سوات، عالمی شہرت یافتہ اور نوبل پیس پرائز حاصل کرنیوالی ملالہ یوسفزئی پر حملے کرنے والے دس میں سے دو ملزمان کو عمر قید کی سزا سنادی گئی ، باقی آٹھ ملزمان عدم ثبوت اور شواہد نہ ہونے کی وجہ سے بری کیا گیا تھا، اس بات کی تصدیق ریجنل پولیس افیسر ملاکنڈڈویژن ازاد خان نے کردی ہے، ڈی ائی جی کے مطابق ملالہ یوسفزئی کے ملزمان کو ڈیڑھ ماہ قبل انسداد دہشت گردی کے خصوصی عدالت کے جج نے اسرار الرحمان اور اظہار اللہ کو عمر قید کی سزا سنادی تھی جبکہ باقی اٹھ ملزمان شوکت ، عرفات، سلیمان، بلال، ظفر علی، سلیمان، اکرام اور عدنان پر ثبوت ثابت ہونے کی وجہ سے وہ بری ہوگئے تھے،
ملالہ یوسفزئی کو سال 2012 میں اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنا یا گیا تھا جب وہ سکول سے گھر جاری رہی تھی، ڈی ائی جی مالاکنڈازاد خان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ باقاعدہ ریکارڈ پر موجود ہے کہ اس وقت کے عدالت نے ان دوافراد کو مجرما ن ٹھرا کر عمر قید کی سزا سنائی جبکہ باقی اٹھ کو باعزت بری کردیا تھا، انہوں نے کہا کہ پاکستانی عدالتین ازاد ہیں اور وہ آزاد فیصلے کرتے ہیں،ڈی ائی جی ملاکنڈڈویژن نے کہا کہ ملزمان کو جیل سے اس لئے رہا کیا گیا ہو گا کہ جیل حکام کو عدالت کا فیصلہ مل گیا ہو گا ، کیونکہ جب جیل حکام کو فیصلہ کی کافی فراہم ہوتی ہے تو جیل حکام ملزمان کو چھوڑ دیتے ہیں ، اس لئے ان باقی اٹھ ملزمان کو رہا گیا جس کو عدالت نے بری کیا تھا۔ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ پولیس افیسر سلیم مروت کا کہنا تھا کہ ملالہ یوسفزئی پر ہونے والے حملے کے ملزمان کو باقاعدہ طور پر عدالت میں کیس چلا ، اور جو ملزمان تھے ان کو سزا ملی ، اس وقت ملالہ پر حملے کرنے والے ملزمان ہری پور جیل میں سزا بھگت رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ بات بلکل غلط ہے کہ ان کو کسی ڈیل کے تحت رہا کردیا گیا ہے،
439 total views, no views today


