سوات کوہستان کا علاقہ مدین سے بحرین جاتے ہوئے ساتال سے شروع ہوکر کالام، اوشو، مٹلتان، اتروڑ اور گھبرال کے بلند و بالا پہاڑوں تک پھیلا ہوا ہے۔ ساتال، مینگورہ سے جی ٹی روڑ پر ساٹھ کلومیٹر ہے۔
سوات کوہستان کی سرزمین خواب و خیال اور طلسمات کی دنیا محسوس ہوتی ہے۔ یہ حسن و جمال کی شاہ کار ہے۔ اس میں داخل ہوتے ہی بھینی بھینی خوش بو میں رچی بسی ہوائیں آپ کا استقبال کرتی ہیں۔ ناگن کی طرح بل کھاتی سڑکیں، بپھرے اور موجیں مارتے ہوئے دریاؤں کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ دریائے سوات کا پانی نہ صرف شفاف ہے بلکہ میٹھا اور یخ بھی ہے۔ صحت بخش اور شفا یاب ہے۔ اس کے پینے سے کئی بیماریوں سے نجات ملتی ہے۔ یہ علاقہ بہت سی سرسبز و شاداب وادیوں پر مشتمل ہے جس کے چاروں اطراف اونچے اونچے پہاڑوں کے سلسلے ہیں جو ہر موسم میں برف سے ڈھکے رہتے ہیں۔
مختلف وادیوں میں مختلف علاقائی بولیاں بولی جاتی ہیں۔ وادئ بحرین میں جو کوہستانی زبان بولی جاتی ہے، اسے ’’توروالی‘‘ کہتے ہیں۔ کالام اور اس سے آگے کے علاقوں میں جو کوہستانی زبان بولی جاتی ہے، اسے ’’گاؤری‘‘ کہتے ہیں۔ ویسے اب اردو زبان ہر جگہ بولی اور سمجھی جاتی ہے۔
علاقہ کوہستان میں پانی کے ایسے چشمے بھی ہیں جو جڑی بوٹیوں سے کشید ہو کر آتے ہیں،ان کا پانی مختلف بیماریوں کی قدرتی دوا بن گیا ہے۔ یہ چشمے سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں قدرتی طور پر ٹھنڈا پانی مہیا کرتے ہیں اور یہ قدرت کا ایک طرح سے اَن مول تحفہ ہیں۔ ابھی تک اس شفا یاب پانی کا پیک کرنے کا کوئی خاطر خوہ انتظام نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کسی بڑے پیمانے پر اس سے فایدہ اٹھایا جا رہا ہے۔
اس علاقے میں عجیب و غریب قسم کے دو بھاری پتھر بھی پائے جاتے ہیں جو ریت کے ستونوں پر ایسے پڑے محسوس ہوتے ہیں جیسے ابھی گر جائیں گے۔ یہ پتھر بحرین سے تقریباً بیس کلومیٹر کے فاصلے پر ’’لائیکوٹ‘‘ نامی گاؤں کے سامنے والی پہاڑی پر موجود ہیں، جنھیں مقامی زبان میں ’’ژوگور سی چال‘‘ کہتے ہیں۔ بحرین، کالام اور اُتروڑ کے درمیان پہاڑوں کا ایک ایسا سلسلہ ہے جس سے تین درے نکلتے ہیں۔ یہاں سے ایک درہ بحرین کی جانب آتا ہے۔ دوسرا کالام اور اُتروڑ کی جانب جب کہ تیسرا درہ وادئ دیر کی جانب نکلتا ہے۔ ان دروں سے دریا بھی نکلتے ہیں۔ اُتروڑ سے جو دریا نکلتا ہے، دریائے اُتروڑ کہلاتا ہے۔ جو کالام کے مقام پر آکر دریائے سوات میں شامل ہوجاتا ہے۔ مہو ڈنڈ سے نکلتا ہوا دریا ’’اوشو‘‘ سے ہوکر آتا ہے اور دریائے اوشو کہلاتا ہے۔ یہ دریا بھی کالام کے نزدیک دریائے سوات میں شامل ہوجاتا ہے۔
