’’اوپریشن بائی پاس‘‘ منیر احمد شیخ لکھتے ہیں کہ ’’آنکھیں کھلی تھیں مگر اشیاء کی شکلیں پردہ کر گئی تھیں۔ بس سٹریچر کے پہیوں کی کھٹ کھٹ کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔ سفر شروع ہوچکا تھا۔ اس ہونے کے درمیان اچانک ایک امیج میرے دائیں طرف نمودار ہوا۔ میں اس کی طرف متوجہ ہوا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ میری ماں جو کئی سالوں سے بے ہوشی کے عالم میں تھی اور جسے میں چلتے وقت خدا حافظ کہنے گیا تھا، تو صرف اس کے قدموں کو چھوا تھا اور اس سے معاف کردینے کو کہا تھا، تو وہ اسی طرح بے ہوش مردہ سی پڑی رہی۔ اُسے کچھ پتا نہیں تھا کہ یہ کون اس کے قدموں کو چھو رہا ہے اور کون اُس سے معافی مانگ رہا ہے۔ وہ نیم مردہ ماں اب یہاں اپنے قدموں پر میرے ساتھ ساتھ چل رہی تھی اور اپنا ایک ہاتھ میرے ماتھے پر رکھا ہوا تھا۔ چہرہ پریشانی سے سرخ اور ہونٹ ہلتے ہوئے۔ بار بار میری طرف دیکھتی۔ ہونٹوں کی حرکت میں تیزی تھی اور وہ دعائیہ الفاظ ادا کرتے ہوئے دکھائی دیتے تھی۔ یہ امیج آخری امیج تھا جو میرے ساتھ چل رہا تھا اور جوہوش میں آنے کے بعد بھی مجھے یاد رہا جس وقت آپریشن تھیٹر کا دروازہ سامنے آیا، تو ماں مجھے خدا حافظ کہہ کے چلی گئی۔ اس کے بعد کچھ پتا نہیں۔ اب اندھیرا بہت گہرا ہوگیا تھا۔ چاروں طرف تاریکی چھا چکی تھی۔ زندگی کی شمع گل ہوگئی تھی۔‘‘
میں نے اتنا لمبا اقتباس اس وجہ سے بندھا کہ منیر احمد شیخ صاحب سے میں ملا ہوں۔ یہ اُن دنوں کا واقعہ ہے جب وہ پاکستان نیشنل سنٹر کے ڈایریکٹر جنرل ہوا کرتے تھے۔ ان کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں تھا اور ان کی سربراہی میں ملک بھر کے نیشنل سنٹر عوام کو شعور و آگاہی دے رہے تھے۔ میں پاکستان نیشنل سنٹر کے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔ اُن دنوں مینگورہ نیشنل سنٹر میں عنایت اللہ خان اسسٹنٹ ڈایریکٹر ہوا کرتے تھے اور ان کے دم سے آئے روز تقاریب منعقد ہوتی رہتی تھیں۔ ایک دن انھوں نے ہمیں کہا کہ کل اسلام آباد سے منیر احمد شیخ ڈایریکٹر جنرل پاکستان نیشنل وزٹ کے لیے سوات آرہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اُن کو نیشنل سنٹر میں خوش آمدید کہنے کے لیے آپ بھی کل والی تقریب میں موجود ہوں۔ یہاں کے مسایل پر آپ اُن سے کھل کر بات کریں اور نیشنل سنٹر کے بارے میں انھیں تجاویز بھی دیں۔ ہم نے ان سے اس بات پر اتفاق کیا۔ منیر احمد شیخ صاحب کا ہم نے پر تپاک خیر مقدم کیا۔ انھیں ہار پہنائے۔ بات چیت میں ہم نے عنایت اللہ خان صاحب کی کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ نیشنل سنٹر کو مزید بہتر کرنے کے لیے تجاویز دیں۔ منیر احمد شیخ صاحب نے اپنا نقطۂ نظر پیش کیا۔ پاکستان نیشنل سنٹرز کی مجموعی کارکردگی پر بحث کی۔ اس وزٹ میں اُن کی بیگم بھی اُن کے ہم راہ تھیں۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں لیکن معذوری کی وجہ سے چلنے پھرنے سے قاصر تھیں۔ سوات وزٹ میں منیر احمد شیخ صاحب انھیں سیاحتی مقامات پر بھی لے گئے تھے۔ اُن کی کار میں وہیل چیئر بھی رکھی گئی تھی۔ بہ وقت ضرورت منیر احمد شیخ صاحب اس کی مدد لیا کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ چلتے تھے۔ باتیں بھی آپس میں کرتے تھے اور سوات کے خوب صورت علاقوں کی سیر سے محظوظ بھی ہوتے تھے۔ مجھے انھیں دیکھ کر احساس ہوا کہ عظیم لوگ بھی بڑے دل گردے والے ہوتے ہیں۔ یہ معذوری سے معذور نہیں ہوتے بلکہ اسے اپنی طاقت بنا لیتے ہیں۔
منیر احمد شیخ صاحب شخصیت ہی نہیں بلکہ عہدے کے لحاظ سے بھی بہت بڑے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ اُردو ادب میں اُن کی جداگانہ حیثیت ہے۔اُردو کی جدید شاعری بھی انھوں نے مرتب کی جو ایک طرح سے اُردو ادب کی ترقی میں ایک سنگ میل ہے۔
عرصہ ہوا کہ موجودہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اپنی پہلی حکومت کے اوایل میں ’’پاکستان نیشنل سنٹر‘‘ کو ختم کیا تھا۔ یہ ایک طرح سے اُن کی غلط فہمی تھی۔ ملک بھر میں نیشنل سنٹر مفید رول ادا کررہے تھے۔ ملک کی تعمیر میں نیشنل سنٹر کا ایک حصہ تھا۔ اب چوں کہ نواز شریف کی مرکز میں حکومت ہے، اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ دوبارہ تمام نیشنل سنٹر کو بہ حال کرکے اپنی غلی کا ازالہ کریں۔
684 total views, no views today


