قارئین کرام! جیسا کہ آپ سب کو پتا ہے کہ آج بلدیاتی انتخابات ہیں۔ کل تک ہر طرف الیکشن کے حوالے سے پرزور جلسے اور ریلیا ں جاری تھیں۔ وادئ سوات سمیت صوبے بھر میں آج ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لیے مجموعی طور پر ستانوے ہزار سے زاید امیدوار میدان میں ہیں ۔ ان میں سے چھ ہزار دو سو انتخابی امیدوار صرف وادئ سوات کے مختلف علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کے لیے میدان میں اترے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان میں سے اٹھارہ کا تعلق مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم سے ہے جس میں یونین کونسل چارباغ سے پانچ امیدوار، خوازہ خیلہ سے پانچ امیدوار، غالیگے اور ملم جبہ سے دو دو امیدوار اور سیدو شریف، مینگورہ، مدین اور رحیم آباد سے نام زد ہونے والے ایک ایک امیدوار شامل ہیں۔ یہ ہیں عوام کو بے وقوف بنانے والے بے داغ ماضی کے مالک امیدواران۔ اخباری ذرایع کے مطابق ان اٹھارہ افراد کو نااہل قرار دیا گیا ہے لیکن خیبر پختون خوا پولیس کے انسداد دہشت گردی کے شعبے کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل نے ان اٹھارہ نام زد امیدواروں کے دہشت گردی میں ملوث ہونے یارہنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ پولیس کے متعلقہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل نے ان انتخابی امیدواروں کی ایک فہرست جاری کی ہے جو سوات کی ضلعی انتظامیہ، ڈی پی او سوات، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز، ڈپٹی الیکشن کمشنر سوات اور پو لیس کے تمام ڈی ایس پی افسروں کو بھجوا دی گئی ہے۔ اس بارے میں ایک خط کی صورت میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے یہ اٹھارہ امیدوار مبینہ طور پر دہشت گردی میں ملوث ہیں یا رہے ہیں۔ اس لیے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے الیکشن کمیشن سے ایسے تمام امیدواروں کو نااہل قرار دینے اور انکوایری کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ اس بارے میں جب سوات کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر کا مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی، تو انھوں نے اس فہرست سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ قارئین، کیا یہ وہ امیدوار ہیں جو اپنے بینرز پر لکھتے ہیں ’’بے داغ ماضی کے مالک‘‘ کیا یہ ہیں وہ بے داغ ماضی والے؟ ہم عوام کب تک بے وقوف بنتے رہیں گے۔۔۔؟ اگر یہ لوگ واقعی دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں، تو دیر کس بات کی ہے؟ الیکشن کمیشن نے اب تک ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کیوں نہیں کی؟
اس طرح ہمارے اداروں کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ کاغذات نام زدگی جمع کراتے وقت ان سب کی مکمل چھان بین ہونی چاہیے تھی، تاکہ اس میں غلط لوگ شامل نہ ہوتے۔ میں اپنے اس کالم کے ذریعے اعلیٰ حکام کے نوٹس میں یہ بات لانا چاہتا ہو ں کہ بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے والوں کے لیے بھی کم از کم ایف اے تک تعلیم کی شرط لازمی ہونا چاہیے تھی۔ ان بلدیاتی انتخابات میں ایسے لوگ بھی کھڑے ہیں جن کو اچھے طریقے سے پشتو بھی بولنا نہیں آتی، تو یہ کیا اپنے علاقے کے مسائل حل کرنے میں کردار ادا کرسکیں گے۔ اگر الیکشن کمیشن آف پاکستان آیندہ کے لیے ایف اے کی شرط رکھ دے، تو اس سے اچھے امیدوار سامنے آئیں گے ، جو اپنے علاقے کے مسایل کے حل کے لیے کارآمد ثابت ہوں گے۔
731 total views, no views today


