خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیوں کہ خیبر پختون خوا ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ حسا س ہے۔ یہ قبایلی علاقوں اور افغانستان سے ملحقہ صوبہ ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اور نیشنل ایکشن پلان میں فرنٹ لاین کی حیثیت رکھتا ہے۔ایپکس کمیٹی نے جس میں کور کمانڈر پشاور، وزیر اعلیٰ اور گورنر کی مشترکہ قیادت میں اپنا کام رواں دواں رکھا ہے، اب ان تینوں اعلیٰ سیاسی اور فوجی قیادت سے مطالبہ ہے کہ خیبر پختون خوا بالعموم اور سوات اور ملاکنڈ ویژن میں بالخصوص ان تمام کمیٹیوں کو ختم کریں جو ڈیفنس کمیٹیوں، پولیس کمیٹیوں اور خود ساختہ جرگوں کے نام سے چل رہے تھے۔ اب محلہ کی سطح پر جنرل کونسلر، خواتین کونسلر،ولیج چیئرمین، تحصیل کونسلراور ضلع کونسلرکے انتخابات کے بعد ان منتخب نمایندوں کو ان کمیٹیوں اور خود ساختہ جرگوں کی جگہ پر تعینات کیا جانا چاہیے، کیوں کہ یہی گراس روٹ لیول پر عوام کے منتخب نمایندے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف یہ نمایندے پاک فوج اور سول انتظامیہ کے ساتھ نظریاتی اور سیاسی طور پر ہر اول دستے کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان اس وقت تک مکمل کامیابی حاصل نہیں کرسکتا ہے، جب تک تمام شہری اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کرتے، عوام کے منتخب نمایندے دہشت گردوں کے لیے سیاسی اور سماجی خلا ختم نہیں کرتے اور کھل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیاسی اور نظریاتی جنگ نہیں کرتے۔ مثال کے طورپر سوات جہاں پاک فوج اور عوام نے قربانیاں دے کر قیام امن کا خواب شرمندۂ تعبیر کیا ہے۔ اب ڈیفنس کمیٹیاں، پولیس کمیٹیاں اور خود ساختہ جرگے پائیدار قیام امن کے لیے کردار ادا کرنے کی بہ جائے حالات کو مزید گنجلک بنایا جا رہا ہے۔ اس لیے اپیکس کمیٹی کو سوات کے لیول پر دہشت گردی کے خاتمے اور ان کے نظریات کو شکست دینے کے لیے ان بلدیاتی انتخابات میں منتخب بلدیاتی امیدواروں کو محلہ؍ گاؤں، یونین کونسل، تحصیل اور ضلع کی سطح پر اہم کردار ادا کرنا چاہیے اور ان منتخب نمایندوں، پاک فوج اور سول انتظامیہ کا مشترکہ ورکنگ ریلیشن شپ قایم ہونا چاہیے۔ کیوں کہ کمیٹیوں سے عوام کے تحفظات ڈھکی چھپی بات نہیں لیکن عوام، محلہ، گاؤں، یونین کونسل، تحصیل کونسل اور ضلع کی سطح پر اپنے منتخب نمایندوں، پاک فوج اور سول انتظامیہ کی اچھی ورکنگ ریلیشن شپ کے ذریعے مستقل بنیادوں پر نہ صرف امن قایم کرسکتے ہیں بلکہ اپنے مستقبل کی نسلوں کو اس ناسور سے پاک کرسکتے ہیں۔
اب ضرورت بھی اس بات کی ہے کہ یہ منتخب نمایندے محلے، گاؤں، یونین کونسلوں،تحصیلوں اور ضلعوں کی سطح پرملک و قوم کو درپیش اندورنی خطرات کے خاتمے کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کریں۔ یہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط اور مستحکم بناسکتے ہیں۔ قیام امن کے ساتھ ساتھ یہ منتخب نمایندے جمہوریت کو مضبوط کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ اگر یہ منتخب نمایندے اپنی استعداد کے مطابق تہہ دل سے عوام کی خدمت کرنا شروع کر دیں، تو مستقبل میں یہ نمایندے صوبائی اور قومی سطح پر مزید کردار ادا کرسکتے ہیں۔ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ کور کمانڈر پشاور، وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا اور گورنر تینوں کم از کم سوات کی سطح پر ان منتخب نمایندوں کو کمیٹیوں اور جرگو ں کا کردار دے کر پاک فوج، سول انتظامیہ اور ان منتخب نمایندوں کا قیام امن اور ترقی کے لیے ورکنگ گروپ اور ایک ریلیشن تشکیل دیں اور سوات میں ایک ماڈل ضلع کی حیثیت سے نتایج دیکھیں، تو اس سے ایک طرف خود ساختہ جرگوں اور کمیٹیوں کا خاتمہ ہوجایے گا، تو دوسری طرف یہ منتخب نمایندے قیام امن کے لیے دہشت گردی کے خلاف گاؤں، محلوں، تحصیل اور ضلع کی سطح پر امن کے سفیر اور ترقی کے پیامبر بن کر کردار ادا کریں گے اور دہشت گردوں کے لیے سیاسی اور نظریاتی خلاختم کریں گے۔
ہمیں امید ہے کہ عوامی امنگوں کے مطابق ترقیاتی کاموں کی شفاف اور بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے گی جس سے غیر ریاستی عناصر کے لیے عوام کے ذہنوں میں کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی اور عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان مظبوط رشتہ قایم ہوجائے گا، جس کی وجہ سے ادارے مضبوط ہو جائیں گے اور قانون و آئین کے ریلیشن شپ نے حوصلہ افزا نتائج دئیے، تو پھر پورے صوبے تک اس پھیلایا جائے۔
امید ہے کہ کور کمانڈر، وزیر اعلیٰ اور گورنر اس مخلصانہ اور عوام دوست ترقی اور قیام امن کے لیے مخلصانہ تجویز پر غور ضرور کریں گے، تا کہ بلدیاتی انتخابات حقیقی معنوں میں عوامی مفاد کے نتایج ثابت ہوسکیں اور نہ صرف قیام امن اور ترقی کے لیے کردار ادا کرسکیں بلکہ مستقبل کے لیے نڈر، بے باک او ر مخلص قیادت بھی سامنے آسکے۔
647 total views, no views today


