تحریر ماسٹر عمر واحد
تا حدِ نظر شاداب قطعات اراضی، باغات اور درخت تھے۔ صبح کے وقت سبز پتوں اور پھولوں کی رنگین پنکھڑیوں پر شبنم کے قطرے موتیوں کی طرح چمکتے نظر آتے۔ درختوں پر طیور خوش الحان نغمے گاتے۔ فضا نہایت صاف خاموش اور سہانی ہوتی۔ صاف و شفاف پانی کے نہروں، ندیوں اور میٹھے ٹھنڈے پانی کے چشموں کی فراوانی تھی۔ پینے کا پانی یقیناًآبِ مقطر تھا۔ خوراک سادہ تھی۔ پیٹ جلد اور سانس وغیرہ کی بیماریاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ اس زمانے میں صحت مند اور مطمئن تھے۔ یہ آج سے تقریباً پون صدی پہلے کی بات ہے۔ جب آبادی تیزی کے ساتھ بڑھنے لگی، تو فطرت کی یہ مہربانیاں بہ تدریج گھٹنے لگیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں قابل کاشت قطعات اراضی تیزی کے ساتھ تعمیرات میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ آبادی اور تعمیرات بڑھنے کے ساتھ ساتھ جہاں دوسری اقسام کی آلودگیاں پیدا ہوئیں، وہاں ان میں فضائی آلودگی سر فہرست ہے۔ ایک عالمی رپورٹ کے مطابق بھارت کے شہر ممبئی میں فضائی آلودگی اتنی بڑھ گئی ہے کہ سانس لینے سے ایک دن میں کوئی شخص اتنی آلودگی اپنے اندر لے جاتا ہے جو ایک پیکٹ سیگرٹ پینے سے اپنے اندر لے جاسکتا ہے۔ ہنگری میں فضائی آلودگی اس پیمانے پر ہے کہ ہر مرنے والا ساتواں فرد اور معذور ہونے والا چوبیسواں فرد اس کی وجہ سے متاثر ہوتا ہے۔ امریکہ میں گرد و غبار کی مقدار سترہ سے تیس ٹن فی مربع کلو میٹر فی مہینہ کے حساب سے گزرتا ہے جب کہ پاکستان میں گرد و غبار کی مقدار اس سے کہیں زیادہ ہے۔ لاہور میں ماہِ جون میں ایک سو ساٹھ ٹن گردو غبار گرتا ہے اور کراچی میں یہ مقدار تگنا ہے (یہ پیمایش آج سے اٹھارہ سال پہلے کی گئی ہے)۔
کرۂ ہوائی چار حصوں (اجزاء) پر مشتمل ہے۔ ان میں گیس، آبی بخارات وغیرہ مختلف تناسب سے موجود ہیں۔ فضا یعنی کرۂ ہوائی میں نایٹرو جن، آکسیجن، کابن ڈائی آکسائیڈ دیگر گیس اور ذرات موجود ہیں۔ گیسوں کا یہ تناسب اگر پگڑ جائے، تو فضائی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ فضائی آلودگی، تاب کاری، فاضل کیمیائی مادوں، کارخانوں وموٹر گاڑیوں کے دھوئیں سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ گرد و غبار، تمباکونوشی، کان کنی اور کیڑے مار زرعی ادویہ کے مسلسل اور بے تحاشا استعمال سے بھی فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے موسموں پر برے اثرات پڑ رہے ہیں ’’اوزون‘‘ کی تہہ متاثر ہو رہی ہے جس کی وجہ آنکھوں اور جلد کی بیماریاں پیدا ہورہی ہیں۔ فضائی آلودگی کو ختم کرنے یا کم از کم کنٹرول کرنے کے لیے مضر صحت گیسوں کا سدباب ضروری ہے۔ فلٹر کا استعمال بھی مفید ہے۔ گاڑیوں میں تیل کی بہ جائے گیس، جوہری توانائی اور شمس توانائی کا استعمال بڑھائی جائے۔ پیٹرول کو ڈیزل پر ترجیح دی جائے۔ کیوں کہ اس کے خرچ سے آلودگی کم پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جنگلات کا تحفظ، مسلسل شجر کاری اور آبادی پر کنٹرول سے بھی فضائی آلودگی کم یا کنٹرول کی جاسکتی ہے۔
720 total views, no views today


