برطانیہ کے شہر ڈیوز بری میں رہنے والا احمد سعید بہت خوش تھا۔ کیوں کہ وہ آ ٹھ سال کے بعد پاکستان جا رہا تھا۔ خوشی کی ایک اور بڑی وجہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنا بھی تھی۔ احمد سعید کو پاکستان جا کر بہت سارے کام کرنے تھے ۔ ماں اور بڑے بھائی کے انتقال کے بعد وہ پہلی دفعہ واپس جا رہاتھا۔ نا سازگار حالات کی وجہ سے دونوں کی فوتگی پر نہ جا سکا تھا۔ بیماری ماں کی موت کا بہانہ بنی۔ جب کہ بڑا بھائی آئی ڈی پی بننے کے غم کو برداشت نہ کر سکا اور خالق حقیقی سے جا ملا۔ اس کو کانجو سوات سے دور کراچی میں ہی د فنا دیا گیا۔
احمد سعید کراچی اس مقصد کے لیے جا رہا تھا کہ بھائی کی قبر پر فاتحہ خوانی کے بعد سوات روانہ ہو جائے گا۔ جہاں بہن بھائیوں سمیت ہر چھوٹا بڑا اس کو دیکھنے کے لیے بے چین تھا۔ وہ مانچسٹر سے جدہ کا سفر اتحاد ائر لائن جب کہ جدہ سے کراچی کے لیے ٹکٹ ’’با کمال لوگوں‘‘ کے ساتھ کنفرم تھا۔ مختصر یہ کہ عمرہ کی سعادت کے بعد احمد سعید جدہ ائرپورٹ میں موجود تھا۔ پرواز کا وقت رات کے دس بجے طے تھا۔ پاکستان جانے کا خیال ہی بہت مسرور کن تھا۔ لیکن ٹکٹ کاؤنٹر پر پہنچنے کے بعد احمد سعید کے خواب جیسے بکھرنا شروع ہوئے اور بالآخر ایسے چکنا چور ہوئے کہ اب پاکستان جانے کے نام سے ہی اسے ’’خوف‘‘ آتا ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ احمد سعید کو بتایا گیا کہ جہاز پہلے سے بھر چکا ہے اور اب اس فلائٹ سے وہ پاکستان نہیں جا سکتا۔ اس نے احتجاج کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ کیوں کہ اس کے پاس مذکورہ فلائٹ کے پہلے سے خریدا ہوا ٹکٹ ہے۔ اسے بتایا گیا کہ فلائٹس ’’پہلے آئیں، پہلے پائیں‘‘ کی بنیاد پر الاٹ کیے جاتے ہیں۔ احمد سعید نے وضاحت کی کہ اب بھی پرواز میں دو گھنٹے اور پچیس منٹ کا وقت ہے۔ لیکن اس کی ایک نہ سنی گئی۔ اس کی طرح بیس لوگ اور بھی تھے، جن کو نہیں جانے دیا گیا تھا۔ اس کو بتایا گیا کہ وہ صبح ایک بجے والی فلائٹ کا انتظار کرے۔ ایک بجنے والی فلائٹ پر بھی احمد سعید کو نہیں جانے دیا گیا۔ پھر صبح پانچ بجے اور اسی طرح دوپہر دو بجے لگا تار احمد سعید سمیت تمام کے تمام اسی طرح خوار ہوتے رہے۔ جن میں بزرگ، خواتین اور بچے شامل تھے۔ کچھ خواتین اپنی بیماری اور ادویہ کے ختم ہونے کا رونا رو رہی تھیں، تو کوئی یہ کہہ کر سر پکڑے بیٹھا تھا کہ وہ اپنے کسی پیارے کے جنازہ میں شرکت اور آخری دیدار کے لیے جارہا تھا، جو اَب اس صورت حال میں ممکن نہیں تھا کہ میتیں کسی کے آنے کا انتظار نہیں کرتیں۔
اس پر ستم یہ کہ عملے کا رویہ نہایت جارحانہ اور دھمکی آمیز تھا۔ سب مسافروں سے اتنی حقارت اور بدتمیزی سے پیش آرہے تھے کہ آدمی کا خون کھول اٹھتا تھا، لیکن لوگ اس لیے خاموش تھے کہ وہ جلد از جلد اس مصیبت سے جان چھڑانا چاہتے تھے۔ احمد سعید نے بھر پور احتجاج کیا، جس پر عملہ نے اسے سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دیں۔ اس دوران میں عملہ نے تما م دیگر مسافروں کو ہوٹل منتقل کردیا اور احمد سعید سے کہا گیا کہ وہ اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے انتظار کریں۔ اسے یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان جانے کے لیے کم ازکم اسے ایک ہفتہ تک انتظار کرنا ہوگا۔ احمد سعید کو ائر پورٹ پر انتظار کرتے ہوئے کھڑے کھڑے تیس گھنٹوں سے زیادہ کا وقت گزر چکا تھا۔ تھکاوٹ اور نیند کے غلبے کی وجہ سے وہ نڈھال تھا۔ وہ ساتھ ہی موجود دیگر ائیر لائینوں کے دفتر گیا، جہاں پر اسے کم از کم انسان سمجھ کر ڈیل کیا گیا۔ اسے نہ صرف بیٹھنے کا کہا گیا بلکہ ساتھ ہی اس کی تواضع چائے سے بھی کی گئی۔ احمد سعید حیران تھا کہ اپنے ملک کے کانٹر پر اس سے جانوروں جیسا سلوک روا رکھا گیا، لیکن غیروں نے اس کی خوب خاطر مدارت کی۔لیکن ابھی احمد سعید کی بد قسمتی کا سفر ختم نہیں ہوا تھا۔ پاکستان جانے کے لیے ان کے پاس بھی کوئی سیٹ موجود نہیں تھی اور جس فلائٹ میں سیٹیں موجود تھیں۔ وہ دس دن بعد کی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اسے دیار غیر میں مزید دس دن انتظار کرنا پڑے گا، جہاں اس کا کوئی نہیں تھا۔غیر ملکی ایئرلائن میں موجود عملے نے اسے بتایا کہ پاکستانی ایئر لائن کا یہ روزانہ کا معمول ہے اور ہر دن یہی صورت حال پیش آتی ہے۔ یہ جان بوجھ کر زیاد ہ ٹکٹ فروخت کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں مسافروں کو خوار ہونا پڑتا ہے۔ نتیجتاً پی آئی اے والوں کو ان مسافروں کو ہوٹل میں ٹھہرانے کے اخراجات برداشت کر نے پڑتے ہیں۔ انھوں نے احمد سعید کو پی آئی اے کے ہیڈآفس میں جانے کا مشورہ دیا، جو ایئر پورٹ سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر جدہ شہر میں واقع تھا۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ’’صاحب‘‘نو بجے تشریف لاتے ہیں، لیکن ساڑھے دس بجے قیصر صاحب پورے جلال کے ساتھ رونق افروز ہوئے۔ وہاں پر تقریباً چالیس کے لگ بھگ پاکستانی موجود تھے اور سب یہی رونا رو رہے تھے کہ ٹکٹ ہوتے بھی وہ کئی دنوں سے رل رہے ہیں۔ جب ایک ساتھ سب آفس کی طرف لپکے، تو قیصرصاحب نے تو اولاً سب کو خوب برا بھلا کہا اور ثانیاً گرج دا ر آواز میں اعلان کیا کہ وہ کسی کی بھی مدد نہیں کر سکتے۔ بس ’’چانس‘‘ کا انتظار کریں۔ یہ سن کر وہاں پر زیادہ تر خواتین اور بزرگ زارو قطار رونے لگے۔ یاد رہے کہ ان میں زیادہ تر لوگ عمرہ کی سعادت حاصل کرکے واپس پاکستان جا رہے تھے۔ کئیوں نے تو باقاعدہ ہاتھ اٹھا کر پی آئی اے اور باقی ماندہ نے پاکستانی حکم رانوں کو دل کی گہرائیوں سے چیخ چیخ کر بد دعا ئیں دیں۔ بوڑھوں اور خواتین کو دیکھ کر احمد سعید بھی اپنے آنسو نہ روک پایا۔
ایک ضعیف خاتون نے قیصر سے کہا کہ وہ لوگ شوگر کی مریض ہیں اور بہت تکلیف میں ہیں۔ قیصر نے بڑی بدتمیزی سے جواب دیا کہ یہ باتیں سن کر وہ خود دل کا مریض بن جائے گا۔ لہٰذا اسے کسی سے کوئی ہم دردی نہیں۔