مٹلتان سے ذرا آگے مہوڈنڈ کے راستے میں ایک بہت بڑا گلیشئر ہے جو قدرتی طور پر مٹلتان اور مہو ڈنڈ کے درمیان پل کا کام دیتا ہے۔ گلیشئر پار کرتے ہی ایک نہایت خوب صورت آبشار دودھ کی مانند بہتا ہوا محسوس ہوتا ہے جو آسمان سے زمین کی جانب بہتا ہوا نظر آتا ہے۔ گلیشئر سے آگے مہو ڈنڈ کے علاوہ کنڈول جھیل اور درال جھیل بھی ہیں۔ یہ جھیلیں نہایت ہی دل کش اور دل نشین ہیں۔ جھیلوں کے صاف و شفاف پانی میں یہاں کی مشہور ٹراؤٹ مچھلی بہ کثرت پائی جاتی ہے جسے شکار کر کے کھایا جاسکتا ہے۔یہاں کی مقامی مچھلی ذایقہ اور لذت میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے جو انسان کی کھوئی ہوئی قوت کو نہ صرف بہ حال کرتی ہے بلکہ کئی بیماروں کا نایاب علاج بھی ہے۔کوہستان کے پہاڑوں پر چکور کے علاوہ ایک ایسا پرندہ بھی پایا جاتا ہے جو بہت رنگین اور کافی وزنی ہوتا ہے۔ یہ پرندہ ’’مرغ زرین‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے پر بہت خوب صورت اور قیمتی ہوتے ہیں۔ ’’مرغ زرین‘‘ نہ صرف ڈیکوریشن کے کام آتا ہے بلکہ اس کے پر بچوں کی ٹوپیوں پر بھی سجائے جاتے ہیں جس سے ٹوپیاں بہت خوب صورت اور دل کش نظر آتی ہیں۔
یہاں کے جنگلات نے سوات کے حسن کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ جنگلات ایک طرف سوات کوہستان کا حسن ہیں، تو دوسری طرف ایک بہت بڑا قومی سرمایہ بھی۔جنگلات کی لکڑی سے قیمتی اور نایاب فرنیچر بنتا ہے اور باہر کی دنیا کو ایکسپورٹ کیا جاتا ہے، جس سے بھاری مقدار میں زر مبادلہ کمایا جاتا ہے، لیکن دولت کی لالچ میں انھیں بے دردی سے کاٹا جاتا ہے جو کسی صورت ملکی مفاد میں نہیں۔ جنگلات سے لکڑی کی ضرورت پوری کرنی چاہیے لیکن صرف پرانے اور مکمل درختوں کو کاٹنا چاہیے۔ نئے اور نوزائیدہ کم عمر درختوں اور ان کی شاخوں کو نہیں کاٹنا چاہیے۔ کیوں کہ جنگلات ہی آلودگی سے تحفظ دلاتے ہیں۔ جنگلات ہی قومی سرمایہ ہیں اس لیے ان کا تحفظ قومی فریضہ ہے۔
سوات کوہستان کے علاقے میں پہاڑی شہد بہ کثرت پایا جاتا ہے جو اپنے قدرتی ذایقے اور مٹھاس کی بہ دولت لاجواب ہے اور دنیا بھر میں مشہور ہے۔
سوات کوہستان کے پہاڑوں میں نایاب قسم کا سلاجیت بھی پایا جاتا ہے جو موسم سرما میں شدید سردی سے بچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ویسے بھی سلاجیت جسمانی قوت کو بہ حال کرتا ہے۔ مختلف یونانی ادویہ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
مختصر یہ کہ سوات کوہستان کا علاقہ بہت سی خوبیوں کی وجہ سے غیر معمولی شہرت رکھتا ہے۔ یہاں کا ملکوتی حسن، گنگناتے چشمے، موج زن دریا، معطر اور خوش بودار ہوائیں اور خوب صورت مناظر سیاحوں کو بار بار یہاں آنے پر مجبور کرتے ہیں۔ گو ابھی ان مقامات پر سیاحتی سہولتوں کا فقدان ہے اور دنیا میں ان علاقوں کو پوری طرح متعارف بھی نہیں کرایا گیا ہے لیکن اس کے باوجود جو کوہ پیما یا سیاح ایک بار آجاتا ہے، وہ دنیا میں اس علاقے کی نسبت جاکر بتاتا ہے بلکہ جب وہ دوبارہ سیاحت کے لیے نکلتا ہے، وہ سوات کوہستان کا رخ کرتا ہے۔فطری حسن و خوب صورتی، دل کشی، دل فریب رعنائیوں کے ساتھ اور معتدل آب و ہوا کی بنا پر سوات کوہستان کو مشرق کا سویٹزرلینڈ اور کوہستان کو سوات کا جھومر کہا جاتا ہے۔
1,381 total views, no views today


