کام سے تھک ہار کر جیسے ہی میں گھر پہنچا، تو سیدھا چارپائی پر دراز ہوگیا۔ نماز عصر کا وقت تھا لیکن تھکاوٹ اتنی زیادہ تھی کہ فوراً میٹھی نیند کے جھونکے آنے لگے۔ اس سے پہلے کہ میں نیند کی حسین وادیوں میں جاکر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوجاتا، دل میں خیال آیا کہ اگر اس وقت سو گیا، تو نماز قضا ہوگی۔ یوں رات کو بھی نیند میں خلل پڑ سکتی ہے۔ لہٰذا یہ بات ذہن میں آتے ہی چارپائی سے اٹھ گیا۔ نماز پڑھنے کے بعد ویسے ہی بے مقصد بازار کی طرف جا نکلا، تو دیکھا بازار میں جشن کا سماں ہے۔ ہر طرف رنگا رنگ جھنڈیاں لگائی گئی ہیں۔ رنگا رنگ پوسٹرز پھریروں کی شکل میں آویزاں تھے جو ہوا کے ہلکوں جھونکوں سے آہستہ آہستہ ہل رہے تھے۔ پورے بازار کو ان رنگا رنگ پوسٹروں سے سجایا گیا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے جشن آزادی کا موقعہ ہو اور لوگ آزادی کا جشن منا رہے ہوں۔ برقی قمقموں سے سجائے گئے انتخابی نشانات بازار کے حسن کو چار چاند لگا رہے تھے۔ ہر طرف گہما گہمی نظر آرہی تھی۔ بازار کے رونق کے ساتھ ساتھ لوگوں کے چہرے بھی روشن تھے اور ہر کوئی خندا پیشانی کے ساتھ پیش آ رہا تھا، دور دور سے سلام دعا کا سلسلہ جاری دکھائی دے رہا تھا۔ قریب ہوتے وقت ہر کوئی دونوں ہاتھوں سے ملنے والوں کا ہاتھ تھام لیتا اور ایسا کرتے وقت تھوڑا سا جھک بھی جاتا، یہ سب دیکھ کر مجھے خوشی کا احساس ہورہاتھا۔
کبھی کبھی ہمارے دل میں ایسے خیالات آتے ہیں جو بالکل ریت کے محل تعمیر کرنے کے مترادف ہوتے ہیں اور آج ایسا ہی ایک خیال ہمارے ذہن میں نشو و نما پارہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ کاش، ہر دوسرے یا تیسرے مہینے بعد الیکشن ہوتا، تو ہمارے لیے بہت ہی اچھا ہوتا۔ غریب لوگوں کی کتنی عزت ہوتی، ہر کوئی ہمارا خیال رکھتا۔ امیدوار اور ان کے رشتہ دار ہم سے بھی عزت کے ساتھ ملتے۔ وہ ہم سے وعدے کرتے۔ وعدے جھوٹے ہی سہی لیکن پھر بھی ہمارے دل کو اطمینان ملتا کہ ہماری کتنی عزت افزائی ہورہی ہے۔ یوں اسی طرح نماز جنازہ اور فاتحہ خوانی میں رش ہوتا، بیماروں کا حال پوچھا جاتا، معمولی سی تکلیف پر بہت سے لوگ جمع ہوجاتے اور اپنی اپنی خدمات پیش کرتے۔ ان ہی خیالوں میں مگن میں بازار میں گھوم رہا تھا کہ بے ساختہ میری نظر موبایل کی تاریخ والی جگہ پر پڑ گئی۔ اٹھائیس مئی یعنی آج سے دو دن بعد الیکشن اور پھر سب کچھ ختم ہوجائے گا۔ یہ بازار جسے بہت ہی خوب صورتی سے سجایا گیا ہے، پھر سے ویران ہوجائے گا۔ یہ پوسٹر اور جھنڈے ہٹادیئے جائیں گے۔ غریب کا پھر وہی حال ہوگا۔ کوئی بھی اسے عزت کی نگاہ سے دیکھنا گوارا نہیں کرے گا۔ خصوصاً وہ لوگ جو ناکامی کا شکار ہوئے ہیں، خوں خوار نظروں سے استقبال کریں گے۔ یہ جو دور دور سے سلام کرنے کا رواج رایج ہوگیا ہے، پھر کوئی قریب سے بھی سلام کرنا گوارا نہیں کرے گا بلکہ ہم سے منھ موڑے گا، ہمارے دل میں دکھ کی ایک ٹیس سی اٹھ گئی۔ ان ہی خیالات نے ہمیں واپس پلٹنے پر مجبور کردیا۔
سوچا ایسے ہی ادھورے خیالات آنے سے بہتر تھا، میں ادھر ہی تھکاؤٹ سے چور سوجاتا۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوکر اپنے اس ادھورے خیال کو سمیٹتے ہوئے میں نے واپس گھر کی راہ لی۔
*۔۔۔*۔۔۔*
740 total views, no views today


