فریڈرک کی سلطنت کے کسی علاقے میں آگ لگ گئی۔ آگ چوں کہ آگ ہوتی ہے، اس لیے اس نے شہر کو اپنے حصار میں لینا شروع کیا۔ لوگ بچے اُٹھائے گھروں سے اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ امیر و غریب اور چھوٹے بڑے سب افراتفری کے عالم میں آگے پیچھے دائیں بائیں ہو رہے تھے۔ آگ کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔یہ خبر فریڈرک تک پہنچی، تو اُس نے اپنی فوج کو حکم دیا: ’’فوراََ جاؤ اور ہر صورت آگ کو قابو کر لو۔‘‘ حکم ملتے ہی فوج متحرک ہوئی اور موقعۂ واردات پر پہنچی۔ فوج اس وقت تک آگ سے لڑتی رہی جب تک بلند ہوتے ہوئے شعلوں کی تپش دیواروں سے نہ اُتری۔ علاقے کے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ آگ توقع سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوگی لیکن فریڈرک کی فوج نے آگ کو اتنی مہلت نہ دی کہ وہ حدیں پھلانگ کرشہر کا نقصان کرتی۔ شہر کے لوگ فوج کی کارکردگی اور بادشاہ سلامت کی ’’فوری ایکشن‘‘ لینے پر بے انتہا خوش تھے۔ چناں چہ انھوں نے فریڈرک کا شکریہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ شہر کے معززین اور عمایدین اکھٹے ہوگئے اور بادشاہ سلامت کے محل کے سامنے با ادب کھڑے ہوگئے۔ چند لمحے بعد محل کی بالکنی میں فریڈرک نمودار ہوا اور یہ تاریخی فقرہ بول دیا: ’’شکریہ ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ آگ بجھانا میری ذمہ داری تھی۔‘‘
فریڈرک کا بولا ہوا یہ تاریخی جملہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ حکم رانی کرنے کا سب سے مجرب نسخہ ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک میں بادشاہ قانون سے بھی زیادہ طاقت ور اور مضبوط ہوتا تھا۔ اس بیش بہا طاقت اور قوت کی وجہ بادشاہ سلامت کی ’’ذمہ داریاں‘‘ ہوتی تھی۔ یہ اپنی بے پناہ مصروفیت اور لامتناہی ذمہ داریوں کے سبب کسی بھی آئین، قانون اور ضابطے کے سامنے جواب دہ نہیں تھے۔ یہ ’’کافر‘‘ بادشاہ اپنی ذمہ داریاں اتنے احسن طریقے سے نبھاتے کہ عوام کو مجبوراََان کے محلات کے سامنے شکریہ اداکرنے کے لیے جانا پڑتا اور بادشاہ بھی فرض اور احسان کے بنیادی فرق سے واقف تھے۔ چناں چہ یہ بھی عوام سے ’’شکریے‘‘ کی آس لگائے نہیں بیٹھتے تھے۔ یہ کافر بادشاہوں کے رویے اورکافر عوام کے چُنے ہوئے لوگ تھے جب کہ اس کے مقابلے میں آپ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی، جے یو آئی، اے این پی اورجماعت اسلامی کے مسلمان بادشاہوں کو بلدیاتی انتخابات کی ریلیوں میں سُن لیں، آپ کا سر شرم کے مارے جھک جائے گا۔ میں خود سیاسی ریلیوں میں بہت کم شرکت کرتا ہوں، کیوں کہ یہ ریلیاں تیسری دنیا کی ایک فرسودہ روایت ہیں۔ میرے نزدیک ڈسپرین کی ایک گولی بنانے والا شخص ریلیاں نکالنے والے ہزاروں لوگوں سے بہتر ہے لیکن اس کے باوجود مجھے کبھی کبھار مجبوری کی حالت میں جانا بھی پڑتا ہے۔ جلسہ گاہ پہنچ کرمقررین تلاوت قرآن کریم اور درود پڑھنے کے بعد عجیب و غریب قسم کے جھوٹ بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ وہ جھوٹ ہوتے ہیں جو ہم گزشتہ کئی دہائیوں سے سنتے چلے آئے ہیں۔ مثلاًمیاں شہباز شریف سینہ تھان کر فرمائے گا: ’’چالیس دن کے اندر اندر لوڈشیڈنگ ختم نہ کی، تو میرا نام شہباز نہیں۔‘‘
