کراچی: ایم کیو ایم نے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایم کیو ایم کے مرکزنائن زیرو پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمارے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ دوبارہ سے شروع ہوگیا ہے جب کہ ہمارے سیکٹر انچارج سمیت کئی اہم رہنما اور درجنوں کارکن اب بھی لاپتا ہیں جس کے خلاف ہم نے 2 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے کارکن وسیم دہلوی کو گھر سے گرفتار کیا اور تشدد کے بعد قتل کردیا لہٰذا کارکنان کے ماورائے عدالت قتل پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔
ایم کیو ایم کے رہنما کنور نوید جمیل کا کہنا تھا کہ ہم نے جرائم کی روک تھام کے لئے کراچی میں فوجی آپریشن کا مطالبہ کیا تھا تاہم ماضی کی طرح اس آپریشن کا رخ بھی ایم کیو ایم کی جانب موڑ دیا گیا ہے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عدلیہ بھی دباو کا شکار ہے اور ہمیں کسی قسم کا ریلیف فراہم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن وامان کے لیے شروع کئے جانے والے آپریشن میں ہمارے 190 کارکنان قتل ہوچکے ہیں لیکن اب تک ایک بھی قاتل گرفتار نہیں کیا گیا جب کہ کئی کارکنان تاحال لاپتا ہیں اور ان کے کیسز ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔
دوسری جانب ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے پولیس کی حراست میں اپنے کارکن وسیم کی ہلاکت کے خلاف 2 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جب کہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ایم کیو ایم کے کارکن کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ڈی آئی جی ایسٹ کا کہنا ہے کہ پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد ایس ایچ او عزیز بھٹی کو معطل جب کہ 3 اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ عزیز بھٹی پولیس نے ایم کیو ایم کے کارکن وسیم اور اس کے 2 بھائیوں کو 2 روز قبل بلدیہ ٹاؤن سے گرفتار کیا تھا اور گزشتہ روز ملزم کی تفتیش کیلئے دوسرے تھانے منتقلی کے دوران مبینہ تشدد سے ہلاکت ہو گئی تھی۔
334 total views, no views today