احمد سعید یہ ماجرا دیکھ کر مایوس ہوااور ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے گیا۔ اتنے میں اس کو اپنا ایک دوست یاد آیا، جو جدہ ہی میں رہتا تھا۔ احمد سعید نے فوراً نمبر ملایا اور اپنا دکھڑا اسے سنا یا۔ دوست نے اسے شام پانچ بجے اسی دفتر میں مشرف نامی شخص سے ملنے کو کہا۔ پانچ بجے تک کا وقت کیسے کٹا، وہ ایک الگ داستان ہے۔ بہ ہرحال پانچ بجے مشرف صاحب سے ملے، تو اس نے احمد سعید سے کہا کہ وہ رات دس بجے کی فلائٹ سے جانے کی تیاری کرے۔ احمد سعید نے جب پوچھا کہ یہ کس طرح ممکن ہوا، تو مشرف صاحب نے دھیمے لہجے میں کہا کہ وہ کسی اور کو آف لوڈ کر دیں گے اور یوں احمد سعیدکو کسی اور کی جگہ بٹھا دیا جائے گا۔ احمد سعید نے کہا کہ وہ کسی اور کو اس مصیبت میں نہیں ڈالے گا اور عمرہ کے بعد ایسا کرنا ظلم کے مترادف ہے۔ یوں احمد سعید پاکستان نہ جا سکا۔ ویسے بھی اسے پاکستان جانے سے چڑ سی ہوگئی۔ وہ انتظار کر کر کے اکتا گیا تھا۔ بوجھل قدموں کے ساتھ وہ بر طانیہ واپس جانے کی نیت سے روانہ ہوا۔ اسے برطانیہ واپس جانے کے لیے ٹکٹ خریدنے میں زیادہ تگ و دو نہیں کرنا پڑی اور اگلی فلائٹ سے وہ برطانیہ روانہ ہوا۔ اس نے اپنے نہ آنے کی خبر جب سوات میں خاندان والوں کو دی، تو خاندان والوں پر تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی، لیکن یہاں پر اس کا ذکر نہ ہی ہو تو اچھا ہے۔
قارئین کرام! احمد سعید نے جب مجھے اپنا دکھڑا سنایا، تو میں نے اسے لکھنے کا اس لیے فیصلہ کیا کہ ممکن ہے کہ یہ آرٹیکل کسی ایسے ارباب اختیار کی نظروں سے گزر جا ئے، جس کے دل میں خوفِ خدا ہو اور اسے ان پاکستانیوں پر رحم آئے، جو اندرون ملک اور خاص کر بیرون ملک اذیت اور دکھ درد کی نت نئی داستانیں رقم کر رہے ہیں۔ کون ہے جو اس ادارے کو تباہ کرنے کا ذمے دار ہے؟ کس نے بد تمیز اور اخلاق سے خالی اسٹاف کو نو کری دی۔ انٹرنیشنل کمپنی ہونے کے باجود ان لوگوں میں پروفیشنل ازم کی کمی کا ذمے دار کون ہے؟
حال ہی میں بریڈ فورڈ ایئر پورٹ پر پی آئی اے کے ایک پائلٹ کو پرواز سے چند لمحوں پہلے گرفتار کیا گیا تھا۔ جب وہ شراب کے نشہ میں دھت تھا۔ اس نے تو سیکڑوں لوگوں کی زندگی کو داؤ پر لگا دیا تھا، لیکن سوال یہ ہے کہ ان شرابی پائلٹوں کو کس نے بھر تی کر رکھا ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ کنفرم ٹکٹ ایشو تو کر دیے جاتے ہیں، لیکن جہاز میں بیٹھنے کی جگہ تک نہیں۔ کون ہے اس کا ذمے دار؟ دنیا کے کسی اور ایئر لائن میں آج تک ایسا نہیں ہواکہ ٹکٹ تو کنفرم ہو، لیکن سیٹ نہ ملے۔ پھر پی آئی اے میں ایسا کیوں ہوتا ہے؟ روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کو کئی کئی دنوں تک ہوٹلوں میں ٹھہرایا جاتا ہے۔ کیا یہ قومی سرما یہ کا ضیاع نہیں؟ اور اس ضیاع پر آنکھیں بند کر نے والے کون ہیں؟ عمرہ اور حج کی سعادت کے بعد لوگ دعا کے متمنی اور طلب گار ہوتے ہیں، لیکن پی آئی اے والے بد دعا کے پیچھے کیوں پڑے ہیں ؟ کیا اس بد دعا کا ملک پر اثر نہیں ہوگا۔ اللہ کے نیک بندوں کو رلانے والے اور اللہ کی غضب کو دعوت دینے والے کون ہیں؟
ایسے ڈھیرسارے سوالات ہیں لیکن کالم کی طوالت اور قارئین کی بورئیت کو مد نظر رکھ کر اسی پر اکتفا کروں گا اور پاکستانی حکم رانوں سے یہی گزارش کروں گا کہ خدارا، وطن عزیز کو مزید تماشا نہ بنائیں اور اگر پی آئی اے کا قبلہ درست نہیں کرسکتے، تو اسے کسی دوسرے ملک کے ایئر لائن کے حوالہ کریں۔ تاکہ کم ازکم دنیا بھرمیں پاکستانی مزید ذلیل و ر سوا نہ ہوں۔
1,862 total views, no views today