میاں نوازشریف ارشاد فرماتے ہیں: ’’ملک کو بہت جلد اندھیروں سے نجات دلائیں گے۔‘‘ لیکن میاں صاحب آج تک یہ وضاحت نہ کر سکے کہ ’’بہت جلد‘‘ کتنا عرصہ ہوتا ہے؟ مولانا فضل الرحمان بقراطی لہجے میں فرماتے ہیں: ’’مدارس کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔‘‘ لیکن میں آج تک اس پواینٹ کو نہیں سمجھا کہ باجوڑ میں جس مدرسے پر حملہ ہوا تھا، وہ واقعی مدرسہ تھا یا وہ بھی مولانا کے خلاف سازش تھی؟ سراج الحق اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام چاہتا ہے لیکن کیا اسٹیبلشمنٹ کی ’’بی ٹیم‘‘ بن کر اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کا نفاذ ممکن ہے؟
عمران خان کا جھوٹ بھی دل چسپ تھا، خان صاحب بولا: ’’میں نوے دن کے اندر اندر ملک کو کرپشن سے صاف کروں گا اور بلدیاتی انتخابات بھی منعقد کروں گا۔‘‘ یہ نوے دن دو سال بن گئے۔ شکر ہے عمران خان نے وعدہ دو سال کا نہیں کیا تھا ورنہ اسی حساب سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں کم از کم آٹھ سال لگتے۔
لیکن ایسا ہر گز ہر گز نہیں کہ ان لوگوں کی ساری تقریریں جھوٹی اور من گھڑت ہوتی ہیں۔ ان میں موٹر وے، میٹرو بس ، لیپ ٹاپ اسکیمیں اور آشیانہ اسکیمیں بھی شامل ہیں۔
ایسا ہر گز نہیں کہ عمران خان بھی صرف جھوٹ پر جھوٹ بول رہا ہے، شوکت خانم، ایک آدھ یونی ورسٹی، 1992ء کا ورلڈ کپ اور دیگر کارنامے ایسے کارنامے ہیں جن کا تذکرہ یہ تقریباََ ہر تقریر میں کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سارے کارنامے نواز شریف اور عمران خان کے پاکستانی عوام پر احسانات ہیں؟ اگر یہ احسانات ہیں تو ان کے فرایض کہاں چلے گئے؟ اور اگر یہ فرایض ہیں، تو میاں صاحب اور کپتان صاحب ان فرایض کو احسانات کے طور پر ہر وقت جتاتے کیوں رہتے ہیں؟یہ لوگ فریڈرک کی طرح ایسا کیوں نہیں کہتے کہ ’’شکریے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ سب میری ذمہ داریاں تھیں۔‘‘ یہ ہر وقت اقتدار کا چشمہ لگا کر اپنے کارناموں کا جایزہ کیوں لیتے رہتے ہیں؟
یہ اگر پاکستانی سیاست دان بن سکتے ہیں، تو یہ فریڈرک جیسے لیڈر کیوں نہیں بن سکتے؟
قارئین کرام! دنیا کے ہر حکم ران کی صرف ایک ذمہ داری ہوتی ہے اور اُس ذمہ داری کا نام ہے ’’عوام‘‘۔ جو حکم ران اپنی ذمہ داری پہچان لیتا ہے، وہ فریڈرک بن جاتا ہے اور جو حکم ران اپنی ذمہ داریوں کو بھول جاتا ہے وہ حکم ران آصف علی زرداری بن جاتا ہے۔ بس یہی قدرت کا فیصلہ ہے اور یہی اس فیصلے کا خلاصہ۔۔۔
728 total views, no views today


