صدا بہار شخصیت شیر نواب کو پیڑ پودوں سے جنوں کی حد تک پیار تھا۔ وہ اس دھرتی کو پودوں سے سجانا چاہتے تھے۔ وہ دیگر انسانوں کے لیے اپنے لگائے ہوئے پیڑ پودوں سے حاصل ہونے والے میوہ جات سے ان کو صحت یاب رکھنے کے علاوہ انھیں معاشی طور پر مستحکم رکھنا چاہتے تھے۔ انھوں نے اس غرض کے لیے سنگوٹہ میں ’’شیر نواب نرسری‘‘ کے نام سے ایک فارم قایم کیا تھا۔ وہ سوات کی تاریخ سے با خبر تھے۔ وہ سوات کے ماضی سے آشنا تھے۔ اُنھیں اچھی طرح علم تھا کہ سوات کو ’’دریائے سوات‘‘ کی وجہ سے پوری دنیا میں جانا جاتا تھا۔
قارئین کرام! ماضی میں سوات کو ’’اودھیانہ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ سو شیر نواب کو یہ علم تھا کہ اودھیانہ کا مطلب ہے ’’گارڈن‘‘ یعنی وہ سرزمین جو باغات سے اٹی پڑی ہو۔
شیر نواب سوات کے میٹھے چشموں کے پانی سے اپنے نر سری کے پودوں کو سیراب کرتے تھے کہ ان کے پودوں میں آنے والے پھل پھول خوش رنگ اور خوش ذایقہ ہوں۔ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی کو پیڑ پودوں کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ وہ سوات اور سوات سے باہر کے علاقوں کو (جس میں جنت نظیر کشمیر بھی شامل تھا) پودے سپلائی کرتے تھے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ سوات کے زمین داروں سے لیز پر زمین حاصل کرتے تھے اور ان میں باغات لگاتے تھے۔ بار آور ہونے تک وہ ان باغوں کی رکھوالی کرتے تھے۔
شیر نواب زیادہ پڑھا لکھے نہ تھے لیکن ان کی سوچ بہت مثبت تھی۔ وہ مذہب اور رنگ و نسل کے امتیاز کے بغیر انسانوں کو خوش دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ جہالت کے گھپ اندھیروں کو تعلیم کی روشنی سے مٹانا چاہتے تھے۔ انھوں نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا تھا۔ وہ تعلیم کے حصول میں جنس کے قایل نہیں تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو یکساں طور پر اعلیٰ تعلیم کا موقعہ فراہم کیا تھا۔ وہ انسان دوست تھے۔ وہ دانش وروں اور عالموں کے قدر دان تھے اور ان لوگوں سے ان کے اچھے مراسم تھے۔
قارئین کرام! مجھے ٹھیک طور پر یاد نہیں ہے کہ وہ کب سے میرے دوست بنے تھے، لیکن شاید وہ میرے ازل سے دوست چلے آرہے تھے۔ اپنے گو نا گوں مصروفیات سے کبھی کبھی تھوڑا وقت نکال کر مجھے دے دیتے تھے۔ اگر وہ کسی کام کی غرض سے کہیں جاتے تھے، تو اپنے یار دوستوں اور واقف کاروں سے ضرور ملتے تھے۔ ملاقاتوں میں وہ اپنے دل کی کہا کرتے تھے اور دوسروں کی بھی سنتے تھے۔ انھوں نے اپنے وسیع فارم میں جہاں اُن کی رہایش گاہ بھی تھی، اسکول قایم کیا تھا جہاں دور دراز سے بچے پڑھنے کے لیے آتے تھے۔ وہ اپنے اسکول میں بچوں کو پڑھتا دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے۔ وہ ان بچوں کی وجہ سے اپنے ملک کے مستقبل سے پر اُمید تھے۔ وہ یہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ ہم بڑوں سے ملک کی ترقی اور اسے سنوارنے کا کام تو نہ ہوسکا، شاید یہ بچے اعلیٰ تعلیم سے آراستہ ہوکر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گام زن کرسکیں۔ وہ ماحول کو پاک و صاف رکھنے کے لیے شجر کاری کو لازمی تصور کرتے تھے۔ ویسے تو انھوں نے اپنی زندگی میں بہت باغات لگائے تھے لیکن اُن کی زندگی کا آخری باغ انھوں نے کوکارئ میں ڈاکٹر غلام یوسف کی زمینوں پر لگایا تھا۔ ابھی وہ باغ پھل لا ہی رہا تھا کہ پینسٹھ سال کی عمر میں بیس دسمبر 2011ء کو اللہ کو پیارے ہوگئے۔اللہ بخشے، بڑے کام کے آدمی تھے۔
943 total views, no views today


