مینگورہ ، یونیورسٹی آف سوات شعبہ امتحانات کا کارنامہ‘ ناکام ترین کنٹرولر کی نا اہلی کی وجہ سے یونیورسٹی ختم۔ طلباء کا مستقبل تاریک۔ احتجاجی مظاہرہ۔ طلباء اور والدین میں بے چینی۔ یونیورسٹی آف سوات شعبہ ۵امتحانات کے کنٹرولر کی نا اہلی کا اندازہ اس سے لگائی جائے کہ گزشتہ روز فورتھ اےئر کا پرچہ اسلامیات کیلئے طلباء وطالبات ہال میں داخل ہوگئے۔ جب ہالوں میں پرچہ تقسیم کیا گیا تو پرچہ گزشتہ سال کلاس تھرڈ اےئر کا تھا ۔ جبکہ اوپر صرف سیشن تبدیل ہوا تھا۔ جس پر تمام ہالوں میں طلباء وطالبات نے احتجاج کیا۔ مظاہرے کئے۔ کنٹرولر آف امتحانات کے خلاف نعرے لگائے۔ جب طلباء کی بے چینی بڑھ گئی تو یونیورسٹی کی طرف سے ایک شاہی فرمان کے ذریعے یہ پرچہ 26جون کو دوبارہ منعقد کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ اس موقع پر مشتعل طلباء نے کنٹرولر آف امتحانات کیلئے 21توپوں کی سلامی کا مطالبہ کیا۔ جب سے سوات یونیورسٹی عمل میں لائی گئی ہے۔ تو اس یونیورسٹی پر موجودہ کنٹرولر کو تعینات کر دیا ہے۔ جس کو پہلے بہت سے بیوروکریٹ کی اشیر باد حاصل تھی۔ انہوں نے شعبہ امتحانات کا کباڑہ کر دیا ہے۔ اور اس پر مختلف اہم انکوائریاں بھی چل رہی ہیں۔ جبکہ انہوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ اس پوسٹ پر میں چھپکا رہونگا اور یونیورسٹی کو تباہ کر ؤنگا۔ اس کے اس پرچہ سے کارکردگی کا اندازہ لگائیں۔ کہ فورتھ اےئر کے پرچہ کی تقسیم کرنے کی بجائے ایک سال پرانہ پرچہ تقسیم کر دیا ہے۔ اور جس پر صرف سیشن تبدیل ہوا ہے۔ جبکہ اس کے اندر سیکریسی میں کیا ہوگا۔ لہٰذا بہتر ی اسی میں ہے کہ فوری سیکریسی کو سیل کرکے از سر نو تحقیقات کی جائے۔ ورنہ سوات یونیورسٹی کے ڈگری کو کوئی قبول نہیں کریگا۔ ڈگری کا لاج رکھتے ہوئے کنٹرولر کو برطرف اور اعلیٰ سطح کی انکوائری کی جائے۔
616 total views, no views today


