ذہنی اور جسمانی توازن کا نام صحت ہے۔ کبھی کبھار انسان بیماری کا بھی شکار ہوتا رہتا ہے۔ اس کے لیے پھر وہ یا تو خود ڈسپنسر سے ادویہ لیتا ہے اور اپنے جسم کو تجربات کی لیبارٹری بنالیتا ہے۔ اور یا کسی کتاب یا دوسروں کے بتائے ہوئے نسخوں سے کام لیتا ہے یا پھر ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے۔ ڈاکٹر جو نسخہ لکھتا ہے۔ اُسے استعمال کرتا ہے۔
مگر ہر دوائی کے کچھ مضر اثرات یا Side Effectsبھی ہوتے ہیں۔ کچھ تو بہت عجیب سے بھی ہوتے ہیں مثلاً ’’فلائی جیل‘‘ ہی کو لیجیے۔ آپ اُسے پیٹ کی خرابی کے لیے لے رہے ہیں، تو سائیڈ ایفکٹ کی لسٹ میں لکھا ہوگا: ’’قے، متلی اور پیٹ میں گیس اور درد ہوسکتا ہے۔‘‘ بلکہ Septran سیرپ جو کہ جراثیم کش دوائی ہے کہ سائیڈ ایفکٹ میں Aidsدیکھ کر انسان سوچنے لگتا ہے۔ ’’یار، میں تو اسے گلے کے ٹانسلز کے لیے Useکررہا ہوں۔ کہیں Aidsکو نہ گلے لگا بیٹھوں۔‘‘ سائیڈ ایفکٹس یا ضمنی اثرات کا اطلاق زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی ہوسکتا ہے بلکہ ہوتا ہے۔
مثلاً بچوں کے سائیڈ ایفکٹس ملاحظہ فرمائیں۔ آدھی رات کا وقت ہے۔ آپ میٹھی نیند کی وادی میں کھوئے ہوتے ہیں۔ اچانک آپ کا سب سے چھوٹا فرزند ارجمند راشن کی کمی کی شکایت کے لیے ایک پھانک اور سمع خراش چیخ برآمد کرتا ہے۔ آپ مع بیگم صاحبہ کے ہڑ بڑا کر اُٹھتے ہیں کہ یہ مارٹر کاگولہ کہاں سے وارد ہوا ہے۔ ماں بے چاری جلدی سے پہلو بدلتے ہوئے اپنے قدرتی چشمے سے راشن کی دھاریں موصوف کے چھوٹے سے دہانے میں اتارنے لگتی ہیں اور آپ خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے دوبارہ بھاگی ہوئی نیند کی پری کو منانے کی اپنی سی سعی میں مصروف ہوجاتے ہیں اور مشکل سے نیند کی وادی میں اُترے ہی ہوتے ہیں کہ موصوف پھر اچانک چیخ اُٹھتے ہیں۔ آپ پھر جھنجلا کر لاشعور کی وادیوں سے شعور کی تلخ گھاٹی میں آگرتے ہیں۔ پتا چلتا ہے کہ جناب نے مچھر صاحب کی بدتمیزی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔
حال ہی میں جو بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں، اُس کے ضمنی اثرات بھی ملاحظہ فرمائیں۔ دیواروں کے ساتھ ساتھ ہارنے والے امیدواروں کے دل بھی میلے اور مکدر ہیں۔ ہارنے سے پہلے ان کی ہر ممکن کوشش ہوا کرتی تھی کہ دیوار کا کوئی بھی حصہ پوسٹر سے خالی نظر نہ آئے مگر اب جب کہ شکست اُن کے گلے کا ہار بن چکی ہے، تو یہی پوسٹر اب اُن کے لیے دل کے زخموں کو تازہ کرنے کا وسیلہ بنے ہوئے ہیں اور اُن کا منھ چڑا رہے ہیں۔ جن میں کہیں وہ فخر سے ہاتھ اُٹھائے مسکرا رہے ہیں، کہیں پر ’’وی‘‘ کی شکل میں دو اُنگلیاں اور سر فخر سے بلند ہے۔ ساتھ میں پر جوش الفاظ کا تڑکا بھی لگا ہوا ہے۔ ان امیدواروں کی یہ آرزو ہوگی کہ خدا کرے کہ ایسی زبردست بارش ہوکہ ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے والے ان ’’موذی‘‘ پوسٹروں اور بینروں کو بہا کر دریا برد کردے۔ ان انتخابات کے دیگر سایڈ ایفکٹس میں آپس میں گلے شکوؤں کا طومار بھی شامل ہے۔ ویسے میری ذاتی رائے یا اندازہ ہے کہ اس بلدیاتی الیکشن میں جتنا جھوٹ بولا گیا ہے، کم از کم اس صوبے کی تاریخ میں کسی بھی انتخابات میں نہیں بولا گیا ہوگا۔ روزانہ ہر گھر کی یاترا کے لیے چار پانچ امیدوار حاضر ہوتے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں اور مختلف کیٹیگری میں بڑی تعداد میں اُمیدواروں کے درمیان آنکھ مچولی ہوئی۔
میری خود الیکشن میں ڈیوٹی تھی۔ ہمیں سر کھجانے کی مہلت تک نہیں ملتی تھی۔ پانچ رنگوں کے بیلٹ پیپرز کی خانہ پری اور ہر امیدوار کی ہر پرچی پر انگوٹھا ثبت کرتے کرتے ہمارے ہاتھ شل ہوگئے تھے۔
بہت بڑی مقدار میں انتخابی اتحاد ہوئے۔ کل کے دشمن ایک دوسرے کے گلے میں ہار ڈالتے نظر آئے، مگر الیکشن کے نتایج سے ظاہر ہوا کہ اکثر لوگوں نے غداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتحاد کی لاج نہ رکھتے ہوئے ووٹ اپنے اتحادی کی بہ جائے دوسروں کو دیا اور اپنے امیدوار کو کامیاب کر وایا۔ پاکستانی انتخابات کے دہی بلونے کے بعد آزاد امیدواروں کا جو مکھن تیار ہوتا ہے، بہت قیمتی ہوتا ہے۔ سوات کے انتخابی مٹکے سے بھی کافی تعداد میں جو مکھن کے پیڑے نکلے ہیں، سنا ہے کہ وہ بھی اب اپنے آپ میں نہیں رہے۔ اُن کے مزاج ساتویں آسمان کو چھو رہے ہیں۔ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن والے ان آزاد پیڑوں کو اُچکنے کی کوشش کررہے ہیں مگر تا حال وہ چکنے پیڑے اُن کے ہاتھوں سے پھسلتے جا رہے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ فصلی بٹیرے کس کے گھونسلے میں براجمان ہوتے ہیں۔ تاہم کچھ دوستوں نے ایک اور سایڈ ایفکٹس آف ناظمین و نایب ناظمین و کونسلران کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ وہ ہے اپنی ذمہ داریوں کو چھوڑ کر سرکاری ملازمین بے چاروں کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ پھینکنا۔ غیر ضروری چھاپے، زنانہ اسکولوں میں تانک جھانک، اپنوں کو نوازنا اور سیاسی مداخلت کا بازار گرم کرنا۔
1,130 total views, no views today


