سوات میں بلدیاتی انتخابات کے بعد اب ’’تختِ سوات‘‘ کے حصول کے لیے سیاسی جماعتوں میں جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہے۔ ضلع میں پی ٹی آئی کی مضبوط پوزیشن کو دیکھتے ہوئے انجینئر امیر مقام نے سوات کی تمام سیاسی پارٹیوں کے راہنماؤں کے ساتھ رابطوں کا آغاز کردیا ہے۔ گزشتہ روز انجینئر امیر مقام کی رہایش گاہ پر ایک پرہجوم پریس کانفرنس ہوئی، جس میں سوات کے اہم سیاسی قایدین نے امیر مقام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے پی ٹی آئی کے خلاف ’’اَکّا‘‘ کیا۔ اس موقعہ پر پریس کانفرنس میں موجود اے این پی ،پی پی پی، قومی وطن پارٹی اور جے یو آئی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے قایدین کا کہنا ہے کہ سوات کے عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام تحصیلوں اور ضلع کے لیے مشترکہ امیدوار لاکر حکم ران پارٹی کو شکست سے دوچار کریں گے۔
قارئین کرام! اب اگر ایک طرف تمام سیاسی پارٹیاں متحد ہوگئی ہیں، تو دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے قایدین بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم اکیلے ہی ایسی پوزیشن پر ہیں کہ پورے ضلع کی حکم رانی حاصل کرسکتے ہیں۔
واقعی آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر پی ٹی آئی تمام سیاسی پارٹیوں کو شکست دے کر ضلع سوات میں مضبوط جماعت ثابت ہوسکتی ہے۔ اب اس تمام تر صورت حال میں اگرتمام سیاسی پارٹیاں ایک ہوگئی ہیں، تو میں ایک طرح سے اسے صوبے میں حکم ران جماعت ’’پاکستان تحریک انصاف‘‘ کی جیت مانتا ہوں اور وہ اس لیے کہ اسے ہرانے کے لیے ضلع کی چھ بڑی سیاسی جماعتیں ایک ہوگئی ہیں۔ ان کے اس عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی نے تمام سیاسی قایدین کے دلوں میں اپنا ڈر بٹھا رکھا ہے۔
بعض حلقے گرینڈ الاینس پر کئی سوالیہ نشان بھی لگا رہے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کے علاوہ باقی ماندہ پانچ سیاسی جماعتوں کی کل بارہ نشستیں ہیں، جوپی ٹی آئی کی حاصل کردہ سیٹوں کا نصف بھی نہیں ہیں۔ کیا گرینڈ الاینس کا مقصد صرف انجینئر امیر مقام کا سوات کے سیاسی قایدین پر اپنی حیثیت منوانا نہیں ہے؟ واقعی امیر مقام نے سیاسی داؤ پیچ کا استعمال کرتے ہوئے سوات کے ان تمام سیاسی قایدین پر اپنی حیثیت منوالی ہے جو ایک عرصہ سے ’’انجینئر صاحب‘‘ کے خلاف تھے اور آج وہ خلاف توقع امیر مقام کی درگاہ پر جمع ہوگئے جس سے واضح ہوگیا کہ سوات کے سیاسی قایدین کی اتنی پوزیشن نہیں ہے جتنا ایک اکیلے انجینئر امیر مقام کا رتبہ ہے۔
عام انتخابات میں سوات سے الیکشن لڑنے والا ہر امیدوار اپنے جلسے جلوس میں یہی بات کہتے نہیں تھکتا تھاکہ’’آپ لوگ چاہیں جس کو بھی ووٹ دیں مگر ’’انجینئر امیر مقام‘‘ کو ووٹ نہ دیں، کیوں کہ وہ سوات کے ساتھ مخلص نہیں ہے۔‘‘ مگر آ ج جب کرسی کی بات آئی، تو ان تمام نے اپنے کارکنوں اور سپوٹرز سے پوچھے بغیر امیر مقام کی ہاں میں ہاں ملائی اور ان کے پیچھے چل پڑے۔ نتیجتاً یہ بات سچ ثابت ہوئی کہ سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی ۔
