بلدیاتی انتخابات کے اعلیٰ عدلیہ کے اعلان کے بعد پوری دنیا کی نظریں خیبر پختون خوا پر بالعموم اور سوات پر بالخصوص لگی ہوئی ہیں۔ سوات میں قیام امن کے بعد پہلی بار بلدیاتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور عوام کا بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینا اس امر کا ثبوت ہے کہ سوات کے عوام اور پاک فوج کے خون کے بدلے جو امن قایم ہوا ہے، وہ دیرپا اور تر قی کا ضامن ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے بعد گھر، محلوں، گاؤں اور علاقوں میں الیکشن کی تیاریاں زوروں پر تھیں اور عوام انتہائی پر جوش انداز میں اس میں حصہ لے رہے تھے۔ بہ حیثیت ہیومن رایٹس کمیشن آف پاکستان کے ممبر کے پورے سوات کی الیکشن مہم اور سیاسی و مذہبی پارٹیوں، سیاسی شخصیات اورانتظامیہ پر گہری نظر رکھنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ بحیثیت سیاسی اور سماجی کارکن، سوات میں بلدیاتی انتخابات میں صوبائی حکومت جس ماہر انداز میں اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے، وہ کسی بھی ذی شعور شہری کی نظروں سے اوجھل نہیں ہے، جس راز و نیاز کے انداز میں تھانیداروں و تحصیلداروں کو فون کرکے استعمال کیا جارہا ہے، وہ یقیناًعمران خان کے اس دعویٰ کو غلط ثابت کرنے لیے کافی ہے کہ پختون خوا پولیس اور انتظامیہ کو سیاست سے پاک کیا گیا ہے۔
ویسے تو بہ ظاہر بلدیاتی انتخابات میں مقابلہ عوامی نیشنل پارٹی اور تحریک انصاف کا نظر آ رہا ہے لیکن عوامی موڈ تحریک انصاف سے زیادہ عوامی نیشنل پارٹی کی طرف دن بہ دن بنتا جا رہا ہے، جس نے تحریک انصاف کی قیادت کو پریشان کن صورت حال سے دوچار کیا ہوا ہے۔ کیوں کہ یہ انتخابات دو سال پہلے مئی میں ہونے والے انتخابات سے یک سر مختلف ماحول میں ہونے جا رہے ہیں۔ کوئی جادوئی ہوا چل رہی ہے اور نہ جنات ہی اپنے کارنامے دکھا رہے ہیں بلکہ اس مرتبہ عوامی طاقت ہی ہوا کا رُخ متعین کرے گی۔ پختون خوا کے عوام باچا خان کے نظریات کے ساتھ ہیں یا تحریک انصاف کے ساتھ، اس ماحول کا کریڈٹ ان قوتوں کو جاتا ہے، جو حقیقی معنوں میں جمہوریت کو اس ملک کے لیے ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی اس الیکشن میں جس تنظیم اور عوام کی خواہش پر جمہوری انداز میں مستحکم طریقے سے ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد انتہائی منظم انداز میں الیکشن مہم چلا رہی ہے اس نے تحریک انصاف کو مشکل میں ضرور ڈالا ہے۔ اوپر سے انجینئر امیر مقام بھی انتہائی سیاسی پختگی اور ماضی کی ناکامیوں سے سبق سیکھ کر نئے جذبے سے میدانِ جنگ میں ہیں اور ساتھ مولانا فضل الرحمان کی جماعت بھی خصوصی انداز میں عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ اتحادی کی حیثیت سے زور شور سے برسر پیکار ہے۔ انتخابی بے ظابطگیوں کا عمل تو وقت کے ساتھ ساتھ عوامی شعور سے ختم ہوگا لیکن سیاسی جماعتوں کی نظر جمہوریت کی بہ جائے جیت پر ہے، جو انتہائی خطرناک اور غیر سیاسی رجحان ہے۔ کیوں کہ حقیقی جیت جمہوریت کی جیت ہونی چاہیے۔
