بلدیاتی انتخابات کے بعد تخت سوات کے حصول کے لیے سیاسی پنڈتوں نے اپنے جلوے دکھانا شروع کر دیے ہیں۔ سوات میں پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان تحریک انصاف نے بائیس بائیس نشستوں کے ساتھ دوڑ دھوپ شرع کی ہے لیکن فیصلہ کن کردار عوامی نیشنل پارٹی اور آ زاد امیدوار ادا کریں گے جب کہ پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی بھی ایک ایک سیٹ کے ساتھ حالات کا باریک بینی سے جایزہ لے رہی ہیں۔ تخت سوات کے ساتھ ساتھ سات تحصیلوں کی چیئرمین شپ کا حصول بھی ڈرامائی تبدیلیوں کا متقاضی ہے۔ دوسری طرف سیاست کے شہ سوار اور سوات کے عوام کے ہر دل عزیز عوامی لیڈر انجینئرامیر مقام انتہائی سیاسی پختگی کے ذریعے اپنے سیاسی پتے کھیلتے ہیں۔ تخت سوات کے حصول کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، پاکستان پیپلز پارٹی سمیت جماعت اسلامی کو بھی سیاسی اتحاد کے بندھن میں باندھنے میں کامیاب ہوئے ہیں جب کہ باخبر ذرایع کے مطابق آزاد امیدواروں پر بھی انجینئر امیر مقام کا جادو کام کرچکا ہے جس سے پاکستان مسلم لیگ کے تخت سوات کا حصول تقریباًیقینی بن چکا ہے لیکن ادھر تحریک انصاف بھی حکومتی راز و نیاز کے ذریعے دن رات تخت سوات کے حصول کے لیے آزاد امیدواروں اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مصروف عمل ہے۔ کیوں کہ سوات سے تحریک انصا ف کے دو ایم این ایز اور پانچ ایم پی ایز کے ساتھ ساتھ خواتین نشست پر بھی ایک ایم این اے ہے، اگر ایک طرف نواز شریف کی نظر انجینئرامیر مقام پر لگی ہوئی ہے اورتوقع کی جارہی ہے کہ سوات کے تخت کے حصول میں انجینئر امیر مقام کامیاب ہو کر نوازشریف اور سوات کے عوام کی خدمت کا حق ادا کرے گا، تو دوسری طر ف تحریک انصاف کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو بھی عمران خان کو سرخرو کرانیکے لیے تخت سوات کے حصول کو یقینی بنانے کے سوا ان کے پاس دوسرا راستہ نہیں۔ تمام تجزیہ نگاروں اور مبصرین کی نظریں امیر مقام اور تحریک انصاف کی قیادت پر ہیں کہ وہ اپنے ووٹروں اور قیادت کی کس طرح لاج رکھیں گے۔ ذرایع دعویٰ کر رہے ہیں کہ انجینئر امیر مقام نے تخت سوات کے حصول کے لیے نہ صرف مطلوبہ اکثریت حاصل کرکے تحریک انصاف کو مشکل میں ڈالا ہے بلکہ انھوں نے سوات کے ساتھ ساتھ تخت شانگلہ پر اپنے بیٹے نیاز احمد کو بٹھانے کا ہدف بھی حاصل کرلیا ہے لیکن اب تخت سوات کے حصول کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ امیر مقام کو تخت سوات پر بیٹھنے کے لیے عوامی اور سیاسی کارکن کا چنناانتہائی مشکل ہوگا۔ کیوں کہ تخت سوات کے حصول کے بعد اس کو عوامی امنگوں کے مطابق چلانے کے لیے کسی خان یا خانزادہ سے زیادہ انتہائی تجربہ کار، عوام دوست شخص کا انتخاب وقت اور حالات کا تقاضا ہے۔ امیر مقام سے زیادہ کو ن جانتا ہوگا کہ سوات میں قیام امن کو مزید مضبوط اور ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے سوات کی ضلعی حکومت، صوبائی حکومت، مرکزی حکومت اور پاک فوج کا کتنا اعتماد اور ورکنگ ریلیشن شپ درکار ہے۔ انجینئر امیر مقام کو چاہیے کہ جس طرح اُنھوں نے ماضی میں بہ حیثیت ایم این اے اور سیاسی ورکر سوات کے عوام کے درد اور مشکلات میں بلاتفریق ان کی دن رات خدمت کی ہے، اب ان کو ایسی شخصیت کو ضلعی ناظم کے لیے نام زد کرنا چاہیے، جو سوات کے عوام کی مشکلات اور درد کی حقیقی معنوں میں ترجمانی کرے اور عوامی نمایندگی اور ترجمانی کے ساتھ ساتھ سوات کے عوام، سول انتظامیہ اور پاک فوج کے درمیان اعتماد اور ورکنگ ریلیشن شپ کو مزید مضبوط کرنے کا کردار ادا کرسکتا ہو۔ کیوں کہ سوات میں قیام امن کا خواب پاک فوج اور عوام نے شرمندۂ تعبیر کیا ہے جس پر پوری دنیا حیران ہے لیکن اب بھی مذہبی انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کو سیاسی اور نظریاتی شکست دینا خواہش نہیں ’’ضرورت‘‘ ہے۔ اس کے لیے محلے کی سطح پر کونسلر، گاؤں کی سطح پر چیئر مین، تحصیل کی سطح پر تحصیل کونسلر، ضلع کی سطح پر ضلع کونسلر، مزدور کسان کونسلر اور یوتھ کونسلر انتہائی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں لیکن اس کے لیے سوات کے ناظم کے لیے ایسے شخص کو آگے لانا چاہیے جس نے قیام امن کے لیے عملی کردار ادا کیا ہو اور ادا کرنے کی خواہش رکھنے کے ساتھ ساتھ تجربہ بھی رکھتا ہو۔
746 total views, no views today