قارئین کرام! یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے سوات کے عوام نے بڑی امیدیں وابستہ کرلی ہیں۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سے مسایل حل کرنے میں آسانی ہوگی۔ بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے تمام سیاسی پارٹیوں نے امیدوار کھڑے کردیئے تھے جب کہ آزاد امیدوار بھی بڑی تعداد میں میدان میں مقابلے کے لیے موجود تھے۔ بلدیاتی انتخابات کے نتایج پی ٹی آئی کے حق میں رہے۔ دوسری پوزیشن پر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور تیسری پر اے این پی رہی۔ اس طرح دس ممبران آزاد حیثیت سے منتخب ہوئے۔ اب اگر یہ دس آزاد ممبران پی ٹی آئی کے ساتھ ملتے ہیں، تو سیاسی جماعتوں کا ’’تختِ سوات‘‘ کے حصول کا خواب بکھر سکتا ہے اور پورے ضلع کی حکم رانی کا تاج صوبے میں حکم ران جماعت کے سر باآسانی سج سکتا ہے۔
انجینئر امیر مقام کی طرف سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ ’’بیش تر آزاد ممبران میرے ساتھ ہیں۔ اس لیے ہماری قوت زیادہ ہے۔‘‘
مگر باوثوق ذرایع کے مطابق بعض آزاد منتخب ہونے والے ممبران کا کہناہے کہ ہمیں اپنی حیثیت کا پتا لگ چکا ہے۔ ان کے بغیر کسی کو بھی ضلع میں حکومت بنانا آسان نہیں ہوگا اور اس میں ان آزاد ممبران کا کلیدی کردار ہے۔ اس لیے وہ فی الحال خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ان آزاد ممبران میں بعض ایسے بھی ہیں جن کو انجینئر امیر مقام کے ایماء پر ٹکٹ نہیں دیا گیااور آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے کر انجینئر امیر مقام کے حمایت یافتہ امیدواروں سمیت دوسری پارٹیوں کے امیدواروں کو بھی شکست دے کر اپنی حیثیت منوا بیٹھے۔ اس لیے ان ممبران کی انجینئر امیر مقام کی حمایت ناممکن نظر آرہی ہے۔
دوسری طرف پی ایم ایل (این) بھی اندورنی اختلاف کی شکار ہے جس کی وجہ سے اسے ’’تخت سوات‘‘ کے حصول میں مشکلات ہوں گی۔
سننے میں تو یہ بھی آرہا ہے کہ گرینڈ الاینس کے وجود کو برقرار رکھنا مشکل ہے۔ کیوں کہ سوات کی کچھ ’’بااثر شخصیات‘‘ آزاد امیدواروں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرکے اپنا متفقہ امیدوار سامنے لاسکتی ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو گرینڈ الاینس کے ٹوٹنے کا خدشہ ہے جس کا سارا فایدہ پی ٹی آئی ملے گا۔
قارئین کرام! ’’تخت سوات‘‘ چاہے گرینڈ الاینس کو ملے یا پی ٹی آئی کو، مگر منشور سب کا یہ ہو کہ ’’تخت سوات‘‘ کے حصول کے بعد اپنے مفاد ات کو ترجیح نہیں دی جائے گی۔
میری دانست مین منشور یہ ہونا چاہیے کہ مسایل کو ختم کریں گے، سڑکوں کی تعمیر کو یقینی بنائیں گے، سیاحت کے تباہ حال شعبے کو منافع بخش بنانے کے لیے باتوں کی بہ جائے عملی اقدامات کریں گے، گزشتہ کئی سالوں سے بند سیدو شریف ائیر پورٹ کو بہ حال کریں گے، صاف پانی کی فراہمی سمیت سوئی گیس اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات عام لوگوں تک پہنچائیں گے، عوامی خزانے کو اپنی جاگیر نہیں سمجھیں گے اور ’’ٹھیکیداری نظام‘‘ کو پروان نہیں چڑھائیں گے۔
وما علینا الالبلاغ۔
742 total views, no views today


