ٹرپس میں تھائی لینڈ تک کی سیر…… یہ سب کیسے ممکن ہوپاتاہوگا؟ میڈیکل ریپ دراصل کام کیا کرتے ہیں؟ میں بتاتا ہوں، یہ نمایندہ حضرات اپنی کمپنیوں کی ادویہ جو کہ ملٹی نیشنل کمپنیز کی برانڈڈ ادویہ ہوتی ہیں۔ ڈاکٹرز کے پاس سیمپل کے طور پہ لے کے جاتے ہیں اور اپنی چکنی چپڑی باتوں کے ذریعے ڈاکٹرز کو راضی کرتے ہیں کہ وہ ان کی کمپنی کی دوائیاں ہی مریض کو تجویز کریں، تاکہ اُن ادویہ کی خریداری میں اضافہ ہو۔ اس کا فایدہ ڈاکٹرز کو یہ ہوگا کہ انھیں قیمتی تحایف گاڑی سے لے کے بیرونِ ملک تفریحی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ یہی نہیں ڈاکٹرز ان دوائیوں پہ تیس سے چالیس فی صد تک اپنا شرح منافع بھی وصول کرتے ہیں۔ انھی مراعات کی لالچ میں وہ مریضوں کو مہنگی دوائیں تجویز کرتے ہیں اور یہ سب کرتے ہوئے وہ ذرا بھی نہیں ہچکچاتے۔
1,840 total views, no views today