اتنی لمبی تمہید اس لیے باندھی کہ سوات میں بلدیاتی انتخابات میں جمہوریت کے لیے سب سے خطرناک ترین عنصر پر سیاسی پارٹیوں اور انتخابی امیدواروں کے معنی خیز خاموشی، الیکشن کمیشن اور ہیومن رایٹس آرگنائزیشن، خواتین کے حقوق کی علم بردار تنظیموں سمیت اعلیٰ عدلیہ کے لیے سوالیہ نشان ہے اور وہ عنصر ہے سوات کے ’’خواتین ووٹرز۔‘‘ جن کے ووٹ کے حق کو چھیننے کے لیے اگر ایک طرف سیاسی جماعتیں رات کی تاریکی میں معاہدے کرنے جا رہی ہیں، تو دوسری طر ف الیکشن کمیشن اور خواتین کے حقوق کے علم بردار بھی خواتین کے ووٹ کی اہمیت اور ان کے ووٹ دینے کے حق کے لیے وہ اقدامات نہیں کر رہے ہیں جو وقت اور حالات کا تقاضا ہیں۔ میرے نزدیک خواتین کے ووٹ دینے کے عمل کے بغیر جمہوریت کا نعرہ لگانا دیوانے کی بڑ ہے۔ الیکشن کے روز سوات کی انتظامیہ، الیکشن کمیشن اور ریاستی ادارے حرکت میں آئیں اور خواتین کو ووٹ دینے سے شعوری یا لاشعوری طور پر روکنے والے عناصر کی سرکوبی کریں اور ریاستی طاقت سے خواتین کو آزادنہ طور پر ووٹ کا حق استعمال کرنے کا ماحول تیار کریں۔ کیوں کہ ماؤں ، بہنوں اور بیویوں کے بغیر جس طرح گھر نہیں بن سکتا بلکہ اسی طر ح ان کے ووٹوں کے بغیر انتخابی عمل ادھورا ہے۔ ووٹوں کی اتنی بڑی تعداد کو ساز باز کے ذریعے انتخابی عمل سے دور رکھنا انتہائی خطرناک عمل ہے۔ سوات میں دیر پا امن اور ترقی کے لیے ملک کے کسی بھی حصے سے زیادہ خواتین کو سیاسی عمل میں شریک کرنا لازمی ہے جس سے ایک طرف انتہا پسندانہ نظریات کے خاتمے میں مدد ملے گی، تو دوسری طرف ذمہ دار ماں اور بیٹی کی حیثیت سے گھروں میں جمہوریت مضبوط ہوگی اور جب تک جمہوریت گھر میں مضبوط نہ ہو، تو نہ بلدیاتی ادارے مظبوط جمہوریت کی عکاسی کرسکتے ہیں اور نہ قومی پارلیمینٹ۔
قارئین کرام! یہ حقیقت ہمیں تسلیم کرنا پڑے گی کہ ملک میں حقیقی جمہوریت خواتین ہی لاسکتی ہیں اور جب تک ہم نے خواتین کو ان کے سیاسی و سماجی حقوق نہیں دئیے، تو ہم انتہا پسندانہ نظریات کو بھی شکست نہیں دے سکتے اور نہ ہی حقیقی جمہوریت کے لیے منزل کا تعین کرسکتے ہیں۔ خواتین کو بھی اپنے حقوق کے لیے گھر میں لڑنا ہوگا اور جس طر ح مرد کہتے ہیں کہ الیکشن میں ووٹ ڈالنے جاؤں گا، تو اس طرح عورت کو بھی خودہی یہ کا م کرناچاہیے اور ہر حالت میں ووٹ کے حق کے لیے آواز اُ ٹھانا چاہیے۔ صرف مخصوص نشست پر منتخب ہونے سے خواتین کے حقوق انھیں نہیں مل سکتے۔ اگر ان کو حقوق نہیں ملتے یا وہ ماحول نہیں بن پاتا جس میں اپنے حقوق کے لیے یہ آواز اٹھاسکیں، تو یہ سیاسی ناپختگی کی واضح مثال ہے۔
میں اس موقعہ پر یورپی ممالک کے سفیروں اور بین الااقوامی مبصرین سے اپیل کرتا ہوں کہ پختون خوا میں حقیقی معنوں پائیدار امن لانا ہے، تو اس کے لیے آئین پاکستان میں خواتین کے لیے جو حقوق متعین ہیں، ان پر من و عن عمل کرنے کے لیے ریاستی اداروں اور انتظامیہ کو مجبور کرنا ہوگا۔ خواتین کے حقوق پر ڈاکا ڈالنا اور ان کو ووٹ کے حق سے مختلف حیلوں اور بہانوں یا پھر مذہبی یا ثقافتی نام سے انھیں روکنے کے عمل پر سخت سے سخت رد عمل دینا ہوگا۔ ورنہ بلدیاتی انتخابات بھی حقیقی جمہوریت کے نام پرحقیقی ڈرامہ ہوں گے اور اس کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والے بلدیاتی ادارے بھی عوامی مسایل کے حل کی بہ جائے بہ ذات خود ایک مسئلہ بن جائیں گے جس سے جمہوریت اور جمہوری نظام کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔
قارئین، جس طرح ہم ماں کو ایک عظیم ہستی مانتے ہیں، توکیا الیکشن کے دن ماں کو ووٹ کاحق نہ دینے سے اس کی ممتا کا حق ادا ہوگا؟ جس طرح ہم اپنی بیویوں سے ہر چھوٹے بڑے کام میں مشورہ کرتے ہیں، تو اس کے ساتھ ووٹ کے معاملے میں کیوں مشورہ نہیں کرتے؟ اور انھیں ووٹ ڈالنے کے عمل میں شریک کیوں نہیں کرتے؟ گرچہ یہ سوالات چبھتے ہیں لیکن ہیں تو تلخ حقیقت۔
770 total views, no views today


