دیر لویر میں خوا تین کے ووٹ اور حقوق کے نام پر شور مچا نے والے در جنوں این جی اوز جنھوں نے کروڑوں رو پے خر چ کر کے بلد یا تی انتخابات پر پہلے سے کا م کیا لیکن انتخا با ت کے لیے نا م زدگیو ں کے وقت انھی لو گوں نے اپنے گھروں اور خا ندانوں سے کو ئی بھی خا تون امیدوار کو کھڑا نہیں کیا۔ خواتین کے نام پر شور مچا نے اور ان کے حقوق کے نام پر بڑے بڑے سمینا رز منعقد کر وانے والے ضلع دیر لویر کے در جنوں این جی اوز ایسے ہیں جنھوں نے خواتین کے حقوق کے نام پر بیرونی دنیا سے کروڑوں روپے کے گرانٹس اور پرا جیکٹس وصول کیے ہیں اور تاحال وصول کر رہے ہیں۔ ساتھ خواتین کے حقوق کے نام پر دیر پا ئین سے باہر اسلام آباد اور پشاور میں بڑے شاہا نہ دفا تر بھی بنائے ہیں جن میں اپنے لیے بڑے عہد ے بھی رکھے ہیں، وہ اب تک اپنے ہی گھر اور خا ندان کے افراد کو الیکشن میں کھڑا نہیں کرسکے۔ البتہ بغیر ووٹ ڈالے خواتین کی مخصوص نشستوں پر سیا سی پا ر ٹیو ں کے سر برا ہوں نے اپنے ہی خا ندان کی خواتین کو ٹکٹ دے کر ان کو آسا نی سے ضلع کونسل اور تحصیل کونسل میں لا نے کا پروگرام بنا یا ہے۔ جو خواتین موجودہ بلد یا تی الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں، وہ انتہا ئی غر یب گھرا نوں سے تعلق رکھتی ہیں یا کسی سیاسی پارٹی کے لیڈر کے مکان میں رہایش پذیر ہیں۔ اس سلسلے میں گزشتہ الیکشن میں حصہ لینے والی خواتین شازیہ بی بی، پروین بی بی اور دیگر نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم نے گزشتہ الیکشن (2005ء) میں حصہ لیا، ہمیں مردوں کے مقا بلے میں کوئی عزت نہیں دی گئی اور الٹا ہمارا مذاق اڑایا گیا۔ انتخا بی منصو بہ بند ی کے تحت خو اتین کے لیے نہ تو کوئی خا ص فنڈ رکھا گیا تھا اور نہ کو ئی اعزازیہ۔ انھوں نے کہا کہ بیرونی دیناکو بھی خواتین کے نام پر اندھیر ے میں رکھا گیا۔
لویر دیر ہی کی خاتون شاد بیگم نے اپنے بنا ئے گئے ادارے اے بی کے ٹی جس کی وہ خود سر براہ ہیں اور شوہر اور بھا ئی کے ساتھ مل کر لویر دیر اور ملا کنڈ ڈویژن میں اربوں روپے کے بڑے پرا جیکٹ حاصل کیے ہیں، لیکن عملی میدان میں کچھ کرنے میں تاحال ناکام ہیں۔ فایلوں کی حد تک ان کا کام مہا کاج ہے، نہ تو ان کے پرا جیکٹوں سے خواتین کو کچھ فایدہ ہوا ہے اور نہ زمین پر اس کے کچھ آثا ر نظر آتے ہیں۔
اس ضمن میں علا قے کی سیا سی اور تعلیم یا فتہ خواتین سے رابطہ کر نے پر جواب ملا کہ این جی اوز اور دیگر ادارے محض اس بنا پر بھی خواتین کے مسا یل کو حل اور ختم نہیں کر تے کہ کل ان کی دوکان داری کا خاتمہ ہو جائے گا۔ باشعور خواتین نے اپنی رائے کا اظہار کچھ ان الفاظ میں کیا کہ لویر دیر میں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر کو ئی پا بندی نہیں ہے۔ لویر دیر کے حلقہ پی کے پچا نو ے میں امیر جما عت اسلامی سرا ج الحق کے استعفا سے خا لی ہو نے والی نشست پی کے پچانوے میں ہونے والے ضمنی انتخا با ت کے موقعہ پر میڈیا کے اراکین اور دیگر سرکاری ادارے مو جو د تھے لیکن کسی بھی جگہ پر خواتین کو ووٹ ڈالنے سے رو کا گیا تھا اور نہ ہی کسی کو زبر دستی گھروں سے با ہر ووٹ ڈالنے کے لیے لا یا گیا تھا۔ کیوں کہ یہ سب جر م کے زمرے میں آتا ہے۔ ضلع لویر دیر کے سیا سی و سما جی اور مذہبی حلقوں نے حکومتی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کے علا وہ ایف آئی اے اور نیب سے اپیل کی ہے کہ ضلع دیر لویر میں خواتین کے نام پر کام کر نے والی این جی اوز کا ڈیٹا اکھٹا کر کے حقایق تک پہنچا جائے اور ان کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے اور ان کی مشکوک سرگرمیوں کا نوٹس لیا جائے۔ کیوں کہ ملک اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے عناصر کو اپنے انجا م تک پہنچایا جائے۔ ضلع دیر لویر کے این جی اوز نے اب بلدیاتی الیکشن کے بعد یہ واویلا شروع کردیا ہے کہ خواتین کو ووٹ سے روکا گیا ہے۔ اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں۔ کیوں کہ تالاش سے تعلق رکھنے والی اے بی کے ٹی کی سربراہ شادبیگم الیکشن کے دوران میں موجود تھیں۔ ہماری معلومات کے مطابق تو انھوں نے اور ان کی ٹیم نے بھی ووٹ پول نہیں کیا۔ زبردستی ووٹ استعمال کرنا یا زبردستی منع کرنا دونوں جرم کے زمرے میں آتے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ڈالرز کمانے کے لیے اپنے ملک اور اپنے علاقے کی بدنامی سے بچنے کے لیے ایسی خواتین کو نکالنا جن کا دیر لویر کے کسی علاقے سے تعلق نہیں، کیوں کہ گذشتہ روز پریس کانفرس میں ایک خاتون سے پوچھا گیا کہ آپ کا تعلق کس علاقے سے ہے، تو انھوں تیمرگرہ کا علاقہ خونگی بتایا تھا۔ سوئے اتفاق کہ وہاں پر صحافی کا تعلق بھی اس علاقے سے تھا۔ صحافی نے خاتون سے رشتہ داروں کے نام پوچھے جس کی وجہ سے خاتون لاجواب ہوگئیں۔ اس تمام تر صورت حال سے معلوم ہوا کہ این جی اوز والوں نے بلدیاتی الیکشن میں خواتین کے ووٹ کو ایک ایشو بناکر کرائے پر لی گئیں خواتین کو برقعہ اوڑھا کر پریس کانفرس کرنے کے لیے مصروف کیا ہوا ہے، لیکن اب عوام باخبر ہیں۔ اب ان کی تفصیلات اکھٹا کی جا رہی ہیں، تو اس وجہ سے این جی اوز کے اہل کاروں نے دیگر اضلاع کے علاوہ پشاور اور اسلام آباد کا رخ کرلیا ہے۔ یہ ان لوگوں کی دونمبریا ں ہیں لیکن ایسے میں ہمارے ملک کی ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں کہ ان لوگوں کو فری ہینڈ مل گیا ہے؟
974 total views, no views today


